Month: December 2020
Taleemat e Ameer 40
** تعلیمات امیر (Taleemat e Ameer r.a)
** چالیسواں حصہ (part-40)
احمد بن حنبل: المسند، تحقيق الشيخ شعيب الأرنؤوط، الدارمي: المسند، تحقيق : حسين اسد،
أبي يعلى الموصلي: المسند، تحقيق : حسين أسد، ج۱۱ ص ۴۱۶ کے حوالہ سے یوں بیان ہوتا ہےکہ۔
منصور نے مسند خلافت پر فائز ہونے کے فوراً بعد حاکم مدینہ زیاد بن عبد اللہ کو تاکید کی کہ وہ نفس الزکیہ کی حرکات و سکنات کے بارے میں اسے باخبر رکھے۔ زیاد نے اسے یقین دہانی کرائی کہ وہ بہت جلد انہیں گرفتار کرکے مرکز خلافت روانہ کر دے گا لیکن وہ ایسا کرنے پر قادر نہ ہو سکا لہذا منصور نے اسے معزول کرکے قید میں ڈال دیا۔ نئے گورنر محمد بن خالد بھی انہیں قابو میں لانے میں ناکام رہا تو اس کی جگہ رباح بن منصور کو گورنر مدینہ مقرر کرکے اسے امام نفس الزکیہ کو گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ رباح نے نفس الزکیہ کے والد محترم اور ان کے تمام قریبی رشتہ داروں کو گرفتار کرکے بغداد روانہ کر دیا۔ لیکن اپنی تمام کوششوں کے باوجود جب بھی نفس الزکیہ اور ان کے بھائی ابراہیم جو نفس الرضیہ کے لقب سے مشہور تھے گرفتار کرنے میں ناکام رہے تو اس نے ان کے قریبی رشتہ داروں کو قتل کرنا شروع کر دیا جس میں ان کے چچا عباس بن حسن۔ ابراہیم بن حسن اور چچا زاد بھائی محمد بن ابراہیم بھی شامل تھے۔ منصور کے جاسوس ان کی تلاش میں حیران و سرگردان پھرتے رہتے تھے لیکن وہ ان کی رہائش گاہ کا پتہ چلانے میں ناکام رہے۔
ابوجعفر منصور ان کے بارے میں بڑا فکر مند تھا لہذا حج کی نیت کرکے مکہ مکرمہ پہنچا تاکہ اس دوران میں وہ خود ان کی تلاش کر سکے اس پر نفس الزکیہ اور اب رہیم بصرہ میں جا کر روپوش ہو گئے منصور ان کے تعاقب میں بصرہ جاپہنچا لیکن دونوں بھائی وہاں سے نکل کر عدن چلے گئے منصور مایوس ہو کر بغداد واپس لوٹ گیا۔ اس دوران میں وہ عدن چھوڑ کر سندھ میں روپوش ہو گئے کچھ عرصہ بعد وہاں سے ہٹ کر کوفہ چلے گئے۔ دوسری بار منصور ۷۵۷ء میں دوبارہ حج کے لیے مکہ معظمہ آیا تو امام نفس الزکیہ اور ابراہیم وہاں موجود تھے ان کے والد مکرم اور دیگر تیرہ ہاشمی جنہیں قید کرکے بغداد لے جایا جا رہا تھا تو وہ اس وقت بھی درمیان موجود تھے لیکن منصور پھر بھی ان کا سراغ نہ لگا سکا۔ یہاں تک کہ دوران میں سفر دونوں بھائی بھیس بدل کر اپنے والد اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ ساتھ آگے پیچھے چلتے رہے۔ انہوں نے اپنے والد مکرم سے خروج کی اجازت چاہی۔ لیکن انہوں نے کسی موزوں وقت تک خروج ملتوی رکھنے کی تاکید کی اس پر امام نفس الزکیہ مدینہ منورہ لوٹ گئے اور ابراہیم کو عراق میں اپنی دعوت اشاعت کے لیے بھیج دیا۔
📚 ماخذ از کتاب چراغ خضر۔
Hadith Sahih Bukhari 6294

Farman e Wasi e Rasool

Hazrat Amirul Momineen Imam Maula Ali (عليه السلام) Farmaatey Hain.
Nooraaniyat Ke Saath Meri Maarifat Allah Ki Maarifat Hai Aur Allah Ki Maarifat Meri Maarifat Hai Aur Yahi Deen-e-Khaalis Hai.
Reference :
-Nahejul Asraar Jild 1/87
-Kashaf-ul-Muwaddat 50
(عليه السلام)
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ سَيِّدِنَا مُحَمَّد
Wilayat baghair wasil e Maula Ali AlaihisSalam nahi

Silsila-e-Naqshbandiya Ke Shaykh Wa
Mufassir Hazrat Allama Qazi Sana’-ul-Allah
Panipati Rahmat-ul-Allahi Ta’ala Alayh Apni
Tafsir Me Raqam Taraz Hain :
“Hazrat Ali Alayh-is-Salam Kamalat-e-Wilaayat Ke
Qutb-e-Irshad Hain, Saabiqaa (Agle Zamane Kee)
Ummato’n Mein Se Koi Bhi Aap (KarramAllahu
Ta’ala Waj’hah-Ul-Karim) Ke Wasile Wa Wasaatat
Ke Baghair Darja-e-Wilaayat Ko Nahin Pahuncha.”
[Tafsri Al-Mazhari, 02/122]
Shaykh-ul-Masha’ikh Ahmad Sarhindi Joh
Mujaddid-e-Alf Saani Ke Laqab Se Mash’hoor
Hain Aur Silsila-e-Naqshbandiya Ke Maahe
Munawwar (Qaddas Allahu Sirrahu-Al-Aziz) Apne
Maktoobat Sharif Me Maktavi Mein Farmate Hain :
“Hazrat Amir Al-Mu’minin Apne Jasad-e-Unsuri
(Jism Ka Hissa) Mein Aaney Se Qabl Bhi
Iss Maqaam Par Faa’iz They.”
[Ba Hawala Khasa’is Ali, Saf’h-489,
Az Allama Zahoor Ahmad Faizi.]
Jahan Mein Jishe Bhi Wilayat Mili Hai
Ba-Tufail e Muhammad Ataa e Ali Hai

