Taleemat e Ameer r.a 28

** تعلیمات امیر (Taleemat e Ameer r.a)
** اٹھائسواں حصہ (part-28)

سلسلہ قادریہ بھی آگے چل کر امام علی رضا کے ساتھ ملتا ہے۔ امام معروف کرخی، امام علی رضا کے ہاتھ پر توبہ کرکے ان کے مرید اور خلیفہ ہوئے ہیں۔ یہ طریق ولایت آئمہ اطہار اہل بیت کے ذریعے امام علی رضا، امام موسیٰ کاظم سے ہوتا ہوا امام جعفر صادق تک جاتا ہے۔ الغرض ولایت حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر کی خیرات ہے۔ اگر آپ طعنوں سے ڈرتے ہیں تو پھر آپ اہل سنت والجماعت نہیں ہیں۔ محبت اور مودت اہل بیت کو اپنے اندر زندہ کریں۔ یہ صرف اہل تشیع کا شعار نہیں ہے بلکہ یہ اہل سنت کا بھی ایمان ہے، کل امت کا ایمان ہے۔ کوئی بھی مکتب فکر ہو، خواہ شیعہ ہو یا سنّی ہو، جس کی نسبت تاجدار کائنات صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہے، جو صاحب ایمان ہے وہ آقا صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اہلبیت کے ساتھ محبت کئے بغیر مومن رہ ہی نہیں سکتا۔ پس محبت و مودت اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایمان کے کامل ہونے اور مقدر کے بام عروج پر پہنچ نے کی نشانی ہے جو صرف حلال ذادوں کے حصّہ میں آتی ہے۔

📚 ماخذ از کتاب چراغ خضر۔

سوانح حیات حضور غوث العاظم دستگیر

سوانح حیات حضور غوث العاظم دستگیر ؒ ۔
✍️ از قلم سید قطب الدین محمد عاقب الحسنی الحسینی القطبی غفی عنہ

