Taleemat e Ameer 15

** تعلیمات امیر ( Taleemat e Ameer r.a)
** پندرہواں حصہ ( part-15)

“”اویسیت کا مطلب“” اویسیت کیا ہے ?اور اسکی شان کتنی نرالی ہے ?اسکے فہم وادراک کے لیے شاہ سمنا حضرت مخدوم اشراف جہانگیر سمنانی قدس سرہ النورانی ارشاد فرماتے ہیں کے شیخ فرید الدین عطار قدس سرہ کا گفتہ کہ قومے ازاولیاء اللہ عزّوجل باشند کہ ایشاں کہ را مشائخ طریقت وکبرائے حقیقت اویسیان نامندکہ ایشاں را درظاہر ہربہ پیری احتیاج بنود زیراکہ ایشاں راحضرت رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وسلم در حجرہ عنایت خود پرورش می دہند بے واسطہ غیرے چنانکہ اویس دادہ ایں عظیم مقامی بود وروش عالی ترکرااینجارسانند وایں دولت بکہ رونماید بموجب آیتہ کریمہ ذالک فضل اللہ یوتیہن یشاء واللہ ذوالفضل العظیم (لطائف اشرفی ملفوظات حضرت مخدوم اشرف سمنانی رضی اللہ تعالی عنہ لطیفہ ۱۴واں )

“شیخ فرید الدین عطار قدس سرہ بیان فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل کے ولیوں میں سے کچھ حضرات وہ ہیں جنہیں بزرگان دین مشائخ طریقت “اویسی””کہتے ہیں ان حضرات کو ظاہر میں کسی پیر کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ وہ حضرت رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے حجرہ عنایت میں بذات خود انکی تربیت وپرورش فرماتے ہیں اسمیں کسی غیر کا کوئ واسطہ نہیں ہوتا ہے جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت اویس قرنی رضی اللی تعالی عنہ کو تربیت دی تھی یہ مقام اویسیت نہایت اونچا روشن اور عظیم مقام ہے کس کی یہاں تک رسائ ہوتی ہے اور یہ دولت کیسے میسر ہوتی ہے بموجب آیتہ کریمہ اللہ تعالی کا مخصوص فضل ہے وہ جسے چاہتاہے عطافرما دیتا ہے اور اللہ تعالی عظیم فضل والا ہے مزید فرماتے ہیں حضرت شیخ بدیع الدین المقلب شاہمدار ایشاں نیز اویسی بودہ اند وبسے مشرب عالی داشتند وبعضے علوم نوادر از ہیمیاوکیمیا وریمیا ازایشاں معائنہ شد کہ نادر ازیں طائفہ کسے راباشد (لطائف اشرفی فارسی ص ۳۵۴/مطبوعہ نصرت المطابع دہلی )
ترجمہ.حضرت شیخ بدیع الدین ملقب بہ شاہ مدار قدس سرہ بھی اویسی ہوے ہیں نہایت ہی بلند مرتبہ ومشرب والے ہیں بعض نوادر علوم جیسے ہیمیا سیمیا کیمیا ریمیا انسے مشاہدہ میں آئے ہیں جو اس گروہ اولیاء میں نادر ہی کسی کو حاصل ہوتا ہے.

پس مشائخ اور علمائے حق کی توضیحات سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ روح سے اخذ فیض اور اجزائے فیض صرف ممکن ہی نہیں ، بلکہ امر واقع ہے۔ اور امام الہند کے کلام سے معلوم ہوگیا کہ سلسلہ اویسیہ میں روح سے اخذ فیض ہوتا ہے اور اس کے لئے اتصال ظاہری شرط نہیں، ہاں اتصال نسبت ضرور ہوتا ہے۔ یہی نسبت اویسیہ ہوتی ہے۔ 

پس حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالی عنہ نے بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے روح پاک سے فیض اخذ کیا اور آخر میں حضرت مولی علی علیہ السلام کے دست حق پرست پر بیت کر کے جنگ صفین میں آپ کے طرف سے لڑتے ہوئے شہادت کا جام بھی نوش فرمایا۔

📚 ماخذ از کتاب چراغ خضر۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s