Taleemat e Ameer r.a 29

** تعلیمات امیر (Taleemat e Ameer r.a)
** انتیسواں حصہ (part-29)

اور اہل تصوف کے نزدیک امام اور قطب ایک ہی فرد کے لیے استعمال ہوتا ہے جو اپنے وقت کا حجت اور اس دنیا میں اللہ کا خلیفہ ہوتا ہے۔ اور یہ جائز نہیں کہ کوئی وقت اپنے امام سے خالی ہو جیسا کہ نص النصوص ص ۲۷۴ پر درج ہے۔ اور فقیر کے نزدیک ہر امام کا ایک قائم مقام ہوتا ہے جو وقت کا قطب ہوتا ہے اور اس دنیا میں امام کے آمد سے پہلے اس کا وظیر ہوتا ہے۔ پس قطبِ وقت کا قول امامِ وقت کا قول اور قطبِ وقت کا کام امامِ وقت کا کام ہوتا ہے۔ اور قطبِ وقت کا ہاتھ امامِ وقت کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ اور قطب الاقطاب (قطب العرشاد) جسے غوث اعظم یا غوث العالمین یا مدارالعالمین بھی کہتے ہے۔ اس کے سر پر تاج نعلین رسول اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ہوتا ہے اور وہ بلاواسطہ تور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور مولی علی علیہ السلام سے فیضیاب ہوتا ہے۔ اور تمام امام اس کی پشت پناہی کرتے ہیں۔ پس اس امت میں قطب بہت ہوئیں ہیں لیکن قطب الاقطاب کا تاج اشخاص میں کچھ خاص کو پہنایا گیا ہے۔ اور ان کی جماعت بھی اس امت میں ۱۲ ہے۔ پس ان میں ‘اللہ’ اپنے ذاتی صفت کے ساتھ متصرف ہوتا ہے جس کا نام عالم غیب میں ‘عبداللہ’ ہوتا ہے اور جو دین کا شمس ہوتا ہے اور جو شان محمدیؐ کے ساتھ لباس فقر میں جلوہ گر ہوتا ہے۔
اور ان ۱۲ قطب الاقطاب میں سے ۲ اعظیم ہستیاں اس فقیر کے جد امجد و روحانی پیشوا حضرت غوث العالمین حندل ولی بادشاہ مطلک امیر کبیر الشیخ سید قطب الدین محمد ال مدنی ال کڑوی رحمت اللہ و حضرت غوث الاعظم الشیخ سید عبدالقادر جیلانی رحمت اللہ علیہ بلخصوص کائنات میں متصرف ہیں۔
جن کا شجرہ بیت و خلافت اس طور پر آٹھویں امام امام علی رضا علیہ السلام سے جا ملتا ہے۔

۱۔ حضرت امام علی رضا علیہ السلام
۲۔ حضرت معروف کرخیؒ
۳۔ حضرت سری سقطیؒ
۴۔ حضرت جنید بغدادیؒ
۵۔ حضرت ابوبکر شبلیؒ
۶۔ حضرت عبدالعزیز یمنیؒ
۷۔ حضرت ابوالفضل عبدالواحد تمیمیؒ
۸۔ حضرت ابوالفراح یوسف طرطوسیؒ
۹۔ حضرت شیخ ابوالحسن علی ہنکاریؒ
۱۰۔ حضرت شیخ ابو سعید مبارک مخزومیؒ
۱۱۔ حضرت قطب الاقطاب غوث الاعظم شیخ سید موحئ الدین عبدالقادر جیلانی رحمت اللہ علیہ ( پس آپ سے بھی دونوں سلسلہ آگے بڑھیں ایک جدّی حسنی اور دوسرا حسینی قادری اور قائم مقام آپ گیارویں امام حضرت امام حسن اسکری علیہ السلام کے ہیں جنہوں نے آپ کو مسند سجّادہ عطا کیا تھا)

۱۔ حضرت امام علی رضا علیہ السلام
۲۔ حضرت معروف کرخیؒ
۳۔ حضرت سری سقطیؒ
۴۔ حضرت جنید بغدادیؒ
۵۔ حضرت ابوبکر شبلیؒ
۶۔ حضرت ابوالقاسمؒ نصیرآبادی (بغداد)
۷۔ حضرت ابوعلی دقاقؒ
۸۔ حضرت ابوالقاسم قشیریؒ
۹۔ حضرت علی رودباریؒ
۱۰۔ حضرت ابوعلی کاتبؒ
۱۱۔ حضرت ابوالقاسم گرگانیؒ
۱۲۔ حضرت ابوبکر نساجؒ
۱۳۔ حضرت شیخ احمد غزالیؒ
۱۴۔ حضرت ضیاء الدین ابونجیب سہروردیؒ
۱۵۔ حضرت عمار یاسرؒ
۱۶۔ حضرت شیخ نجم الدین کبری فردوسیؒ
۱۷۔ حضرت قطب الاقطاب غوث العالمین ہندل ولی بادشاہ مطلک شیخ الاسلام امیر کبیر سید قطب الدین محمد ال مدنی ال کڑوی رحمت اللہ علیہ (پس آپ سے دو سلسلہ وجود میں آیا ایک سلسلہ قطبیہ کبیریہ جو حسنی ہے اور دوسرا سلسلہ کبراویہ فردوسیہ جو حسینی ہے اور قائم مقام آپ بارہویں امام حضرت امام محمد المہدی علیہ السلام کے ہیں جو امر مخفی اور سلسلہ قطبیہ امیریہ کے تہت پس پردہ ہیں)

📚 ماخذ از کتاب چراغ خضر۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s