Taleemat e Ameer 18

** تعلیمات امیر ( Taleemat e Ameer r.a )
** اٹھارہواں حصہ ( part-18)

پس فقیر اب ان بارہ (۱۲) ائمہ اہل بیت علیہ السلام کے ذکر سے ان حروف و اوراق کو منور و مجلہ کرتا ہے جن کے ضیا گوہربار سے آفتاب و مہتاب اور قائنات کی ہر شے روشن و تاباں ہے۔ اور جن کے گرد راہ سے علم حکمت کا سر چشمہ ہر خاص و عام کے لیے فیض رساں ہے۔
اہل البیت :- اہلِ بیت عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی “گھر والے ” کے ہیں۔ انہیں پنج تن پاک بھی کہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کفار سے مباہلہ کرنے کے لیے نکلے تو یہی حضرات آپ کے ساتھ تھے۔ ایک دفعہ آپ نے ان حضرات کو اپنی چادر میں لے کر فرمایا (اے اللہ، یہ میرے اہل البیت ہیں۔)
اہل البیت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صاحبزادی فاطمۃ الزھرا سلام اللہ علیہ ، آپ کے چچا زاد اور داماد حضرت علیؑ اور ان کے صاحبزادے حضرت امام حسنؑ اورحضرت امام حسینؑ شامل ہیں۔ یہ تمام افراد اصحاب کساء کے نام سے بھی مشہور ہیں۔

اثناعشریہ:-
(یعنی بارہ امام)، اثناعشریہ کی اصطلاح بارہ ائمہ کی طرف اشارہ کرتی ہے جن کا سلسلہ محمد صلی اللہ علیہ سے شروع ہوتا ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد ان کے جانشین امام علی علیہ السلام ہیں اور کل بارہ امام ہیں جن کا تذکرہ احدیث میں آتا ہے۔ کم و بیش تمام مسلمان ان ائمہ کو اللہ کے نیک بندے مانتے ہیں تاہم اثنا عشریہ اہل تشیع ان ائمہ پر اعتقاد کے معاملہ میں خصوصی شہرت رکھتے ہیں۔ ان بارہ ائمہ کے نام یہ ہیں :۔
حضرت علی علیہ السلام، حضرت حسن علیہ السلام، حضرت حسین علیہ السلام، حضرت زین العابدین علیہ السلام، حضرت محمد ال باقر علیہ السلام، حضرت جعفر صادق علیہ السلام، حضرت موسی کاظم علیہ السلام، حضرت علی رضا علیہ السلام، حضرت محمد تقی علیہ السلام، حضرت علی نقی علیہ السلام، حضرت حسن عسکری علیہ السلام
اور آخری امام حضرت امام محمد ال مہدی حسنی حسینی علیہ السلام۔
مسلمانوں کی بہت ساری کتب میں بارہ خلفا کا ذکر موجود ہے کہ رسولﷲ کے بعد بارہ جانشین ہونگے۔ سرکار علیہ السلام نے فرمایا: ‘نقبائے بنی اسرائیل کی طرح میری امت کے بھی بارہ خلیفہ ہونگے’۔
۔,,…عن عبد الملک؛ سمعت جابر بن سمرة ؛قال: سمعت النبیؐ یقول: یکون اثناعشرا امیرا، فقال کلمة، لم اسمعها، فقال ابی: انه قال: کلهم من قریش“-
عبد الملک نے جابر بن سمرہ سے نقل کیا ھے:
میں نے رسول خداؐ سے سنا : آپ نے فرمایا: میرے بعد میرے بارہ امیر و خلیفہ ہوں گے، جابر کھتے ھیں : دوسرا کلمہ میں نے ٹھیک سے نھیں سنا جس میں آنحضرتؐ نے ان بارہ خلفاء کے بارے میں بتلایا تھا کہ وہ کس قبیلہ سے ہوں گے، لیکن بعد میں میرے پدر بزگوار نے مجھ سے کھا: وہ جملہ جو تم نے نھیں سنا وہ یہ تھا کہ وہ تمام خلفاء قریش سے ہوں گے۔

مسلم نے بھی اس حدیث کو آٹھ سندوں کے ساتھ اپنی کتاب میں نقل کیا ہے اور ا ن میں سے ایک حدیث میں اس طرح آ یا ہے:
”…جابر بن سمرة؛ قال:انطلقتُ الی رسول اللّٰہؐ ومعی ابی، فسمعته، یقول: لایَزَالُ هذَا الدین عَزِیزاً مَنِیعاً اِلیٰ اِثْنیٰ عَشَرَ خلیفة،ً قال کلمة ،صَمَّنِیْها الناس،ُ فقلتُ لابی ما قال؟ قال :کلهم من قریش“.

جابر بن سمرہ کھتے ھیں :
ایک مرتبہ میں اپنے والد بزرگوار کے ساتھ خدمت رسول خداؐ میں مشرف ہوا تو میں نے رسولؐ سے سنا :آپ فرما رہے تھے: یہ دین الہٰی بارہ خلفاء تک عزیز اور غالب رہے گا،اس کے بعد دوسرا جملہ میں نہ سن سکا کیونکہ صدائے مجلس سننے سے حائل ہوگئی تھی، لیکن میرے پدر بزرگوار نے کھا :وہ جملہ یہ تھا:یہ تمام بارہ خلفاء قریش سے ہوں گے۔ اس حدیث کومختلف مضامین کے ساتھ اہل سنت کی اہم کتابوں میں کثرت کے ساتھ نقل کیا گیا ہے۔ یکون فی آخر الزمان خلیفة یقسم المال ولا یعده۔

جابر بن عبد اللہ اور ابوسعید نے رسول اکرمؐ سے نقل کیا ہے :
آپؐ نے ارشاد فرمایا: آخری زمانہ میں میرا ایک جانشین و امام ہوگا جو مال و ثروت کو( ناپ و تول کے ساتھ ) تقسیم کرے گا نہ کہ گنے گا۔

📚 ماخذ از کتاب چراغ خضر۔