▪️ Hazrat Ibrahim A.S. ke azkaar aur duayein baarah nooron ke wujood ki khabar deti hain, jo Hazrat Fatima S.A. se munshab hote hain.
▪️ Taurat mein Hazrat Muhammad ﷺ, unki ba-barkat beti, aur do muazzaz beton (Hazrat Ismail wa Ishaq ki tarah yaani Hasan wa Husain A.S.) ki aamad ki khabar di gayi hai.
▪️ Aur Injeel mein Ahmad ﷺ ki basharat di gayi hai, neez ek ba-barkat beti ki khabar di gayi hai jinke do bete hain.
▪️ Bishop ka ek bhai, Abu al-Muthanna Mundhir bin Alqamah (s. 650), daud kar unhein aane wale khatre se khabardar karta hai.
▪️ Pas wo usse kehte hain ke Muhammad se musalahat (sulh) ki darkhwast kare. Muhammad jawab dete hain ke shara’it Ali A.S. tay karenge.
He who dies with love of the family of Muhammad is a Martyr.
ألا ومن مات على حب آل محمد ، مات مغفورا له
And behold! He who dies with love of the family of Muhammad is forgiven.
ألا ومن مات على حب آل محمد ، مات تائبا
And more! The one who dies with love of the family of Muhammad is died repented.
ألا ومن مات على حب آل محمد ، مات مؤمنا مستكمل الإيمان
Lo! He who dies with love of the family of Muhammad is died as a believer with a COMPLETE belief.
ألا ومن مات على حب آل محمد ، بشره ملك الموت بالجنة ،ثم منكر ونكير
And no doubt! The one who dies with love of the family of Muhammad, the angle of death gives him the glad tiding of Paradise, and so do the two angels who question him (Munkar & Nakeer).
ألا ومن مات على حب آل محمد ، يزف إلى الجنة كما تزف العروس إلى بيت زوجها
And verily he who dies with love of the family of Muhammad, will be led toward the Paradise as the bride is led to the house of her husband.
ألا ومن مات على حب آل محمد ، فتح له في قبره بابان إلى الجنة
Behold! And he who dies with love of the family of Muhammad, for him there will open two gates in his grave toward the Paradise.
ألا ومن مات على حب آل محمد ، جعل الله زوار قبره ملائكة الرحمة
Lo! And the one who dies with love of the family of Muhammad, Allah will make his grave a sacred place of visit for the angels of mercy.
ألا ومن مات على حب آل محمد ، مات على السنة
And verily he who dies with love of the family of Muhammad, has died on Sunnah.
ألا ومن مات على بغض آل محمد جاء يوم القيامة مكتوب بين عينيه “آيس من رحمة الله”
And no doubt! The one who dies with the HATE of the family of Muhammad, will arrive in the day of judgment while it is printed on his forehead that he is desperate from the Mercy of Allah.
ألا ومن مات على بغض آل محمد ، مات كافرأ
Behold! He who dies with the hate of the family of Muhammad, has died unbeliever.
ألا ومن مات على بغض آل محمد ، لم يشم رائحة الجنة
And verily he who dies with the hate of the family of Muhammad, will never hear the smell of Paradise.
Sunni references:
• Tafsir al-Kabir, by Fakhr al-Din Muhammad Ibn Umar al-Razi, Pub. in Egypt (1357/1938), under commentary of verse 42:23, Part 27, pp. 165-166.
*حضرت مولانا محمد شاہ عنایت اللہ خاں صاحب نقشبندی مجددی رحمۃ اللہ علیہ*
