Taleemat e Ameer 45

** تعلیمات امیر (Taleemat e Ameer r.a)
** پیتالیسواں حصہ (part-45)

ازواج و اؤلاد۔
حضرت امام محمد نفس زکیہؑ کا پہلا نکاح حضرت فاختہ بنت فُلَيْح ابن محمد ابن المنزیر ابن حضرت زبیرؓ ابن اوام سے ہوا جن کے بطن سے حضرت قاسمؒ عرف طاہر پیدا ہوئے۔ آپ کے سبب ہی حضرت امام نفس زکیہ کی کنیت ابوالقاسم تھی۔

آپ کا دوسرا نکاح حضرت سیدہ امِّ سلمہ بنت حضرت محمدؑ ابن حضرت حضرت حسن مثلث ابن حضرت حسن المثنیؑ ابن حضرت امام حسن علیہ السلام سے ہوا جو آپ کی عم زاد تھیں جن کے بطن سے تین شہزادے حضرت ابو محمد عبداللہ الاشتر (عبداللہ شاہ غازیؒ جدّ سادات قطبیہ) حضرت حسنؒ بمعروف مصری شاہ غازی اور حضرت علیؒ اور دو بیٹیاں فاطمہ اور زینب ہوئیں۔

تیسرا عقد حضرت حفصہ بنت عمران ابن ابراہیم ابن محمد ابن حضرت طلحہؓ ابن عبیداللہ سے ہوا۔

آپکی دو باندیاں بھی تھی جن کے بطن سے حضرت ابراہیمؒ اور حضرت حسنؒ ہوۓ۔

حضرت امام محمّد نفس زکیہؑ کے تمام فرزند اور ان کی تمام ذریت میں ایک قسرت سے شہادت واقِع ہوئی اور ایک قسرت سے اولیاء کاملین کا نزول ہوا ہے۔ ان میں سر فہرست حضرت سید عبداللہ شاہ غازیؒ کا نام ہے۔ جو ہند و سندھ میں سب سے اول اور سب سے کامل صوفی بزرگ ہیں۔ جنہوں نے سب سے پہلے سندھ کی سرزمین پر دین حق کا پرچم لہرایا اور اس سرزمین کو شادو آباد کیا۔ آج بھی آپ کے مزار مجلّہ سے فیضِ عام جاری و ساری ہے۔ آپ کی مزار مقدسہ کلفٹن کراچی پاکستان میں سمندر کنارے واقِع ہے اور مرج خلایق ہے۔ اس فقیر کو آپ کی ذریت میں تولد ہونے کا شرف حاصل ہے۔

📚 ماخذ از کتاب چراغ خضر۔

Taleemat e Ameer 44

** تعلیمات امیر (Taleemat e Ameer r.a)
چوالیسواں حصہ (part-44)

نفس الزکیہ نے عباسی فوج کی آمد کی اطلاع پاکر مجلس مشاورت منعقد کی۔ ساتھیوں کے مشورہ پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کی خندق کو دوبارہ صاف کیا۔ طے یہ پایا کہ جنگ مدینہ منورہ کے اندر رہ کر لڑی جائے گی۔ عباسی جرنیل نے شہر کا محاصرہ کر لیا اور ایک اونچی جگہ پر کھڑے ہو کر اہل مدینہ کو ہتھیار ڈال دینے کا مشورہ دیا جسے امام نفس ذکیہ نے رد کر دیا اور جواب میں پیغام بھجوایا کہ میں تم کو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ پر عمل پیرا ہونے کی دعوت دیتا ہوں اور اس کے انتقام سے ڈراتا ہوں۔ خدا کی قسم میں اس وقت تک اپنے دعوی سے دست بردار نہیں ہو سکتا جب تک کہ اپنے اللہ سے نہ مل جاؤں۔ تمہیں اس حالت سے بچنا چاہیے کہ خدا کی طرف بلانے والا شخص ہی تمہیں قتل کرے اور تم اسے قتل کرو گے تو اس کا وبال تم پر ہوگا۔

