Taleemat e Ameer 21

** تعلیمات امیر ( Taleemat e Ameer r.a)
** اکیسواں حصہ (part-21)

پس روۓ زمین پر مسلک اہل سنت والجماعت کے تمام اماموں نے ان ہی ائمہ اہل بیت علیہ السلام سے فیض علم اخذ کیا ہے۔ اور انہی کے جوتیوں کو سیدھا کرنے کی برکت سے انہیں وقت کی پیشوائی اور امامت حاصل ہوئی ہے۔ اور مؤدت اہل بیت کا مظاہرہ پیش کرکے ان برگزیدہ ہستیوں نے یہ ثابت کردیا ہے کہ سنیت اہل بیت کی محبت اور مؤدب کے بغیر خارجیت کے سوا کچھ بھی نہیں۔
آلوسی،اهل سنت کے مشھور علماء میں سے ہیں وہ اپنی کتاب«مختصر تحفة الاثني عشرية»کے مقدمہ میں ، ابو حنیفہؓ کی زبانی اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ
امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ اپنے استاد اور پیشوا حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں کہ لولا السنتان لهلك النعمان، يريد السنتين اللتين صحب فيهما لأخذ العلم الإمام جعفر الصادق – رضي الله تعالى عنه -. وقد قال غير واحد أنه أخذ العلم والطريقة من هذا ومن أبيه الإمام محمد الباقر ومن عمه زيد بن علي بن الحسين – رضي الله تعالى عنهم -.
اگردو سال امام صادق علیہ السلام کی شاگردی کے نہ ھوتے تو نعمان { یعنی میں ابو حنیفہ } ھلاک ھوجاتا – ابوحنیفہ کی دو سال سےمراد وہ دو سال ہیں کہ جس میں انھوں نےامام صادق [علیہ السلام ] سے کسب علم کیا، اور بہت سے لوگوں نے کہا ہے کہ ابو حنیفہ نے علم وطریقت، ان [یعنی امام صادق علیہ السلام ] سےاوران کے پدربزرگوار امام محمد باقر [علیہ السلام ] اوران کےعم، زید بن علی بن الحسین-علیھم السلام – سےحاصل کیا ہے ۔
(الألوسي، محمود شكري، مختصر التحفة الاثني عشرية، ص ۸)
علاوہ ازیں سیدنا امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کو درج ذیل آئمہ اہل بیت اطہار کے سامنے زانوئے تلمذ طے کرنے کا اعزاز حاصل ہوا:
امام زید بن علی (یعنی امام زین العابدین کے بیٹے اور امام حسین کے پوتے)
امام عبداللہ بن علی (یعنی امام زین العابدین کے بیٹے اور سیدنا امام حسین کے پوتے)
امام عبداللہ بن حسن المثنیٰ (امام عبداللہ الکامل)
امام محمد ذوالنفس زکیہ ابن عبداللہ الکامل
امام ابراہیم نفس رضیہ ابن عبداللہ الکامل
امام حسن المثلث (امام حسن مجتبیٰ کے پڑپوتے)
امام حسن بن زید بن امام حسن مجتبیٰ
حسن بن محمد بن حنفیہ (سیدنا علی شیرے خدا رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پوتے)
امام جعفر بن تمّام بن عباس بن عبدالمطلب (حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا حضرت عباسؓ کے پوتے)

📚 ماخذ از کتاب چراغ خضر۔

Taleemat e Ameer 20

** تعلیمات امیر ( Taleemat e Ameer r.a)
** بیسواں حصہ ( part-20)

اور امام نووی”کتاب تہذیب الاسماء“ میں کلمہٴعیسیٰؑ کے ذیل میں تحریر کرتے ہیں:
” حضرت عیسیٰؑ کا آخری زمانہ میں امام مھدیؑ کے پیچھے نماز پڑھنے کیلئے آنا اسلام کی تائید اور تصدیق کی خاطر ھے ،نہ کہ اپنی نبوت اور مسیحت کو بیان کرنے کے لئے اور خداوند متعال حضرت عیسیٰؑ کو امام مہدیؑ کے پیچھے نماز پڑھواکر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احترام میں اس امت اسلام کو قابل افتخار بنانا چاھتا ہے۔“

بارہ خلفا از نظر قندوزی حنفی
“امام قندوزی حنفی” اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد بعض محققین کے نظریات کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو کہتے ہیں: جب ہم ان احادیث پر غور و فکر کرتے ہیں، جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ رسول اکرمؐ کے بعد بارہ خلیفے ہونگے، تو اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ان احادیث میں رسول اکرم کی مراد اہل تشیع کے بارہ امام ہیں جو سب کے سب پیغمبر اکرم کی اہل بیت میں سے ہیں۔ کیونکہ اس کے بقول اس حدیث کو کسی طرح بھی خلفائے راشدین پر تطبیق کرنا ممکن نہیں ہے کیونکہ انکی تعداد بارہ سے کم ہیں، اسی طرح اسے بنی امیہ یا بنی عباس کے سلاطین پر بھی تطبیق نہیں کی جا سکتی کیونکہ ان دو سلسلوں میں سے ہر ایک میں بارہ سے زیادہ حکمران رہ چکے ہیں، اس کے علاوہ ان میں بعض افراد نہایت ہی ظالم اور سفاک قسم کے لوگ تھے اور بعض تو بالکل اسلامی احکام کے پابند بھی نہیں تھے سوائے عمر بن عبدالعزیز کے، اس کے علاوہ بنی امیہ، بنی ہاشم میں سے بھی نہیں ہیں جبکہ پیغبر اکرمؐ نے ان احادیث میں ان سب کے قبیلہ بنی ہاشم میں سے ہونے پر تاکید فرمائی ہیں۔

پس ناچار اس حدیث کو شیعوں کے بارہ اماموں پر تطبیق کرنا پڑیگا جو سب کے سب پیغمبر اکرمؐ کی اہل بیت میں سے ہیں کیونکہ یہ اشخاص اپنے زمانے کے سب سے زیادہ دین سے آشنا اور علم و آگاہی میں کوئی بھی ان کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اور فضل و کرم اور تقوی و پرہیزگاری میں یہ ہستیاں ہر زمانے میں زبان زد عام و خاص تھے۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ کہ ان ہستیوں کو یہ علوم اپنے نانا پیغمبر اکرمؐ سے ورثہ میں ملی ہے۔ اسی طرح حدیث ثقلین اور اس طرح کی دوسری احادیث اس نظریے کی تائید کرتی ہیں۔

📚 ماخذ از کتاب چراغ خضر۔