  • آپ کی ولادت با سعادت:۔
    ملک عراق کے صوبہ طبرستان کے علاقہ گیلان یا جیلان کے نحیف نامی قصبہ میں سادات خاندان میں ہوئی۔ جس کی وجہ سے آپ جیلانی یا گیلانی کے لقب سے ملقب ہوئے۔
    ایک روایت میں آپ کی پیدائش انتیس شعبان المعظم ۴۷۱ ؁ھ میں ہے۔ لیکن آپ کی صحیح تاریخ پیدائش یکم رمضان المبارک ۴۷۱ ؁ھ بوقت شب ہے۔
  • والدین شریفین:۔
    آپکے والد بزرگوار کا اسم شریف حضرت محمد الوارد ہے ابو صالح موسیؒ آپ کی کنیت ہے اور جنگی دوست آپ کا لقب ہے اس لئے کہ آپ ہمیشہ اپنے نفس کے ساتھ جنگ کیا کرتے تھے۔ آپ سادات بنی حسن ال مجتبی علیہ السلام سے ہیں۔ اور حضرت سرکار امام عبداللہ ال محض ال کامل علیہ السلام کی اولادوں میں سے ہیں۔ حضور غوثِ اعظم کی والدہ ماجدہ کا اسم گرامی قدر سیّدہ فاطمہ ام الخیر امت الجبار تھا جو خاندان سادات جعفری سے تھیں۔
  • آمد بغداد:۔
    سیّدنا غوث اعظمؒ کی جب عمر شریف ۴۸۸ ؁ھ میں کم و بیش اٹھارہ سال کی ہوئی تو آپ نے حصولِ علم کے لئے بغداد جانے کی خواہش اپنی والدہ محترم ام الخیر امتہ الجبار سیّدہ فاطمہ کے گوش گزار کی۔ بغداد جیلان سے کم و بیش چار سو میل کی دوری پر واقع ہے۔ اس طویل سفر میں ہزارہا صعوبتیں اور خطرات پنہاں تھے۔ لیکن جس عزم کا اظہار سیّدنا سیّد عبد القادر نے کیا۔ آپ کی والدہ محترمہ جو پاک باطن کی مالک تھیں۔ اپنے فرزند ارجمند کو کیسے روک سکتی تھیں۔ چنانچہ سیّدنا غوثِ اعظم اپنی والدہ محترمہ سے رخصت ہو کر بغداد جانے والے قافلے کے ہمراہ ہو لئے۔ قافلہ ہمدان تک تو بخیریت پہنچ گیا لیکن جب ہمدان سے آگے ترتنک کے سنسان کوہستانی علاقہ میں پہنچا تو ساٹھ قزاقوں کے ایک جتھے نے قافلے پر حملہ کر دیا۔ اس جتھے کے سردار کا نام احمد بدوی تھا۔ قافلہ کے لوگوں میں ان خوںخوار قزاقوں کے مقابلہ کی سکت نہ تھی۔ قزاقوں نے قافلہ کا تمام مال و اسباب لوٹ لیا۔ اتفاقاً ڈاکوؤں کی نظر سیّدنا غوث اعظم پر پڑی۔ انہوں نے آپ سے پوچھا۔ کیوں لڑکے تیرے پاس کچھ ہے۔ آپ نے بلا خوف و ہراس جواب دیا۔ میرے پاس چالیس دینار ہیں۔ ڈاکو آپ کو پکڑ کر اپنے سردار کے پاس لے گئے۔ آپ نے وہی جواب ڈاکوؤں کے سردار کو بھی دیا۔اور اپنی گڈری پھاڑ کر چالیس دینار ان کے حوالے کرتے ہوئے فرمایا کہ میری ماں کا حکم تھا کہ جھوٹ نہ بولنا۔ سچ کا دامن کبھی نہ چھوڑنا۔ چنانچہ تمام قزاق یہ کہتے ہوئے آپ کے قدموں میں گر پڑے کہ ہم نے اتنے سال عہد اللہ تعالیٰ کو توڑا ہے قزاقوں نے قافلے کا لوٹا ہوا سامان واپس کیا اور ڈاکہ زنی سے توبہ کی۔
  • مجاہدات و ریاضات:۔
    شیخ احمد بن ابو کِبر حریمی فرماتے ہیں کہ سیّدنا غوثِ اعظم نے فرمایا میں پچیس سال تک تن تنہا عراق کے بیابانوں اور ویرانوں میں چلتا رہا۔ نہ ہی لوگ مجھے جانتے تھے اور نہ میں کسی کو جانتا تھا۔ البتہ جنات رجال الغیب علمِ طریقت کی تعلیم حاصل کرتے۔
    شیخ ابو القاسم عمر بن مسعود فرماتے ہیں کہ سیّدنا غوثِ اعظم نے فرمایا ابتدائے سیاحت میں مجھ پر بہت احوال طاری ہوتے تھے۔ میں اپنے وجود سے غائب ہو جاتا اور اکثر اوقات بیہوشی میں دوڑا کرتا تھا۔ جب وہ حالت مجھ سے اٹھ جاتی تو میں اپنے آپ کو ایک دور دراز مقام میں پاتا تھا۔
    شیخ ابو العباس احمد بن یحییٰ بغدادی فرماتے ہیں کہ سیّدنا غوثِ اعظم نے فرمایا کہ میں چالیس سال عشا کے وضو سے صبح کی نماز پڑھتا رہا اور پندرہ سال ساری ساری رات ایک پاؤں پر کھڑے ہو کر صبح تک پورا قرآن مجید فی شب ختم کرتا رہا۔
    شیخ ابو العباس فرماتے ہیں کہ سیّدنا غوث اعظم نے فرمایا کہ میں برج عجمی (اس برج کا نام حضور غوث الاعظم کے طویل قیام کی وجہ سے برج عجمی ہو گیا تھا) گیارہ سال رہا۔ میں نے اس میں اللہ تعاظم و تعالیٰ سے عہد کیا کہ جب تک تو نہ کھلائے گا میں نہ کھاؤں گا نہ پیوں گا۔ اس عہد کے چالیس ایام بعد شیخ ابو سعید مخزومی نے فرمایا کہ مجھے اللہ تعاظم و تعالیٰ کا حکم ہے کہ میں اپنے ہاتھ سے آپ کو کھانا کھلاؤں۔
  • محی الدین کی وجہ تسمیہ:۔
    حضرت غوثِ اعظم ارشاد فرماتے ہیں کہ ایک یوم میں بغرضِ سیر و سیاحت شہر بغداد سے باہر ہو گیا۔ واپسی پر راستہ میں ایک آدمی بیمار زندگی سے لا چار۔ خستہ و خراب حال میرے سامنے آموجود ہوا۔ نحیف و ناتوانی کی حالت میں زمین پر گر پڑا اور اس نے التجا کی۔ یا سیّدی میری دستگیری کرو۔ اور میرے اس برے حال پر رحم فرما کر مسیحا نفس سے پھونک مارو تاکہ میری حالت درست ہو جائے۔ میں نے اس پر دم کیا۔ دم کرنا ہی تھا کہ وہ پھول کی مانند ترو تازہ ہو گیا اور اس کی لاغری کافور ہو گئی۔ جس میں فربی اور توانائی آگئی۔ بعد ازاں اس نے مجھ سے کہا۔ یا عبد القادر! مجھ کو پہچانتے ہو۔ میں نے کہا ہاں تو میرے نانا حضرت محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کا دین اسلام ہے۔ اس نے کہا: آپ نے درست فرمایا۔ اب مجھے اللہ تعاظم و تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ سے زندہ کیا ہے۔ آپ محی الدین ہیں۔ دین کے مجددِ اعظم اور اسلام کے مصلح اکبر ہیں۔ بعد ازاں میں شہر بغداد کی جامع مسجد میں گیا۔ جامع مسجد کے راستہ میں ایک شخص نے با آواز بلند کہا۔ یا سیّدی محی الدین۔ میں نے مسجد میں پہنچ کر دوگانہ نوافل شکرانہ اد کی۔ اور مسجد میں اپنے وظائف میں مصروف ہو گیا۔ بعد فراغتِ وظائف مسجد سے نکلا تو ایک بڑا ہجوم دو قطارو میں کھڑا ہو گیا۔ اور ہر ایک نے با آواز بلند محی الدین پکارنا شروع کیا۔ اس سے قبل مجھے کسی نے اس لقب سے نہیں پکارا تھا۔
  • تفویضِ سجّادہ:۔
    جناب شیخ ابو محمد بطامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ۔ کہ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے بوقت شہادت اپنا سجّادہ ایک معتمد بزرگ کے حوالے کرکے وصیت فرمائی تھی کہ پانچویں صدی کے آخری میں اولاد امام حسن علیہ السلام سے ایک بزرگ سیّد عبد القادر بن موسیٰ تولد ہوں گے۔ یہ سجّادہ ان کے لئے ہے ان کے ظہور تک ایک دوسرے سے منتقل ہوتا ہوا ان کے پاس پہنچنا چاہیئے۔ چنانچہ وہ سجّادہ حضور غوثیت مآب کے ظہور تک امانتاً منتقل ہوتا رہا۔ آخر ماہ شوال ۴۹۷ ؁ھ میں ایک عارف نے حضور غوثِ اعظم کی خدمت میں پیش کیا۔
  • آپ کی کرامات:۔
    سیّدنا غوث اعظم السیّد عبد القادر جیلانی الحسنی قدس سرہ عزیز کی لا تعداد و بے شمار کرامات ہیں۔ چنانچہ شیخ علی بن ابی نصرالہیتی نے ۵۶۲ ؁ھ میں فرمایا۔ میں نے اپنے اہل زمانہ میں سے کسی کو حضور غوثِ اعظم سے بڑھ کر صاحبِ کرامت نہیں دیکھا۔ جس وقت کوئی شخص آپ کی کرامت دیکھنے کی خواہش کرتا تو دیکھ لیتا۔ اور کرامت بھی آپ سے ظاہر ہوتی۔
    شیخ ابو عمر عثمان صریفینی کا قول ہے کہ سیّدنا غوث اعظم کی کرامات سلکِ مروارید کی مثل تھیں جس میں یکے بعد دیگرے لگاتار موتی ہوں۔ اگر ہم میں سے ہر یوم کوئی شخص کوئی کرامات دیکھنا چاہتا تو دیکھ لیتا۔ شیخ عزیز الدین بن عبد الاسلام اور امام نووی فرماتے ہیں۔ کرامات سیّد غوثِ اعظم بہت کثرت سے ہیں۔
    مندرجہ بالا اولیا اللہ کے اقوال سے ظاہر ہے کہ سیّدنا غوث اعظم نے لا تعداد و بیشمار کرامات کیں۔

