Taleemat e Ameer 24

** تعلیمات امیر (Taleemat e Ameer r.a)
** چوبیسواں حصہ (part-24)

نیز خير الدين زرکلي،{ بزرگ عالم اھل سنت } لکھتے ہیں :

جعفر بن محمد الباقر بن علي زين العابدين بن الحسين السبط، الهاشمي القرشي، أبو عبد الله، الملقب بالصادق: سادس الأئمة الاثني عشر عند الإمامية. كان من أجلاء التابعين. وله منزلة رفيعة في العلم. أخذ عنه جماعة، منهم الإمامان أبو حنيفة ومالك. ولقب بالصادق لأنه لم يعرف عنه الكذب قط. له أخبار مع الخلفاء من بني العباس وكان جريئا عليهم صداعا بالحق.

جعفر بن محمد باقر بن علي زين العابدين بن حسين [ علیھم السلام ] رسول خدا  صلي الله عليه وآله وسلم کے نواسہ، اور ھاشمی و قرشی تھے ان کی کنیت ابا عبد اللہ تھی اور لقب صادق تھا وہ شیعوں کے { بارہ اماموں میں } چھٹے امام ہیں ان کا شمار، بزرگ تابعین میں ھوتا ہے ۔

اور وہ علم و دانش کے بلند مرتبہ کے مالک ہیں، { علماء و اساتذہ کی }  ایک بڑی جماعت نے ان سے علم حاصل کیا ان میں منجملہ اہل سنت کے دو امام : امام ابو حنیفہ اور امام مالک ہیں۔ اور ان کا لقب، صادق اس لئے ھے کہ ھرگز کسی نے کبھی ان سے جھوٹ نھیں سنا اور ان سے متعلق خبروں میں آیا ہے کہ وہ کلمہ حق کی سربلندی کے لئے مستقل خلفاء بنی عباس سے برسرپیکار  تھے۔

الزركلي، خير الدين (متوفاي۱۴۱۰هـ)،‌ الأعلام، ج ۲ ص ۱۲۶ ، ناشر: دار العلم للملايين – بيروت – لبنان، چاپ: الخامسة، سال چاپ : أيار – مايو ۱۹۸۰ طبق برنامه مكتبه اهل البيت عليهم السلام.

