Taleemat e Ameer r.a 34

** تعلیمات امیر (Taleemat e Ameer r.a)
** چوتیسواں حصہ (part-34)

۵۔ حضرت سرکار امام حسن ال مثنی علیہ السلام
(ولادت ۱۲ رمضان ۲۹ھ بمطابق ۱۹ مئی ۶۵۰ء مدینہ منورہ، شہادت ۱۷ رجب ۹۷ھ بمطابق ۱۶ مارچ ۷۱۶ء مدینہ منورہ، مزار مقدسہ جنت البقیع مدینہ منورہ)

صحیح بخاری میں روایت منقول ہے کہ آپ کی زوجہ حضرت فاطمہ بنت الحسینؑ نے ان کے مزار پر قبہ کی تعمیر کروائی (صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب۶۱؛ فتح الباری فی شرح صحیح بخاری، ج۳، ص۲۵۵، باب۶۱)

آپ کی والدہ کا نام “خَوْلَہ بنت منظور بن زَبّان فَزاری” تھا۔ سنہ ۲۶ ق میں محمد بن طلحہ بن عبید اللہ کی جنگ جمل میں قتل ہونے کے بعد حضرت امام حسن علیہ السلام کے عقد میں آئیں جن کے بطن سے آپ تولد ہوئیں۔

حضرت امام حسین علیہ السلام کی بیٹی حضرت فاطمہ صغری آپ کی زوجہ تھیں۔ امام حسین علیہ السلام نے واقعہ کربلا سے پہلے اپنی بیٹی کا عقد حصرت حسن مثنی علیہ السلام سے کیا۔
ابن‌سعد، ج۵، ص۳۱۹؛ بلاذری، انساب‌الاشراف، ج۲، ص۴۰۳ـ۴۰۴؛ ابن‌عنبہ، عمدۃ الطالب فی انساب آل ابیطالب، ص۱۰۱، ابوالفرج اصفہانی، ج۲۱، ص۸۵ـ۹۳ پر درج ہے کہ حضرت فاطمہ صغری کے بطن سے آپ کے تین فرزند حضرت عبداللہ ال محض، حضرت ابراہیم غمر، حضرت حسن مثلث تھے۔ ان تینوں فرزندوں کی وفات عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور کے زندان میں ہوئی۔ پھر ان کے بعد حضرت عبد اللہ ال محضؑ بن حسن مثنیؑ ایک عالم اور ادیب شخص تھے جنہوں نے عباسیوں کے خلاف تحریکوں کی قیادت کی۔
نفس زکیہؑ کے نام سے مشہور ہونے والے حضرت محمد اور قتیل باخَمْرا کے نام سے مشہور حضرت ابراہیم بھی ان کی نسل میں سے ہیں تولد ہوئیں۔

حضرت حسن مثنی کربلا کے میدان میں زخمی ہوئے اور اپنے ماموں اسماء بن خارجہ فزاری کے توسط سے اس معرکے سے نجات حاصل کر سکے۔ کوفہ میں اپنے ماموں کے زیر نگرانی صحت یاب ہوئے۔ اس کے بعد کوفہ سے مدینہ واپس آگئے۔
حجاج بن یوسف کے خلاف عبد الرحمان بن محمد بن اشعث کی شورش میں آپ نے عبد الرحمان کا ساتھ دیا۔ آپ اپنے زمانِ حیات میں حضرت علی علیہ السلام کی وصیت کے مطابق حضرت علی علیہ السلام کے موقوفات کے متولی تھے۔ ابن‌ عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج۱۳، ص۶۱ـ۶۲ میں لکھتے ہیں کہ حضرت حسن مثنی علیہ السلام نے اپنے والد حضرت امام حسن علیہ السلام اور دوسرے افراد سے حدیث نقل کی ہے۔ حسنی، المصابیح، ص۳۷۹۔۳۸۰۔۳۸۱؛ محلی، الحدائق الوردیۃ فی مناقب ائمۃ الزیدیۃ، ج۲، ص۲۳۵ میں درج ہے کہ آپ علویوں کے بزرگ اور زیدیوں کے امام تھیں اور عراق کے مشہور علما عبدالرحمان بن‌ ابی لیلی، شعبی، محمد بن سیرین و حسن بصریؒ نے ان کی بیعت کی۔

📚 ماخذ از کتاب چراغ خضر۔