صلٰوۃ الغوثیہ
اِذَاسَءَلْتُمُ اللّٰہَ فَاسْءَلُوْہُ بِیْ وَقَالَ مَنِ اسْتَغَاثَ بِیْ فِیْ کُرْبَۃٍ کُشِفَتْ عَنْہٗ وَ مَنَ نَادَانِیْ بِاِسْمِیْ فِیْ شِدَّۃٍ فُرِجَتْ عَنْہ‘ وَ مَنْ تَوَسَّلَ بِیْ اِلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَ فِیْ حَاجَۃِ قُضِیَتْ لَہٗ وَ مَنْ صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ یَقْرَءُ فِیْ کُلِّ رَکْعَۃٍ بَعْدَ الْفَاتِحَۃِ سُوْرَۃَ الْاِخْلَاصِ اِحْدَیٰ عَشْرَۃَ مَرَّۃً ثُمَّ یُصَلِّی عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ بَعْدَ السَّلَامِ وَ یُسَلِّمُ عَلَیْہِ وَ یَذْکُرُنِی ثُمَّ یَخْطُوْ اِلٰی جِھَۃِ الْعِرَاقِ اِحْدَیٰ عَشْرَۃَ خُطْوَۃً یَذْکُرُ فِیْھَا اِسْمِیْ
جب خدا سے سوال کرو تو میرے وسیلہ سے سوال کرو۔ اور فرمایا جو کسی تکلیف میں مجھ سے فریاد کرے۔ وہ تکلیف رفع ہو اور جو کسی سختی میں میرا نام لے کر ندا کرے وہ سختی دور ہو اور جو کسی حاجت میں اللہ تعالیٰ کی طرف مجھ سے توسل کرے وہ ہاجت برآئے۔ اور جو دو رکعت نماز ادا کرے۔ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد گیارہ بار سورۂ اخلاص پڑھے۔ پھر سلام پھیر کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم پر درود و سلام بھیجے او رمجھے یاد کرے۔ پھر عراق (بغداد شریف) کی طرف گیارہ قدم چلے اور ان میں میرا نام لیتا جائے۔ اور اپنی حاجت یاد کرے۔ انشاءاللہ اس کی حاجت روائی ہوگی۔