نام ونسب: اسم گرامی:حضرت مولانا عنایت اللہ خان رام پوری۔ لقب: امام العلماء،سید الاصفیاء۔ سلسلہ نسب اس طرح ہے:حضرت مولانا عنایت اللہ خان،بن حبیب اللہ خان،بن شیخ رحمت اللہ خان،بن قاضی معظم خان علیہم الرحمۃ والرضوان۔ مولانا عنایت اللہ خان کا آبائی علاقہ’’شل بانڈہ‘‘ضلع بونیرموجودہ خیبرپختونخواہ ہے۔یہ علاقہ سوات سےباون کلومیٹر دور دشوارگزار پہاڑیوں میں واقع ہے۔آپکےجد اعلیٰ قاضی معظم خاںاپنے وقت کے ایک متبحر عالم وفاضل تھے۔جد امجد شیخ رحمت اللہ خاںجناب سید فیض اللہ خاں صاحب بہادرمرحوم کےعہدِ اخیر میں رامپور آئے اور فوج میں جمعداری کامنصب ملا۔مولانا کےوالدِگرامی رام پور میں دیہات و قصبہ جات کی ٹھیکہ داری کرتے تھے۔ان کی شادی محمد صالح خاں متبنیٰ وخلیفہ ملافقیر اخوند صاحب کی دخترنیک اختر سےہوئی۔جن کےبطن سےحضرت العلام مولانا عنایت اللہ خاں رام پوریپیداہوئے۔(تذکرہ کاملان رام پور:269)
تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 1258ھ مطابق 1842ء کورام پور(انڈیا) میں ہوئی۔(تذکرہ علماء اہل سنت:134)
تحصیل ِ علم: بچپن میں حافظ اکبر خاں رام پوری اور حافظ عنایت اللہ خاں سے حفظِ قرآنِ پاک کیا۔ مولوی کریم نہٹوری سےفارسی کی چند کتابیں پڑھ کر سلسلۂ تعلیم ختم کردیا۔جوانی میں قدم رکھا۔اس وقت حضرت مولاناشاہ ارشادحسین رام پوری حرمین سےواپس آکر رام پور میں فقیراخوندکی مسجد میں مقیم تھے۔آپ ایک مسئلہ مولانا سےدریافت کرنے کےلئے حاضر ہوئے۔حضرت مولانا نےآپ کی طرف بغور دیکھا اور چہرےپرآثارِ سعادت پرکھ کر فرمایاکب تک مسائل پوچھتے رہوگے،خود کیوں نہیں پڑھتے۔تاکہ لوگ تم سےمعلوم کریں۔آپ نے عرض کیا حضرت اب میں جوان ہوگیاہوں۔بچوں والی کتابیں پڑھتے ہوئے حیاآئےگی۔ مولانانےفرمایا ہم تمہیں ایسی کتاب پڑھائیں گے جو کسی نے نہ پڑھی ہوگی۔ مولانانے ’’ارشاد الصرف‘‘ آپ کو پڑھانے کےلیے ہی تصنیف فرمائی تھی۔ چند روز بعد آپ پر شوقِ علم ایسا غالب ہوا کہ ترک علائق کر کے پوری توجہ سےتحصیلِ علوم میں لگ گئے ۔آپ نے معقول و منقول کی اکثر کتابیں حضرت مولانا شاہ ارشاد حسین سے پڑھیں، اُن کی اجازت سےحضرت علامہ ہدایت اللہ خاں رام پوری، مولانا احمد حسن مراد آبادی، مولانا عبد العلی خاں ریاضی داں سے بھی کسبِ علم کیا۔ایک وقت ایسا آیا کہ آپ علامۂ زماں اور مرجع الفضلاء بن گئے۔
بیعت وخلافت:امام العلماءوالعرفاء،سندالاصفیاء،مرج البحرین،مجمع الفریقین،حضرت علامہ مولاناشاہ ارشاد حسین رام پوریکےدستِ حق پرست پر سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت ہوئے۔مجاہدات وریاضات کےبعدخلاف واجازت سےمشرف ہوئے۔حضرت مولانا ارشاد حسین رام پوریکی رحلت کےبعد خانقاہ مجددیہ اور سالکین کی رہبری آپ کےسپرد ہوئی۔(ایضا:135)
سیرت وخصائص: استاذالعلماء،سندالاتقیاء،پیشوائے اہلِ سنت،شیخ ِطریقت،عارفِ حقیقت حضرت علامہ مولانا عنایت اللہ خاں رام پوری۔آپاپنےوقت کےمنقولات ومعقولات کےامام،بہترین مدرس،فقیہ العصر اور شیخِ طریقت تھے۔آپ کی ذات سےاہل سنت وجماعت کوترقی وعروج حاصل ہوا۔آپ نےاہل سنت کوقابل علماء کی جماعت عطاء کی۔آپ حضرت مولاناشاہ ارشادحسین رام پوریکےمرید بھی تھےاورمراد بھی۔تیس سال کامل اپنے پیرومرشد اور استاذ مکرم کی خدمت کی،اس دوران دنیا واہل دنیا سےانقطاع کلی کرکے فیض مجددیہ سےخوب سیراب ہوئے۔مرشد کی عنایتیں بھی آپ پربےحساب تھیں۔
درس وتدریس اور سالکین کی تربیت،عوام کووعظ ونصیحت،خانقاہ مجددیہ کانظام وانصرام،سائلین کےسوالوں کےجوابات الغرض آپ دین متین کی خدمت میں ہمہ وقت مشغول رہتےتھے۔زیادہ شغف تدریس میں تھا۔تمام علوم پر یکساں مہارت حاصل تھی۔تمام فنونِ عقلیہ ونقلیہ کادرس پوری قوت وذوق سےدیتےتھے۔یہ سلسلہ پیرانہ سالی میں بھی برابر جاری رہا۔آپ کےخوان ِ علم سےکئی لوگ مستفید ہوئے۔آپ کےتمام معاملات توکل علی اللہ پرتھے۔بظاہر کوئی ذریعہ معاش نہیں تھا،لیکن ہروقت فکرِمعاش سے بےنیازاوربلکہ دوسروں کی مددکرتےتھے۔اعلیٰ حضرت مولانا شاہ امام احمد رضا خاں بریلوی سے آپ کے خصوصی روابط تھے،اکثر مراسلت رہتی تھی،حضرت فاضل بریلوی کے بہت سے فتاویٰ آپ کے دستخط اور مُہر سےمزین ہیں۔(تذکرہ علمائے اہل سنت:135)
تاریخِ وصال: آپ کاوصال 11/ذوالحج 1345ھ ،مطابق جون/1927ء کوہوا۔14 ذی الحجہ کواپنی خانقاہ میں مدفون ہوئے۔مزار شریف رام پور انڈیا میں ہے۔