Taleemat e Ameer 40

** تعلیمات امیر (Taleemat e Ameer r.a)
** چالیسواں حصہ (part-40)

احمد بن حنبل: المسند، تحقيق الشيخ شعيب الأرنؤوط، الدارمي: المسند، تحقيق : حسين اسد،
 أبي يعلى الموصلي: المسند، تحقيق : حسين أسد، ج۱۱ ص ۴۱۶ کے حوالہ سے یوں بیان ہوتا ہےکہ۔
منصور نے مسند خلافت پر فائز ہونے کے فوراً بعد حاکم مدینہ زیاد بن عبد اللہ کو تاکید کی کہ وہ نفس الزکیہ کی حرکات و سکنات کے بارے میں اسے باخبر رکھے۔ زیاد نے اسے یقین دہانی کرائی کہ وہ بہت جلد انہیں گرفتار کرکے مرکز خلافت روانہ کر دے گا لیکن وہ ایسا کرنے پر قادر نہ ہو سکا لہذا منصور نے اسے معزول کرکے قید میں ڈال دیا۔ نئے گورنر محمد بن خالد بھی انہیں قابو میں لانے میں ناکام رہا تو اس کی جگہ رباح بن منصور کو گورنر مدینہ مقرر کرکے اسے امام نفس الزکیہ کو گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ رباح نے نفس الزکیہ کے والد محترم اور ان کے تمام قریبی رشتہ داروں کو گرفتار کرکے بغداد روانہ کر دیا۔ لیکن اپنی تمام کوششوں کے باوجود جب بھی نفس الزکیہ اور ان کے بھائی ابراہیم جو نفس الرضیہ کے لقب سے مشہور تھے گرفتار کرنے میں ناکام رہے تو اس نے ان کے قریبی رشتہ داروں کو قتل کرنا شروع کر دیا جس میں ان کے چچا عباس بن حسن۔ ابراہیم بن حسن اور چچا زاد بھائی محمد بن ابراہیم بھی شامل تھے۔ منصور کے جاسوس ان کی تلاش میں حیران و سرگردان پھرتے رہتے تھے لیکن وہ ان کی رہائش گاہ کا پتہ چلانے میں ناکام رہے۔
ابوجعفر منصور ان کے بارے میں بڑا فکر مند تھا لہذا حج کی نیت کرکے مکہ مکرمہ پہنچا تاکہ اس دوران میں وہ خود ان کی تلاش کر سکے اس پر نفس الزکیہ اور اب رہیم بصرہ میں جا کر روپوش ہو گئے منصور ان کے تعاقب میں بصرہ جاپہنچا لیکن دونوں بھائی وہاں سے نکل کر عدن چلے گئے منصور مایوس ہو کر بغداد واپس لوٹ گیا۔ اس دوران میں وہ عدن چھوڑ کر سندھ میں روپوش ہو گئے کچھ عرصہ بعد وہاں سے ہٹ کر کوفہ چلے گئے۔ دوسری بار منصور ۷۵۷ء میں دوبارہ حج کے لیے مکہ معظمہ آیا تو امام نفس الزکیہ اور ابراہیم وہاں موجود تھے ان کے والد مکرم اور دیگر تیرہ ہاشمی جنہیں قید کرکے بغداد لے جایا جا رہا تھا تو وہ اس وقت بھی درمیان موجود تھے لیکن منصور پھر بھی ان کا سراغ نہ لگا سکا۔ یہاں تک کہ دوران میں سفر دونوں بھائی بھیس بدل کر اپنے والد اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ ساتھ آگے پیچھے چلتے رہے۔ انہوں نے اپنے والد مکرم سے خروج کی اجازت چاہی۔ لیکن انہوں نے کسی موزوں وقت تک خروج ملتوی رکھنے کی تاکید کی اس پر امام نفس الزکیہ مدینہ منورہ لوٹ گئے اور ابراہیم کو عراق میں اپنی دعوت اشاعت کے لیے بھیج دیا۔

📚 ماخذ از کتاب چراغ خضر۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s