  • سلسلہ نسب و بیعت و خلافت جدّیہ

(۱)- سیّدنا غوث الاعظم شیخ سید عبدالقادر جیلانی رحمت اللہ علیہ۔ آپ کی والدہ سیّدہ فاطمہ ام الخیر امت الجبار امام جعفر صادق علیہ السلام کی اولاد سے تھیں۔ آپ اپنے والد سیّدنا محمد الوارد عرف ابو صالح موسی سے بیعت ہوئے جن سے خلافت حسنیہ قطبیہ قادریہ و حسینیہ زیدیہ حاصل کیا۔

(۲)- سیّدنا محمد الوارد عرف ابو صالح موسی: آپ کی والدہ محمد العابِد بن امام موسی کاظمؑ کی اولاد سے تھیں۔ آپ حجاز سے ہجرت کر کے عراق آئے۔ آپ نے اپنے والد سیّدنا عبد اللہ سے بیعت و خلافت حاصل کی۔ مزار مبارک گیلان میں ہے۔

(۳)- سیّدنا عبد اللہ : حجاز میں آپ کی ولادت ہوئی۔ اپنے پدر بزرگوار حضرت سیدنا محمد سے بیعت ہو کر خلافت حاصل کی۔ مزار مبارک حجاز میں ہے۔

