Taleemat e Ameer 56

** تعلیمات امیر (Taleemat e Ameer r.a)
** چھپنواں حصہ (part-56)

قدوة المحدثین شاہ رفیع الدین رقمطراز ہیں کہ حضرت امام مہدی جو علم لدنی سے بھرپور ہوںگے جب مکہ سے آپ کا ظہور ہوگا اور اس ظہور کی شہرت اطراف واکناف عالم میں پھیلے گی تو افواج مدینہ و مکہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوںگی اور شام وعراق و یمن کے ابدال اور اولیاٴ خدمت شریف میں حاضر ہوںگے اور عرب کی فوجیں جمع ہو جائیں گی، آپ ان تمام لوگوں کو اس خزانہ سے مال دیں گے جو کعبہ سے برآمد ہوگا ۔
اور مقام خزانہ کو ” تاج الکعبہ“ کہتے ہوں گے ،اسی اثناٴ میں ایک شخص خراسانی عظیم فوج لیکر حضرت کی مدد کے لئے مکہ معظمہ کو روانہ ہوگا، راستے میں اس لشکر خراسانی کے مقدمہ الجیش کے کمانڈر منصور سے نصرانی فوج کی ٹکر ہوگی ،اور خراسانی لشکر نصرانی فوج کو پسپا کرکے حضرت کی خدمت میں پہنچ جائے گا اس کے بعد ایک شخص سفیانی جو بنی کلب سے ہوگا حضرت سے مقابلہ کے لئے لشکر عظیم ارسال کرے گا لیکن بحکم خدا جب وہ لشکر مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان پہنچے گا اور پہاڑ میں قیام کرے گا تو زمین میں وہیں دہنس جائے گا پھر سفیانی جو دشمن آل محمدؐ ہوگا نصاری سے سازباز کر کے امام مہدیؑ سے مقابلہ کے لئے زبردست فوج فراہم کرے گا نصرانی اور سفیانی فوج کے اسّی (۸۰) نشان ہوں گے اور ہر نشان کے نیچے ۱۲ ہزار کی فوج ہوگی ۔
ان کا دارالخلافہ شام ہوگا حضرت امام مہدی علیہ السلام بھی مدینہ منورہ ہوتے ہوے جلد سے جلد شام پہنچیں گے جب آپ کا ورود مسعود دمشق میں  ہوگا ،تودشمن آل محمدؐ سفیانی اور دشمن اسلام نصرانی آپ سے مقابلہ کے لئے صف آرا ہوںگے ،اس جنگ میں فریقین کے بے شمار افراد قتل ہوںگے بالاخر امام علیہ السلام کو فتح کامل ہوگی ،اور ایک نصرانی بھی زمین شام پر باقی نہ رہے گا اس کے بعد امام علیہ السلام اپنے لشکریوں میں انعام کو تقسیم کریں گے اور ان مسلمانوں کو مدینہ منورہ سے واپس بلالیں گے جو نصرانی بادشاہ کے ظلم وجور سے عاجز آکر شام سے ہجرت کرگئے تھے ۔(قیامت نامہ ص۴) اس کے بعد مکہ معظمہ واپس تشریف لے جائیںگے اور مسجد سہلہ میں قیام فرمائیں گے (ارشاد ۵۲۳) اس کے بعد مسجد الحرام کو از سر نو بنائیںگے اور دنیا کی تمام مساجد کو شرعی اصول پر کر دیں گے ہر بدعت کو ختم کریں گے اور ہر سنت کو قائم کریں گے ،نظام عالم درست کریں گے اور شہروں میں فوجیں ارسال کریں گے ، انصرام وانتظام کے لئے وزراء روانہ ہوںگے ۔(اعلام الوری ۲۶۲،۲۶۴) ۔

📚 ماخذ از کتاب چراغ خضر-