Taleemat e Ameer 38

** تعلیمات امیر (Taleemat e Ameer r.a)
** اڑتیسواں حصہ (part-38)

ابن اثیر الکامل فی التاریخ ج۵ ص ۲۴، العصفہانی مقاتل الطالیبین ص۲۰۶، العمري المجدي انساب الطالیبین ص۳۸، الطبقات ابن سعد ج۷ ص۵۳۵، ابن کثیر البدایۃ والنھایۃ ج۱۰ ص۳۱۴ کے حوالہ سے یوں بیان ہوتا ہے کہ ۔
محمد نفس الزکیہ عباسی دور کے ایک فاطمی سادات کے امام تھے۔ جنہوں نے المنصور کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔ تحریک عباسی کے دوران میں عباسیوں۔ فاطمیوں اورعلویوں نے مل جل کر کام کیا۔ فاطمیوں کو یقین تھا کہ کامیابی کے بعد خلافت ان کے سپرد کر دی جائے گی لیکن ایسا ممکن نہ ہو سکا اور عباسیوں نے کامیابی کے بعد اپنی خلافت کا اعلان کر کے سفاح کو پہلا خلیفہ نامزد کر دیا۔ اس پر فاطمیوں کی بڑی دل ازاری ہوئی۔ اس وقت فاطمی سادات میں سے دو شخصیات نہایت اہم تھیں۔ اولاً حضرت امام جعفر صادق جو حضرت امام حسینؑ کی اولاد میں سے چھٹے امام تھے اور اپنے زہد و اتقاء اور روحانی کمالات کی بدولت عوام میں بہت مقبول تھے وہ بڑے درویش صفت انسان تھے۔ انہوں نے خلافت کی کبھی تمنا نہیں کی تھی اور اپنے پیروکاروں کو بھی اس سے منع کرتے رہتے تھے۔ لیکن دوسری شخصیت امام محمد نفس الزکیہ کی تھی جو حضرت امام حسنؑ کی چوتھی پشت میں سے تھے (فقیر کے نزدیک آپ چھٹے زیدی امام تھے) وہ اپنی پاکبازی اور پرہیزگاری کی بدولت عوام میں بڑی قدرومنزلت اور مقبولیت کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔ امام جعفر صادق کی خاموشی کے مقابلہ میں وہ خلافت کے لیے پرجوش تھے اور ابوجعفر منصور ان کی شخصیت اور عزائم کی بنا پر ان سے سخت خائف تھا اور انہیں اپنا مدمقابل سمجھتا تھا۔

📚 ماخذ از کتاب چراغ خضر۔