(۴)- سیّدنا محمد : آپ کی ولادت بھی حجاز میں ہوئی۔ اپنے والد سیدنا یحیی سے خلافت پائی۔ مزار مبارک بھی حجاز میں ہے۔

(۵)- سیّدنا یحییٰ : ۱۷ شعبان المعظم ۳۴۰ ؁ھ کو مدائن میں آپ کی ولادت ہوئی ۳۷۰ ؁ ھ میں اپنے والد مکرم حضرت محمد رومیہ سے خلافت پائی۔ مزار مبارک حجاز میں ہے۔

(۶)- سیّدنا محمد بابن رومیہ: آپ کی والدہ ام ولد رومیہ تھیں۔ ۱۲ رمضان المبارک ۲۹۹ ؁ھ میں مدینہ منورہ میں ولادت ہوئی۔ والدِ گرامی حضرت داؤد امیر سے ۳۴۹ ؁ھ میں بیعت ہو کر خلافت پائی۔ ۱۷ ربیع الاوّل ۴۱۵ ؁ھ مین رحلت فرمائی۔ قبر مبارک جنت البقیع میں ہے۔

(۷)- سیّدنا داؤد الامیر امجد: آپ کی والدہ محبوبہ بنت مزاحم الکلابیہ تھیں۔ آپ کی ولادت ۱۱ شعبان ۲۴۵ھ میں مدنیہ طیبہ میں ہوئی۔ ذی الحجہ ۲۷۷ ؁ھ میں اپنے والد ماجد حضرت موسیٰ ثانی سے خلافت پائی۔ مزار شریف آپ کا مکہ مکرمہ میں ہے۔

(۸)- سیّدنا ابو عمرو موسیٰ ثانی: ان کی والدہ امامۃ بنت طلحۃ بن صالح بنی فزارہ سے تھیں۔ ۶ محرم الحرام ۱۹۳ ؁ھ میں مدینہ منورہ میں ولادت ہوئی۔ ربیع الآخر ۲۳۸ ؁ھ میں والدِ مکرم عبد اللہ الرضا سے خلافت پائی۔ ماہ صفر ۲۵۶ ؁ھ میں شہید ہوئے۔ مزار مقدس سویقہ مدینہ طیبہ میں ہے۔

(۹)- سیّدنا ابو محمد عبد اللہ الرضا المعروف عبد الشیخ الصالح : ان کی والدہ ام سلمۃ بنت محمد بن طلحۃ اولاد ابی بکر صدیق ؓ سے تھیں۔ ۱۴ رمضان المبارک ۱۵۲ ؁ھ میں مدینہ طیبہ میں ولادت ہوئی ربیع الاوّل ۱۹۸ ؁ھ میں اپنے والد گرامی سے خلافت پائی۔ ماہ ربیع الاخر ۲۱۳ ؁ھ میں جمعہ کے دن وفات پائی۔ مرقد پاک مدینہ منورہ میں ہے۔

(۱۰)- سیّدنا موسیٰ الجون: ان کی والدہ ھند بنت ابی عبیدۃ ؓ تھیں۔ رجب ۱۰۳ ؁ھ میں مدینہ منورہ میں ولادت ہوئی۔ ۱۳۳ ؁ ھ میں سلسلہ حسنیہ قطبیہ و زیدیہ حسینیہ میں اپنے بڑے بھائی حضرت سیدنا امام محمد نفس زکیہ علیہ السلام سے بیت حاصل ہوئی۔ ماہ جمادی الآخر ۱۵۶ ؁ھ میں مدینہ طیبہ میں رحلت فرمائی۔ مزار مقدس اسی سر زمین پاک میں ہے۔

(۱۱)- سیّدنا عبد اللہ المحض: ان کی والدہ سیدہ فاطمہ بنت حضرت امام حسین علیہ السلام تھیں۔ ۱۱ ربیع الآخر بروز دو شنبہ ۷۰ ؁ھ میں مدینہ منورہ میں آپ کی ولادت ہوئی۔ شعبان المعظم ۹۲ ؁ھ میں والدِ ماجد حضرت حسن مثنیٰ سے خلافت پائی۔ ۱۸ رمضان المبارک ۱۴۵ ؁ھ میں وصال فرمایا۔ مرقدِ مبارک جنت البقیع میں ہے۔

