Taleemat e Ameer 25

** تعلیمات امیر (Taleemat e Ameer r.a)
** پچیسواں حصہ (part-25)

اور امام شافعی جن کا پورا نام محمد بن ادریس شافعی ؓ تھا انہوں نے حضرت امام اعظم ابو حنیفہؓ اور حضرت امام مالکؓ سے فیض علم اخذ کیا۔ پس وہ اہل بیت نبویؐ کی محبت میں ان اشعار سے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ ۔

“سحر کو جب حجاج مزدلفہ سے منیٰ کی طرف وادی کے سیلاب کی طرح اُمڈتے ہیں اے سوارتم وادی محصب میں ٹھہر کر ہر کوچ کر جانے والے اور قیام کرنے والے کو پکارو اور کہو کہ اگر آل رسول کی محبت رفض ہے تو دوجہاں گواہ رہیں کہ میں رافضی ہوں۔ “
(قاضی عیاض المالکی: ترتیب المدارک، جلد ۱
صفحہ ۳۹۰)

پس امام شافعیؓ پر اہل بیت کی محبت و مؤدت کی وجہ سے ملاؤں نے شیعہ اور رافضی ہونے کے فتوے اور تہمت لگائی تو آپ نے ارشاد فرمایا۔
اِنْ کَاْن رَفْضًا حُبُّ آلِ مُحَمَّدٍ
فَلْيَشْهَدِ الثَّقَلاَن اَنِّيْ رَافِضٌ

’’اگر آل محمد سے محبت کرنے کا نام رافضی۔ شیعہ ہوجانا ہے تو سارا جہان جان لے کہ میں شیعہ ہوں‘‘۔

حضرت امام شافعی نے اپنے دیوان میں شان اہل بیت میں رباعی لکھی جو اس طرح ہے کہ ۔
يَا آلَ بَيْتِ رَسُوْلِ اللّٰهِ حُبُّکُمْ
فَرْضٌ مِّنَ اللّٰهِ فِی الْقُرْآنِ اَنْزَلَهُ

’’اے اہل بیت رسول تمہاری محبت اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرض کردی ہے اور اس کا حکم قرآن میں نازل ہوا ہے‘‘۔

يَکْفِيْکُمْ مِنْ عَظِيْمِ الْفَخْرِاَنَّکُمْ
مَنْ لَمْ يُصَلِّ عَلَيْکُمْ لَا صَلاَة لَهُ

’’اے اہل بیت تمہاری عظمت اور تمہاری شان اور تمہاری مکانت کی بلندی کے لئے اتنی دلیل کافی ہے کہ جو تم پر درود نہ پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی‘‘۔

📚 ماخذ از کتاب چراغ خضر۔