Taleemat e Ameer 1

  • تعلیمات امیرؒ۔ (taleemat e Ameer.r.a )

** حصہ اوّل (part-1)

تمام حمدو ثنا صرف اس پاک بےنیاز کے لیے ہے کہ جس کی شان کریمی کا عالم یہ ہے کہ نیک خیال کا اجر بھی عطا کرتا ہے اور بدی پر گریہ کرنے سے نجات بھی دیتا ہے۔ خوب شکر ہے اس خالک انس و جان کا کہ جس نے خد کے نور کو لباس بشر میں ملبوس کیا اور اس نور کو تمام بشر کے لیے نجات دہہندہ کر دیا۔
پس پھر اس نور کے دو حصّہ کئے ایک بشکل نبوت جناب ختمیٰ مرتبت سرکار خیر الانام سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل میں جلوہ گر ہوا۔ اور دوسرا بشکل ولایت مولی متّقیان مولی علی علیہ السلام کے شکل میں متصرف ہے۔ جیسہ کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول ‘كنت أنا وعلي نوراً بين يدي الله تعالى قبل أن يخلق آدم بأربعة عشر ألف عام فلمّا خلق الله آدم قسّم ذلك النور جزأين فجزء أنا وجزء علي (رواه أحمد بن حنبل في فضائل الصحابة ص ۲۰۵ المخطوط ( على ما في احقاق الحق ۵ / ۲۴۳ ) . سے یہ ثابت بھی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم و سرکار مولی علی علیہ السلام ایک ہی سکے کے دو پہلو ہیں، اور ہر ادنی و عالی کو یہ بات اچھی طرح سے معلوم ہے کہ ایک سکے کے دو پہلو ہونے کے باوجود سکہ ایک ہی کہلاتا ہے۔ پس یہ بات صاف و واضح ہے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو منسب رسالت اور نبوت اور مولی علی علیہ السلام کو امامت اور ولایت سے سرفراز کیا گیا اور اس طرح اس نور واحد کو حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق سے ۱۴ ھزار سال پہلے خداوند عالم نے اپنی علم و حکمت اور قوت ے نور سے تخلیق کیا اور ۱۲ ہزار سال مقام قرب میں اپنے سامنے رکھا۔

از ماخز کتاب چراغ خضر و منبع الولایت

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s