(۱۲)- سیّدنا حسنِ مثنیٰ: ان کی والدہ خولہ بنت منظور بن زبّان فزاری الکوفی تھیں۔ ۱۲ رمضان ۲۹ ؁ھ میں آپ کی ولادت ہوئی۔ اپنے والد محترم سیّدنا امام حسن علیہ السلام سے ۴۵ ؁ھ میں خلافت پائی۔ ۱۷ رجب ۹۷ ؁ھ میں رحلت ہوئی۔ مزار شریف جنت البقیع میں ہے۔

(۱۳)- حضرت امام حسنِ مجتبےٰ علیہ السلام :۱۵ رمضان المبارک ۳ھ میں بروز پنج شنبہ مدینہ طیبہ میں ولادت ہوئی۔ جناب فاطمۃ الزہرا بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم آپ کی والدہ ماجدہ ہیں۔ ربیع اوّل ۳۵ ؁ھ والدِ ماجد حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے خلافت و امامت کا شرف پایا ۲۸ صفر ۴۵ ؁ھ میں جام شہادت نوش فرمایا۔

  • وصال و مزار :-
    آپ کا وصال ۹ /ربیع الثانی ۵۶۱ ؁ھ کو ہوا۔ اور آپ کا مزار مقدسہ بغداد میں مرجِ خلایق خاص و عام ہے۔
  • کلام در شان آلِ نبیؐ علیہم السلام ۔
    از قلم حضور سیدنا شيخ عبدالقادر جیلانیؓ-
    ( شرح دیوان غوث اعظم، از محمد علی چراغ)

غلام حلقه بگوشِ رسول و ساداتم
زهے نجات نمودن حبیب آیاتم

(میں رسول اکرم ﷺ اور جملہ سادات کا دست بستہ غلام ہوں۔ ہماری نجات کے لیے یہ کتنی محبوب نشانیاں موجود ہیں۔)

کفایت است ز روحِ رسول و اولادش
همیشه در دو جهاں جملۀ مهمّاتم

(رسالت مآب ﷺ اور آپؐ کی اولاد کی ارواح فتوح، دونوں جہاں کے امور کے لیے اور جملہ مہمات کے لیے کفایت کرنے والی ہیں۔)

ز غیر آلِ نبی حاجتے اگر طلبم
روا مداری کے از هزار حاجاتم

(اگر میں آلِ نبیؐ کے وسیلہ کے بغیر اپنے پروردگار سے مانگوں تو ایک ہزار حاجتوں میں سے ایک بھی حاجت پوری نہ ہو۔)

دلم ز حبِّ محمد پُر است و آلِ مجید
گواهِ حالِ منست ایں همه حکایاتم

(میرا دل حبِ محمدﷺ اور آپؐ کی برگزیدہ آل کی محبت سے معمور ہے۔ میرا حال اور کیفیت میرے اس فلسفے اور عقیدت پر گواہ ہے۔)

چوں ذرّه ذرّه شود ایں تنم بخاکِ لحد
تو بشنوی صلوات از جمیع ذرّاتم

(جب قبر میں میرا تن خاک میں ذرہ ذرہ ہو جائے گا تو اے دنیا والو! تم میرے جسم کے تمام ذرات خاکی سے صلوٰۃ کی آوازیں سنو گے۔)

غلامِ خادمِ خدامِ خاندانِ تو ام
ز خادمی تو دانم بود مهاباتم

(یا نبی اللہ! میں آپؐ کے خاندان کے خادموں کے خادم کا بھی غلام ہوں۔ مجھے جو یہ عظیم الشان رتبہ ملا ہے وہ اسی غلامی کے باعث ملا ہے۔)

سلام گویم و صلوات با تو هر نفسے
قبول کن بکرم ایں سلام و صلواتم

(یا نبی اللہ! میں ہر سانس کے ساتھ اور ہر دم آپؐ پر درود و سلام پڑھتا ہوں۔ اسے از راہِ لطف و کرم قبول فرما لیجئے۔)

