Taleemat e Ameer 23

** تعلیمات امیر (Taleemat e Ameer r.a)
** تیئسواں حصہ (part-23)

امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کو اہل بیت اطہار سے شدید محبت و مودت تھی۔ حضرت امام جعفر الصادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسی ہستیوں کے پاس اگر کوئی مسئلہ پوچھنے جاتا تو فرماتے:
اِذْهَبْ اِلٰی مَالِک عِنْدَهُ عِلْمُنَا.
’’مالک کے پاس چلے جاؤ، ہم اہل بیت کا علم اس کے پاس ہے‘‘۔
آپ کل آئمہ اہل بیت کے شاگرد تھے اور ان کی محبت و مودت میں فنا تھے۔ ایک طلاق کے مسئلے کو بہانہ بناکر بنو عباس کے حکمرانوں نے ان کو محبت و مودتِ اہل بیت کی سزا دی۔ یہاں تک کہ ان کے سر اور داڑھی کو مونڈھ دیا اور سواری پر بٹھا کر مدینے کی گلیوں میں گھمایا اور حکم دیا کہ سب کو بتاؤ کہ میں امام مالک ہوں۔ آپ کہتے جاتے: جو مجھے پہچانتا ہے پہچان لے کہ میں کون ہوں اور جو مجھے اس حال میں دیکھ کر نہیں پہچان رہا وہ جان لے کہ میں مالک بن انس ہوں۔ اس واقعہ کے بعد آپ ۲۵ سال تک گھر میں گوشہ نشین ہوگئے اور باہر نہیں نکلے۔
یہ دور بنو امیہ اور بنو عباس کے حکمرانوں کا تھا کہ جہاں آئمہ اہلبیت اطہار کا نام نہیں لیا جاسکتا تھا۔ بنو عباس نے اہل بیت کے نام پر حکومت پر قبضہ کرلیا اور پھر چن چن کے ایک ایک اہل بیت کے امام اور اہل بیت کے محب کو شہید کیا۔ بنو عباس کا تعلق چونکہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا حضرت عباس بن عبدالمطلب کے ساتھ تھا لہذا اس تعلق کی وجہ سے یہ آئمہ کرام ان سے بھی محبت کرتے۔ ان کے ایمان اور محبت و مودت کا عالم یہ تھا کہ بنو عباس اُن پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتے مگر یہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان کے ساتھ اُن کو حاصل نسبت کی وجہ سے معاف کردیتے۔ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کو عباسی خلیفہ جعفر بن سلیمان عباسی کے حکم پر جب کوڑے مارے جاتے تو آپ بے ہوش ہوجاتے، جب ہوش آتا تو کہتے:
اَعُوْذُ بِاللّٰهِ وَاللّٰه مَاارْتَفَعَ مِنْهَا سَوْطٌ عَنْ جِسْمِيْ اِلَّا وَاَنَا اجعله فِيْ حِلٍّ من ذٰالِکَ الْوَقْت لقرابته من رسول الله..
لوگو گواہ ہوجاؤ! باری تعالیٰ میں نے کوڑے مارنے اور مروانے والے کو معاف کردیا۔ جوں ہی ہوش آتا؟ پہلا جملہ یہی بولتے کہ میں نے معاف کردیا، پھر کوڑے لگتے، پھر کوڑے کھا کھا کر بے ہوش ہوجاتے۔ مگر ہوش میں آتے ہی انہیں معاف کردیتے۔
پس آپ کی بیت بھی شہزادہ خاندانِ حسنین علیہ السلام حضرت امام محمد ذوالنفس ذکیہ شہید علیہ السلام سے ہے۔ پس آپؓ نے اور امام اعظم ابو حنیفہؓ نے حضرت ذوالنفس ذکیہ شہید علیہ السلام کی حمایت اور رفاقت اور لوگوں کو ان کی بیت کرنے کا بھی فتوا دیا جیسا کہ الترمذي : الجامع الكبير : تحقيق : بشار عواد و الترمذي : الجامع الكبير، تحقيق : شعيب الأنؤوط میں مرقوم ہے۔

اور فیضِ علم آپ نے اور دیگر ائمہ اہل سنت نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے حاصل کیا ہے۔ جیسا کہ ابن تیمیہ لکہتے ہیں:

فإن جعفر بن محمد لم يجيء بعد مثله وقد أخذ العلم عنه هؤلاء الأئمة كمالك وابن عيينة وشعبة والثوري وابن جريج ويحيى بن سعيد وأمثالهم من العلماء المشاهير الأعيان.
 بیشک جعفر بن محمد [ امام جعفر صادق علیہ السلام ] کے بعد ان کے مثل کوئی نہیں آیا،اور اھل سنت کے بہت سے ائمہ و بزرگ علماء
جیسے:مالک،سفیان بن عینیہ،اورشعبہ،{ سفیان} ثوری،ابن جریج ویحیی بن سعید اوراس طرح دوسرے مشھورومعروف بزرگ علماء نے امام صادق علیہ السلام سےعلم حاصل کیا ہے۔

(ابن تيميه الحراني الحنبلي، ابوالعباس أحمد عبد الحليم (متوفاى ۷۲۸ هـ)، منهاج السنة النبوية، ج ۴ص ۱۲۶ ، تحقيق: د. محمد رشاد سالم، ناشر: مؤسسة قرطبة، الطبعة: الأولى، ۱۴۰۶هـ)

📚 ماخز از کتاب چراغ خضر۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s