Taleemat e Ameer 55

** تعلیمات امیر (Taleemat e Ameer r.a)
** پچپنواں حصہ (part-55)

شاہ نعمت اللہ ولی کاظمیؒ المتوفی ۸۲۷ ( مجالس المومنین ۲۷۶) جو شاعر ہونے کے علاوہ عالم اور منجم بھی تھے آپ کو علم جفر میں بھی دخل تھا ۔ آپ نے اپنی مشہور پیشین گوئی میں ۱۳۸۰ ہجری کا حوالہ دیا ہے جس کا غلط ہونا ثابت ہو چکا ہے کیونکہ اب ۱۴۴۱ ہجری لگ گئی ہے اور امام مہدی علیہ السلام ابہی ظاہر نہی ہوئے۔ (قیامت نامہ قدوة المحدثین شاہ رفیع الدین ص ۳۸) ۔(والعلم عنداللہ )۔

ظہورکے بعد:-
ظہور کے بعد حضرت امام مہدی علیہ السلام کعبہ کی دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑے ہوں گے ۔ ابر کا سایہ آپ کے سر مبارک پر ہوگا ، آسمان سے آواز آتی ہوگی کہ ”یہی امام مہدی ہیں “ اس کے بعد آپ ایک منبر پر جلوہ افروز ہوںگے لوگوں کو خدا کی طرف دعوت دیں گے اور دین حق کی طرف آنے کی سب کو ہدآیت فرمائیں گے آپ کی تمام سیرت پیغمبر اسلامؐ کی سیرت ہوگی اور انھیں کے طریقہ پر عمل پیرا ہوں گے ابھی آپ کا خطبہ جاری ہوگا کہ آسمان سے جبرئیل و مکائیل آکر بیعت کریں گے، پھر ملائکہ آسمانی کی عام بیعت ہوگی ہزاروں ملائکہ کی بیعت کے بعد وہ ی۳۱۳ مومن بیعت کریںگے ۔
جوآپ کی خدمت میں حاضر ہو چکے ہوںگے پھر عام بیعت کا سلسلہ شروع ہوگا دس ہزار افراد کی بیعت کے بعد آپ سب سے پہلے کوفہ تشریف لے جائیںگے ،اور دشمنان آل محمدؐ کا قلع قمع کریں گے آپ کے ہاتھ میں عصاٴ حضرت موسیؑ کا ہوگا جو اژدھے کا کام کرے گا اور تلوارحمائل ہوگی ۔(عین الحیات مجلسی ۹۲) تواریخ میں ہے کہ جب آپ کوفہ پہونچیں گے تو کئی ہزار کا ایک گروہ آپ کی مخالفت کے لئے نکل پڑے گا ،اور کہے گا کہ ہمیں بنی فاطمہ کی ضرورت نہیں ،آپ واپس چلے جائیں یہ سن کر آپ تلوار سے ان سب کا قصہ تمام کر دیں گے اور کسی کو بھی زندہ نہ چھوڑیں گے جب کوئی دشمن آل محمدؐ اور منافق وہاں باقی نہ رہے گا تو آپ ایک منبر پر تشریف لے جائیں گے اور کئی گھنٹے تک رونے کا سلسلہ جاری رہے گا پھر آپ حکم دیں گے کہ مشہد حسینؑ تک نہر فرات کاٹ کر لائی جائے اور ایک مسجد کی تعمیر کی جائے جس کے ایک ہزار در ہوں ،چنانچہ ایساہی کیا جائےگا۔ اس کے بعد آپ زیارت مزار مقدسہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مدینہ منورہ تشریف لے جائیں گے ۔ (اعلام الوری ۲۶۳ ،ارشادمفید ۵۳۲ ،نورالابصار ۱۵۵) ۔