گناه بے حد من بیں تو یا رسول اللّٰه!
شفاعتے بکن و محو کن خیالاتم

(یا رسول اللہ! میرے گناہ بے حد و حساب ہیں، میں ان پر نادم اور پشیمان ہوں۔ آپ ہی میری شفاعت کیجئے اور میری پریشانیوں کو ختم کیجئے۔)

ز هر که بدتر ازو نیست من ازو بترم
ندانم اینکه بتو چوں شور ملاقاتم

(میں اپنے آپ کو ہر بدتر انسان سے بھی برا سمجھتا ہوں۔ نادم ہوں کہ آپؐ سے ملاقات پر کس طرح منہ دکھاؤں گا۔)

ز نیک و بد همه داند که من محمدی ام
خلائقے که کند گوش بر ملاقاتم

(ہر اچھا اور برا آدمی جانتا ہے کہ میں محمدی ہوں۔ رسالت مآب ﷺ کا غلام ہوں۔ اسی لیے ملاقات پر لوگ میری باتوں پر توجہ دیتے ہیں۔)

بگوئی محؔی که بهرِ نجات می گویند
درودِ سرورِ کونین در مناجاتم

(اے محی الدین! اپنی مناجاتوں میں تم بھی سرورِ کونینﷺ پر درود و سلام پڑھو، کیونکہ دیگر لوگ بھی مشکلات سے نجات کی خاطر یہی درود ہی پڑھتے ہیں۔

  • غنیۃ الطالبین آپ کی تصنیف نہیں ہے۔ بحوالہ کتاب تاریخ سادات امروہہ ۔

Taleemat e Ameer r.a 27

** تعلیمات امیر ( Taleemat e Ameer r.a)
** ستائسواں حصہ (part-27)

آج کچھ فتنہ پرور ملا ہیں جن کا ایجنڈا خارجیت کو فروغ دینا ہے، جن کا ایجنڈا محبت و ادبِ رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اور محبت آل بیت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ختم کرنا ہے۔ اگر وہ اہل بیت کے ذکر اور ذکر حسین کا طعنہ دیتے ہیں اور پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ تم شیعہ ہوگئے تو ان کے پروپیگنڈہ پر لعنت ہوگی، قیامت کے دن مواخذہ ہوگا، ہمیں کسی کے پروپیگنڈے سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ کیا مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ محبت کی نسبت اور اہل بیت کے ساتھ تعلق کی پختگی میں ہمارا ایمان اتنا کمزور ہوگیا ہے؟ کہ کسی کے پروپیگنڈہ کے ڈر سے چپ کرکے بیٹھ جائیں! اور مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد کے ذکر کو چھوڑ دیں۔ جب امام مالک نے کوڑے کھاکر ان کی محبت کی راہ نہیں چھوڑی۔۔۔ امام اعظم کا جنازہ جیل سے اٹھا مگر مودت نہیں چھوڑی۔۔۔ امام شافعی پر رافضی۔ شیعہ ہونے کی تہمت لگی مگر مودت نہیں چھوڑی۔۔۔ امام احمد بن حنبل نے کوڑے کھائے فتوی دیا، محبت نہیں چھوڑی۔۔۔ تو پھر ہم کیوں اہل سنت والجماعت کا اپنا طریق چھوڑتے ہیں۔ کل اولیاء، ابدال، قطب، غوث اور ولی محبتِ و مؤدتِ اہل بیت میں ڈوبا ہوا تھا۔ کوئی ولی مرتبہ ولایت کو نہیں پہنچتا جب تک اس کی ولایت کو سیدہ کائنات فاطمۃ الزہرائ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی توثیق نہیں ملتی۔۔۔ کوئی ولی شان ولایت کو نہیں پاتا جب تک مولا علی شیر خدا کی مہر نہیں لگتی کیونکہ وہ فاتح الولایت اور امام ولایت ہیں۔

📚 ماخذ از کتاب چراغ خضر۔