ابن حجر : التهذيب ج ۵ ص۱۵۲ ،تقريب، ترجمة و تشریح ۶۷۵۴
الشباني الادريسي : مصابيح البشرية ،ص۸۴،
تاریخ طبری، مکتبة الخیاط، ج۷، ص۵۸۹ و ۵۹۰.
اور ابن زيدان العلوي :المنزع اللطيف ،ص۳۸ کے حوالہ سے بیان کیا جاتا ہے کہ جنگ کے شروع ہونے سے قبل نفس الزکیہ نے ایک بہت بڑے اجتماع میں اپنے جد امام حسین علیہ السلام کے طرح اعلان کیا کہ جو کوئی ان سے الگ ہونا چاہتا ہے اسے اجازت ہے۔ لیکن امام حسین علیہ السلام کے جانساروں اور رفیقوں کے طرح ان کے جانسار اور رفیق نہ تھے جس کے نتیجے کے طور پر بہت سے لوگ جنگ سے کنارہ کش ہو کر اردگرد کے پہاڑوں پر چلے گئے۔ یہ پہلا دھچکا تھا جو انہیں لگا۔ جو لوگ باقی رہ گئے وہ تعداد میں بہت کم تھے۔ لیکن اس کے باوجود نفس الزکیہ اپنی باقی ماندہ فوج کو لے کر نکلے۔ عیسی بن موسی نے مبازرت طلب کی جس پر نفس الزکیہ کے سپہ سالار ابو قلمش عثمان الفاروقی آگے بڑھے اور اپنے مدمقابل عباسی کا کام تمام کر دیا۔ بعد ازیں عام مقابلہ شروع ہو گیا۔ نفس الزکیہ نے خوب داد شجاعت دی۔ عباسیوں کے بہت سے فوج کام آئے لیکن بہ حیثیت مجموعی عباسیوں کا پلہ بھاری رہا۔ دوسرے دن جب جنگ کا آغاز ہوا تو نفس الزکیہ کے ساتھ صرف تین سو تیرہ جان نثار باقی رہ گئے۔ امام محمد نفس الزکیہ اس قلیل تعداد کے ساتھ جم کر لڑے لیکن اسی اثناء میں دشمن کے کچھ سپاہیوں نے خندق پھلانگ کر اور شہر کی حدود میں داخل ہو کر ایک اونچی جگہ پر عباسی علم لہرا دیا۔ اس پر نفس الزکیہ کی ہمراہی سراسیمہ ہو گئے۔ مگر امام محمد نفس الزکیہ بنفس نفیس میدان میں ڈٹے رہے لیکن بالاخر ۱۴ رمضان المبارک ۶ دسمبر سنہ ۷۶۳ء، ۱۴۵ھ کو بروز پیر بعد از نماز عصر ملعون حمید بن قحطبہ کے ہاتھوں احجار الزیت نامی علاقے میں شہید ہوئے۔ ان کے کٹے ہوئے سر کو لوگوں کو ڈرانے اور عبرت کے لیے شہر میں تشہیر کرائی گئی۔ عیسی نے ان کے شہید ساتھیوں کو مدینہ منورہ اور ثنیتہ الوداع کے مقام پر سولی پر لٹکائے رکھا۔ نفس الزکیہ کی ہمشیرہ سیدہ زینب کی درخواست پر ان کے بے سر جسد مبارک کوجنت البقیع میں دفن کر دیا گیا۔ امام محمد نفس ذکیہ نے جنہیں امام مالک اور امام ابوحنیفہ جیسے صلحائے امت کی تائید حاصل تھی اپنی دعوت کو کتاب اللہ اور سنت رسول کی بنیاد پر اٹھایا تھا۔ آپ کی رحلت کے بعد اہل مدینہ اور عالم اسلام کو ان جیسے نیک نام اور پاکیزہ سیرت شخصیت کی خدمات پھر میسر نہ آسکی۔
پس اسی طرح آپ کے بھائی ابراہیم نفس الرضیہ (قتیل باخمرا) کی شہادت کا سانحہ ۲۵ ذوالقعدہ ۱۴۵ھ، بمطابق  ۱۴ فروری ۷۶۳ء کو پیش آیا۔
کتاب حضرت امام ابو حنیفہ کی سیاسی زندگی ص۳۴۲ پر علامہ مناظر احسن گیلانی لکھتے ہیں۔ ‘بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ جیسے محمدؑ بن عبداللہؑ کو ان کی عبادت، ریاضت، زہدو تقوی کی وجہ سے لوگ “نفس زکیہ” کہتے تھے، اسی طرح ابراہیم ان کے بھائی “نفس رضیہ” کے خطاب سے مشہور تھے۔

📚 ماخذ از کتاب چراغ خضر۔