Taleemat e Ameer r.a 36

** تعلیمات امیر (Taleemat e Ameer r.a)
** چھتیسواں حصہ (part-36)

۸۔ حضرت سرکار امام زید شہید علیہ السلام
ولادت سنہ ۸۰ ہجری مدینہ منورہ، شہادت ۱۲۲ ہجری کوفہ)
آپ چوتھے امام حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کے فرزند ہیں۔ ان کی والدہ کے مختلف ناموں کا تذکرہ ملتا ہے: جیدا، جید، حیدان اور حوراء ان اسماء میں شامل ہیں۔ آپ کی والدہ ام ولد (یعنی آپ کی والدہ کنیز) تھی جنہیں مختار ثقفی نے تیس ہزار درہم میں خریدا اور چونکہ ان کی قدر و منزلت کے قائل تھے اس لئے امام سجادؑ کو ہدیہ کر دیا۔ زیدؑ کے علاوہ ان سے دوسری اولاد بھی ہوئیں جن کے اسما: علی، عمر اور خدیجہ ہیں۔
 الحیاة السیاسیة و الفکریة للزیدیة فی المشرق الاسلامی، ص۴۲-۳۴ میں درج ہے کہ حضرت زید شہیدؑ قرآن مجید کی مخصوص قرائت کے حامل تھے
اور آپ تقیہ کے مخالف تھے اور ایسے افراد سے جو شیخین پر تبرا کرتے تھے، بیزاری کا اظہار کرتے تھے۔

مستدرک الوسائل و مستنبط المسائل، الخاتمہ، ج ۸ ص ۲۴۲ و ج۹، ص۴۶.و بحار الانوار، ج ۴۶، ص۱۵۷۔۱۵۸ پر یوں رقم ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی 
شہادت کے بعد بعض علویوں نے مسلحانہ قیام
کی فکر کو امامت کے شرائط اور ظالموں سے مقابلہ کی روش کے عنوان سے پیش کیا۔ اس سیاسی تفکر کی تشکیل کے ساتھ، امام زین العابدین علیہ السلام کے زمانہ میں زیدیہ مسلک کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔
علویوں کے درمیان اختلاف کی باز گشت ان دو نظریوں اموی حکومت سے ثقافتی جنگ یا مسلحانہ قیام کی طرف ہوتی ہے۔ اس اختلاف کا نتیجہ امام زین العابدین علیہ السلام کی شہادت کے بعد ظاہر ہوا۔ بعض نے امام محمد باقر علیہ السلام کو قبول کر لیا اور دوسرے گروہ نے جو تلوار کے ذریعہ سے قیام مسلحانہ کا قائل تھا، وہ امام محمد باقر کے بھائی زید بن علی کی امامت کے قائل ہو گئے اور زیدیہ مشہور ہو گئے۔ اس بنیاد پر وہ شیعہ جو قیام مسلحانہ کا عقیدہ رکھتے تھے انہوں نے زید بن علی کو امام علیؑ، امام حسنؑ، امام حسینؑ اور امام حسن مثنیؑ کے بعد اہل بیت علیہم السلام میں پانچویں امام کی حیثیت سے مانتے ہیں۔

معجم البلدان، ج۵، ص:۱۴۳ پر حضرت زید شہیدؑ کے قول کو نقل کیا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا: ہر زمانہ میں ہم اہل بیت میں سے ایک شخص حجت خدا ہے اور ہمارے زمانہ کی حجت، میرا بھتیجا حضرت امام
جعفر صادق علیہ السلام بن حضرت محمد الباقر علیہ السلام ہیں۔ جو بھی ان کی پیروی کرے گا گمراہ نہیں ہوگا اور جو بھی ان کی مخالفت کرے گا، اسے ہدایت نصیب نہیں ہوگی۔

آپ کے چار فرزند ہوۓ یحییؑ، حسینؑ، محمدؑ، عیسیؑ

یحیی (سیف الاسلام) بن زید شہید ۔ آپ کی والدہ سیدہ ریطہ بنت ابو ہاشم عبیداللہ ابن حضرت محمد حنیفہ ابن حضرت علی علیہ السلام تھیں۔ آپ نے اپنے والد کی شہادت کے بعد سبزوار میں قیام کیا اور افغانستان کے شہر جوزجان میں شہید ہوئے۔

حسین (ذوالدمعہ) بن زید شہید۔ آپ کی والدہ ام ولد تھیں۔ آپ ذوالدمعہ یا ذی العبرہ سے معروف ہیں، انہیں یہ لقب اس وجہ سے دیا گیا کہ یہ اپنے والد کے فراق میں بیحد گریہ فرماتے تھے۔ زید شہیدؑ کی 
شہادت کے بعد امام جعفر صادق علیہ السلام نے ان کی تربیت کی ذمہ داری اپنے ذمہ لی تھی۔

محمد بن زید شہید ؛ آپ کی والدہ کا تعلق سندھ سے تھا۔ آپ بھی امام جعفر صادق علیہ السلام کے اصحاب میں سے تھے۔

عیسی (موتم الاشبال) بن زید شہید ؛ ان کی والدہ کا نام سکن تھا جن کا تعلق نوبہ سے تھا۔ آپ نے ایک عمر تک مخفی طور پر زندگی گزارنے کے بعد ساٹھ سال کی عمر میں کوفہ میں وفات پائی۔ بعض گزارشات کی بنیاد پر آپ بھی امام جعفر صادق علیہ السلام کے اصحاب میں سے تھے۔

📚 ماخذ از کتاب چراغ خضر۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s