📚 ماخذ از کتاب چراغ خضر۔

Taleemat e Ameer 23

** تعلیمات امیر (Taleemat e Ameer r.a)
** تیئسواں حصہ (part-23)

امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کو اہل بیت اطہار سے شدید محبت و مودت تھی۔ حضرت امام جعفر الصادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسی ہستیوں کے پاس اگر کوئی مسئلہ پوچھنے جاتا تو فرماتے:
اِذْهَبْ اِلٰی مَالِک عِنْدَهُ عِلْمُنَا.
’’مالک کے پاس چلے جاؤ، ہم اہل بیت کا علم اس کے پاس ہے‘‘۔
آپ کل آئمہ اہل بیت کے شاگرد تھے اور ان کی محبت و مودت میں فنا تھے۔ ایک طلاق کے مسئلے کو بہانہ بناکر بنو عباس کے حکمرانوں نے ان کو محبت و مودتِ اہل بیت کی سزا دی۔ یہاں تک کہ ان کے سر اور داڑھی کو مونڈھ دیا اور سواری پر بٹھا کر مدینے کی گلیوں میں گھمایا اور حکم دیا کہ سب کو بتاؤ کہ میں امام مالک ہوں۔ آپ کہتے جاتے: جو مجھے پہچانتا ہے پہچان لے کہ میں کون ہوں اور جو مجھے اس حال میں دیکھ کر نہیں پہچان رہا وہ جان لے کہ میں مالک بن انس ہوں۔ اس واقعہ کے بعد آپ ۲۵ سال تک گھر میں گوشہ نشین ہوگئے اور باہر نہیں نکلے۔
یہ دور بنو امیہ اور بنو عباس کے حکمرانوں کا تھا کہ جہاں آئمہ اہلبیت اطہار کا نام نہیں لیا جاسکتا تھا۔ بنو عباس نے اہل بیت کے نام پر حکومت پر قبضہ کرلیا اور پھر چن چن کے ایک ایک اہل بیت کے امام اور اہل بیت کے محب کو شہید کیا۔ بنو عباس کا تعلق چونکہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا حضرت عباس بن عبدالمطلب کے ساتھ تھا لہذا اس تعلق کی وجہ سے یہ آئمہ کرام ان سے بھی محبت کرتے۔ ان کے ایمان اور محبت و مودت کا عالم یہ تھا کہ بنو عباس اُن پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتے مگر یہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان کے ساتھ اُن کو حاصل نسبت کی وجہ سے معاف کردیتے۔ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کو عباسی خلیفہ جعفر بن سلیمان عباسی کے حکم پر جب کوڑے مارے جاتے تو آپ بے ہوش ہوجاتے، جب ہوش آتا تو کہتے:
اَعُوْذُ بِاللّٰهِ وَاللّٰه مَاارْتَفَعَ مِنْهَا سَوْطٌ عَنْ جِسْمِيْ اِلَّا وَاَنَا اجعله فِيْ حِلٍّ من ذٰالِکَ الْوَقْت لقرابته من رسول الله..
لوگو گواہ ہوجاؤ! باری تعالیٰ میں نے کوڑے مارنے اور مروانے والے کو معاف کردیا۔ جوں ہی ہوش آتا؟ پہلا جملہ یہی بولتے کہ میں نے معاف کردیا، پھر کوڑے لگتے، پھر کوڑے کھا کھا کر بے ہوش ہوجاتے۔ مگر ہوش میں آتے ہی انہیں معاف کردیتے۔
پس آپ کی بیت بھی شہزادہ خاندانِ حسنین علیہ السلام حضرت امام محمد ذوالنفس ذکیہ شہید علیہ السلام سے ہے۔ پس آپؓ نے اور امام اعظم ابو حنیفہؓ نے حضرت ذوالنفس ذکیہ شہید علیہ السلام کی حمایت اور رفاقت اور لوگوں کو ان کی بیت کرنے کا بھی فتوا دیا جیسا کہ الترمذي : الجامع الكبير : تحقيق : بشار عواد و الترمذي : الجامع الكبير، تحقيق : شعيب الأنؤوط میں مرقوم ہے۔

اور فیضِ علم آپ نے اور دیگر ائمہ اہل سنت نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے حاصل کیا ہے۔ جیسا کہ ابن تیمیہ لکہتے ہیں:

فإن جعفر بن محمد لم يجيء بعد مثله وقد أخذ العلم عنه هؤلاء الأئمة كمالك وابن عيينة وشعبة والثوري وابن جريج ويحيى بن سعيد وأمثالهم من العلماء المشاهير الأعيان.
 بیشک جعفر بن محمد [ امام جعفر صادق علیہ السلام ] کے بعد ان کے مثل کوئی نہیں آیا،اور اھل سنت کے بہت سے ائمہ و بزرگ علماء
جیسے:مالک،سفیان بن عینیہ،اورشعبہ،{ سفیان} ثوری،ابن جریج ویحیی بن سعید اوراس طرح دوسرے مشھورومعروف بزرگ علماء نے امام صادق علیہ السلام سےعلم حاصل کیا ہے۔

(ابن تيميه الحراني الحنبلي، ابوالعباس أحمد عبد الحليم (متوفاى ۷۲۸ هـ)، منهاج السنة النبوية، ج ۴ص ۱۲۶ ، تحقيق: د. محمد رشاد سالم، ناشر: مؤسسة قرطبة، الطبعة: الأولى، ۱۴۰۶هـ)

📚 ماخز از کتاب چراغ خضر۔