Hadith Ibn Majah 4:446,447 (#4077)

Prophet ‘Īsā (علیہ السلام) And Imām Mahdī (علیہ السلام)

  1. عن أبي أمامة الباهلي رضي الله عنه، مرفوعا، فقالت أم شريك بنت أبي العكر رضي الله عنها: يا رسول الله! فأين العرب يومئذ؟ قال: هم يومئذ قليل وجلهم ببيت المقدس وإمامهم رجل صالح، فبينما إمامهم قد تقدم يصلي بهم الصبح إذ نزل عليهم عيسى بن مريم الصبح، فرجع ذلك الإمام ينكص يمشي القهقري ليتقدم عيسى يصلي بالناس، فيضع عيسى يده بين كتفيه، ثم يقول له: تقدم! فصل، فإنها لك أقيمت، فيصلي بهم إمامهم.
  2. “Abū Umāmah Bāhilī (RA) has related (a long tradition) from the Messenger of Allāh (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in which a female Companion Umm Sharīk bint ‘Abī al-‘Akar (رضي الله عنها) said: O Messenger of Allāh (صلى الله عليك وآلك وسلم)! Where will the Arabs be at that time, (why will the Arabs not come out in support of the Ummah)? The Messenger of Allāh (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: the Arabs will be in small number, and most of these will be in the Sacred House and their Imām will be a highly pious person (named Mahdī). When their Imām will come forward for Dawn prayer, at that time ‘Īsā will descend (from the heaven). The Imām will retreat and give way to him so that ‘Īsā can lead people in the prayer. ‘Īsā placing his hand between the Imām’s shoulders will say: step forward and lead the prayer because the iqāmah was said for you. Then their Imām (Mahdī) will lead the prayer.”

    Related by Ibn Mājah in as-Sunan, b. of fitan (turmoils) 4:446,447 (#4077).

Taleemat e Ameer 56

** تعلیمات امیر (Taleemat e Ameer r.a)
** چھپنواں حصہ (part-56)

قدوة المحدثین شاہ رفیع الدین رقمطراز ہیں کہ حضرت امام مہدی جو علم لدنی سے بھرپور ہوںگے جب مکہ سے آپ کا ظہور ہوگا اور اس ظہور کی شہرت اطراف واکناف عالم میں پھیلے گی تو افواج مدینہ و مکہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوںگی اور شام وعراق و یمن کے ابدال اور اولیاٴ خدمت شریف میں حاضر ہوںگے اور عرب کی فوجیں جمع ہو جائیں گی، آپ ان تمام لوگوں کو اس خزانہ سے مال دیں گے جو کعبہ سے برآمد ہوگا ۔
اور مقام خزانہ کو ” تاج الکعبہ“ کہتے ہوں گے ،اسی اثناٴ میں ایک شخص خراسانی عظیم فوج لیکر حضرت کی مدد کے لئے مکہ معظمہ کو روانہ ہوگا، راستے میں اس لشکر خراسانی کے مقدمہ الجیش کے کمانڈر منصور سے نصرانی فوج کی ٹکر ہوگی ،اور خراسانی لشکر نصرانی فوج کو پسپا کرکے حضرت کی خدمت میں پہنچ جائے گا اس کے بعد ایک شخص سفیانی جو بنی کلب سے ہوگا حضرت سے مقابلہ کے لئے لشکر عظیم ارسال کرے گا لیکن بحکم خدا جب وہ لشکر مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان پہنچے گا اور پہاڑ میں قیام کرے گا تو زمین میں وہیں دہنس جائے گا پھر سفیانی جو دشمن آل محمدؐ ہوگا نصاری سے سازباز کر کے امام مہدیؑ سے مقابلہ کے لئے زبردست فوج فراہم کرے گا نصرانی اور سفیانی فوج کے اسّی (۸۰) نشان ہوں گے اور ہر نشان کے نیچے ۱۲ ہزار کی فوج ہوگی ۔
ان کا دارالخلافہ شام ہوگا حضرت امام مہدی علیہ السلام بھی مدینہ منورہ ہوتے ہوے جلد سے جلد شام پہنچیں گے جب آپ کا ورود مسعود دمشق میں  ہوگا ،تودشمن آل محمدؐ سفیانی اور دشمن اسلام نصرانی آپ سے مقابلہ کے لئے صف آرا ہوںگے ،اس جنگ میں فریقین کے بے شمار افراد قتل ہوںگے بالاخر امام علیہ السلام کو فتح کامل ہوگی ،اور ایک نصرانی بھی زمین شام پر باقی نہ رہے گا اس کے بعد امام علیہ السلام اپنے لشکریوں میں انعام کو تقسیم کریں گے اور ان مسلمانوں کو مدینہ منورہ سے واپس بلالیں گے جو نصرانی بادشاہ کے ظلم وجور سے عاجز آکر شام سے ہجرت کرگئے تھے ۔(قیامت نامہ ص۴) اس کے بعد مکہ معظمہ واپس تشریف لے جائیںگے اور مسجد سہلہ میں قیام فرمائیں گے (ارشاد ۵۲۳) اس کے بعد مسجد الحرام کو از سر نو بنائیںگے اور دنیا کی تمام مساجد کو شرعی اصول پر کر دیں گے ہر بدعت کو ختم کریں گے اور ہر سنت کو قائم کریں گے ،نظام عالم درست کریں گے اور شہروں میں فوجیں ارسال کریں گے ، انصرام وانتظام کے لئے وزراء روانہ ہوںگے ۔(اعلام الوری ۲۶۲،۲۶۴) ۔

📚 ماخذ از کتاب چراغ خضر-