📚 ماخذ از کتاب چراغ خضر۔

Taleemat e Ameer 54

** تعلیمات امیر (Taleemat e Ameer r.a)
** چونواں حصہ (part-54)

امام مہدی کے ظہور کا سنہ:-

اللہ رب العزت نے پانچ چیزوں کاعلم اپنے لئے مخصوص رکھا ہے جن میں  ایک قیامت بھی ہے (قرآن مجید) ظہور امام مہدی علیہ السلام چونکہ لازمہ قیامت سے ہے ،لہذا اس کاعلم بھی خدا ہی کو ہے کہ آپ کب ظہور فرمائیںگے کونسی تاریخ ہوگی ۔ کونسا سن ہوگا ،تاہم احادیث معصومین جو الہام اور قرآن سے مستنبط ہوتی ہیں ان میں اشارے موجود ہیں ۔علامہ شیخ مفید ،علامہ سید علی ،علامہ طبرسی ،علامہ شبلنجی رقمطراز ہیں کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے اس کی وضاحت فرمائی ہے کہ آپ طاق سن میں ظہور فرمائیںگے جو ۱ ، ۳ ، ۵ ، ۷ ، ۹ سے مل کر بنے گا ۔ مثلا ۱۳ سو ، ۱۵ سو ، ۱۷ سو ، ۱۹ سو یا ایک ہزار ۳ ہزار ، ۵ ہزار ، ۷ ہزار ، ۹ ہزار ۔
اسی کے ساتھ ہی ساتھ آپ نے فرمایا ہے کہ آپ کے اسم گرامی کا اعلان بذریعہ جناب جبرئیل ۲۳ تاریخ کو کر دیا جائے گا اور ظہور یوم عاشورہ کو ہوگا جس دن امام حسین علیہ السلام بمقام کربلا شہید ہوئے ہیں (شرح ارشاد مفید ۵۳۲ ،غایۃ المقصود جلد ۱ ص ۱۶۱ ،اعلام الوری ۲۶۲ ،نورالابصار ۱۵۵) میرے نزدیک ذی الحجہ کی ۲۳ تاریخ ہوگی کیونکہ “نفس زکیہ” کے قتل اور ظہور میں ۱۵ راتوں کا فاصلہ ہونا مسلم ہے امکان ہے کہ قتل نفس زکیہ کے بعد ہی نام کا اعلان کر دیا جائے ،پھر اس کے بعد ظہور ہو، ملا جواد ساباطی کا کہنا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام یوم جمعہ بوقت صبح بتاریخ ۱۰ محرم الحرام ۷۱۰۰ میں ظہور فرمائیں گے۔ غایۃ المقصود ۱۶۱ بحوالہ براھین ساباطیہ) امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ امام مہدی کاظہور بوقت عصر ہوگا اور وہی عصر آیة ”والعصر ان الانسان لفی خسر “ سے مراد ہے۔
اور جس وقت آپ ظہور فرمائیں گے مثل حضرت عیسیؑ آپ چالیس سالہ جوان ہوں گے ،(اعلام الوری ۲۶۵ ،وغایۃ المقصود ص ۷۶،۱۱۹) ۔ پس فقیر کے نزدیک بھی یہی ذیادہ قابل قیاس ہے کیونکہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان نبوت کے وقت بھی آپ کی عمر شریف چالیس سال تھی۔

📚 ماخذ از کتاب چراغ خضر۔

Hadith Bukhari 1754

Hazrat Abdullah bin Abbas رضی اللہ عنہ se Riwayat hai ki (Qabila) Juhaina ki Ek aurat ne Nabi e Akram ﷺ ki Bargah me Hazir hokar Arz kiya : Meri Walida’h ne Hajj ki Mannat maani thi lekin Woh Hajj na kar saki yaha’n tak ki Faut ho gayi. Kya Mai Uski Taraf se Hajj karu’n? Aap ﷺ ne Farmaya : Haa’n Tum Uski Taraf se Hajj karo. Bhala Batao to Agar Tumhari Walida’h par Qarz hota to kya Tum Use Ada nahi karti’n? Pas Allah Ta’ala ka Haq Ada karo kiyo’n ki Woh zyada Haqdaar hai ki Uska Qarz Ada kiya jaye.

(Imam Bukhari, As-Sahih : 1754, Imam Nisayi, As-Sunan : 2632, Imam Ibne Khuzaima, As-Sahih : 3041, Imam Tabrani, Al-Mo’jam ul Kabeer, 12443 – 12444, Imam Baheqi, As-Sunan ul Kubra : 8455)

Hadith Bukhari 1322

Hazrat Aayesha Siddiqa رضی اللہ عنہا se Riwayat hai ki Ek Aadmi Nabi e Akram ﷺ ki Bargah me Haazir hua aur Arz kiya : Meri Walidah achanak faut ho gayi hai’n aur Mera Khayal hai ki Agar Woh (ba-waqt e Naza’a) Guftugu kar Sakti to Sadqa (ki adaygi ka hukm) karti. Agar Mai uski taraf se Khairaat karu’n to kiya use Sawaab pahunchega? Aap ﷺ ne Farmaya : Haa’n

(Imam Bukhari, As-Sahih : 1322, Imam Muslim, As-Sahih : 1004, Imam Abu Daood, As-Sunan : 2881, Imam Nisayi, As-Sunan : 3649, Imam Ibne Maaja, As-Sunan : 2717)

Hadith Kanzul Amaal 11/602,611

Huzoor Nabi E Akram (صلى الله عليه وآله وسلم) Ne Farmaya :
.
Un Logo Ka Kya Hoga Jo Ali Ki Shan Me Gustakhi Karte Hain, Jo Ali Ki Gustakhi Karta Hai Wo Meri Gustakhi Karta Hai Aur Jo Ali Se Juda Hua Wo Mujhse Juda Ho Gaya Beshak Ali Mujhse Hai Aur Mai Ali Se Hu,Uski Takhleeq Meri Mitti Se Hui Aur Meri Takhleeq ibrahim Ki Mitti Se Aur Mai Ibrahim Se Afzal Ji,Hum Me Se Baz Baz Ki Aulad Hain, Allah Ye Sari Bate Sunne Aur Jaan Ne Wala Hai, Wo Mere Baad Tum Sabka Wali Hai
.
Reference:
.
-Ibne Abi Shayba Raqam 12181

-Haysami Majmauz Zawa’id 9/108,109,128

-Nisayi- Khasayis 80,86

-Kanzul Amaal 11/602,611

-Tareekhe Damishq Al Kabir 181,182

-Tabrani M.Awsat 6/162,163
.
Note : Agar Dil Main Ali Nhi Basa Ho To Jahannum Se Azaadi Ka Sochna Bhi Nhi Jahannum Se Azaadi Sirf Unko Naseeb Hogi Jinke Dil Main Maula Ali Ka Piyar Ho
.
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَ عَلَی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَ بَارِکْ وَ س٘لِّمْ