Taleemat e Ameer 41

** تعلیمات امیر (Taleemat e Ameer r.a)
** اکتالیسواں حصہ (part-41)

البغوي شرح السنۃ، البیھقی السنن الکبری، النسائی السنن الکبری، ابي داود السنن، تحقيق شعيب الأنؤوط کے حوالہ سے بیان ہوتا ہے کہ۔
خلیفہ منصور نے جب ان کے قتل کی ٹھانی تو بالاخر امام نفس الزکیہ ۷۶۲ء، ۱۴۵ھ میں اپنے ۲۵۰ جاںنثاروں
کے ساتھ مدینہ میں ظاہر ہو گئے۔ لوگوں نے ان کا شاندار استقبال کیا۔ آپ نے ان کے ساتھ مشاورت کرکے باقاعدہ اپنی خلافت کا اعلان کر دیا۔ اس مقدس شہر کی کثیر تعداد نے ان کی بیعت کر لی۔ لیکن جب خود ان کے خاندان کے بعض نامور افراد نے ان کی بیعت نہ کی اور خاموش رہے تو لوگوں کو اس پر بڑی مایوسی ہوئی۔ عراق میں ان کے بھائی ابراہیم نے عراق میں اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ امام محمد نفس الزکیہ نے درالامان پر قبضہ کرکے گورنر مدینہ رباح کو گرفتار کر لیا اور اپنے حامی قیدیوں کو جیل توڑ کر رہا کرا لیا۔ مدینہ شریف کے بعد جلد ہی بقیہ حجاز 
اور یمن کے لوگوں نے آپ کو خلیفہ تسلیم کر لیا۔
مدینہ منورہ کا انتظام سنبھالنے کے بعد انہوں نے اپنے ایک قریبی رشتہ دار محمد بن حسن کو مکہ کی نظامت عطا کی۔ اہل مکہ نے بھی ان کی خلافت تسلیم کر لی۔ یمن میں قاسم بن اسحاق کو گورنر مقرر کیا گیا۔ حجاز کے علاوہ یمن اور شام میں بھی انہیں خلیفہ تسلیم کر لیا۔
حضرت امام حافظ الحدیث ابوالفضل شہاب الدین ابن حجر عسقلانیؒ الاصابۃ فی تمیز الصحابۃ حرف الطاء، بیروت، ج ۴ ص ۱۱۸، پر لکھتے ہیں کہ جب حضرت امام نفس زکیہ نے مدینہ پر تسلط کر لیا تو لوگوں میں “خلیفہ و امیر المومینین ” کا لقب پایا۔

الترمذي الجامع الكبير، تحقيق بشارعواد 
الترمذي الجامع الكبير، تحقيق شعيب الأنؤوط میں بیان ہے کہ۔ دنیائے اسلام کے دو یگانہ روزگار ہستیوں یعنی امام مالک اور امام ابوحنیفہ نے عراق میں ابوجعفر منصور کی بجائے حضرت امام محمد نفس الزکیہ کی حمایت کا اعلان کر کے دنیائے اسلام میں ایک تلاطم برپا کر دیا اس سے حضرت امام محمد نفس الزکیہ کو بڑی تقویت حاصل ہوئی۔
پس امام ابو حنیفہ اور امام مالک کو امام محمد نفس ذکیہ کی حمایت اور بیت کرنے کے سبب کافی اذیت اٹھانی پڑی۔ صاحب شرح صافی اصول کافی مطبوعہ ایران فرماتے ہیں کہ ۔
‘پس ظاہر شد محمد بن عبداللہ ومجمع شدند نردم براۓ او اختلاف نہ کرد برو ہیچ یک از قریش کہ مدنی بود نہ ہیچ یک از اہل مدینہ و مثل ابو حنیفہ کہ بسبب ایں در زندان منصور دوانقی مرد مثل مالک بن انس کہ بسبب ایں عیسی بن موسی اوارزد ۔

پھر عبداللہ محضؑ کے بیٹے محمدؑ ظاہر ہوۓ، اور لوگ ان کے لئے جمع ہوۓ اور انکی امامت میں کسی قریشی نے جو مدینہ کا رہنے والا تھا، نیز مدینہ کے کسی بھی رہنے والے نے اختلاف نہیں کیا، اور ابو حنیفہ جیسے شخص انہی کے سبب منصور دوانقی کے قید خانہ میں انتقال کر گئے، اور مالک بن انس جیسے شخص کو انہی کے سبب عیسی بن موسی نے مارا پیٹا۔

📚 ماخذ از کتاب چراغ خضر۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s