Taleemat e Ameer r.a 37

** تعلیمات امیر (Taleemat e Ameer r.a)
** سینتیسواں حصہ (part-37)

۹۔ حضرت سرکار امام ذوالنفس زکیہ شہید علیہ السلام (جدِّ امجد سادات حسنی قطبی)
آپکی ولادت ۱۰۰ ہجری مدینہ منورہ، شہادت ۱۴ رمضان، ۱۴۵ھ بمطابق ۷۶۳ء مقام احجار الزیت مضافاتِ مدینہ منورہ، میں ہوئی، اور آپ اپنی والدہ کے شکم میں چار سال تک رہیں۔ (بحوالہ امام بخاریؒ و تاریخ طبری، مکتبة الخیاط، ج۷، ص۵۸۹ و ۵۹۰)

فرمانیان و موسوی نژاد زیدیہ تاریخ و عقاید، ۱۳۸۹ش، ص۳۶ پر آپ کی نسب کی طہارت میں اس طرح سے بیان ہوتا ہے کہ ابو عبد الله محمدؑ بن عبدالله محضؑ بن حسن مثنیؑ بن حسن مجتبیؑ، جنہیں بعض افراد کی طرف سے نفس زکیہ کا لقب دیا گیا۔ سن ۱۰۰ ھ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد عبد اللہ محضؑ حسن مثنیؑ کے بیٹے اور امام حسن مجتبیؑ کے پوتے ہیں۔ ان کی والدہ ھند بنت ابی عبیدہ بن عبد الله بن زمعہ تھیں۔ چونکہ ان کے والدین کے تمام سلسلہ نسب میں کنیز کا وجود نہیں تھا اور ان کی والدہ کے سلسلہ مادری میں سب قریش سے تھیں اس لئے انہیں صریح قریش کا لقب دیا گیا تھا۔

مولوی احمد رضا خان بریلوی صاحب اپنی بالا مشہور تصنیف فتاوی رضویہ جلد ۲۸ ص ۴۸۳ تا ۴۸۴ پر رقم طراز ہیں کہ “یہ امام اجل (یعنی امام محمدؑ) حضرت امام حسن ال مجتبی علیہ السلام کے پوتے اور حضرت امام حسین شہید کربلا علیہ السلام کے نواسے ہیں۔ ان کا لقب مبارک نفس زکیہ ہے، ان کے والد ماجد حضرت عبداللہ ال محضؑ، کے سب میں پہلے حسنی حسینی دونوں شرف کے جامع ہوۓ لہذا “محض” کہلواۓ، اپنے زمانے میں سردارِ بنی ہاشم تھیں، ان کے والدِ ماجد امام حسن مثنیؑ اور والدۂ ماجدہ فاطمہ صغریؑ بنت حسین علیہ السلام ہیں۔

📚 ماخذ از کتاب چراغ خضر۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s