Hadith about The Awaited Imām Mahdī (علیہ السلام)

Prophet ‘Īsā (علیہ السلام) And Imām Mahdī (علیہ السلام)

  1. عن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: كيف أنتم إذا نزل ابن مريم فيكم، وإمامكم منكم.“Abū Hurayrah (RA) has narrated that the Messenger of Allāh (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: what will be the state (of your joy) at the time when ‘Īsā ibn Maryam will descend (from the heavens) and your Imām will be from among you.”

Explanation: It means that ‘Īsā (علیہ السلام), at the time of descent, will offer his prayers in congregation but he himself will not be the Imām but a member of the Ummah, that is, caliph Mahdī. Accordingly, Ibn Hajar ‘Asqalānī with reference to Abū al-Hassan Āburrī’s Manāqib ash-Shāfi‘ī writes: there are continuous traditions in its support and ‘Īsā (علیہ السلام) will offer one prayer behind caliph Mahdī.

Bukhārī related it in as-Sahīh, b. of ambiyā’ (prophets) 3:1272 (#3265);
Muslim, as-Sahīh, b. of īmān (faith) 1:136 (#155);
Ibn Hibbān, as-Sahīh (15:213#6802);
Ahmad bin Hambal, al-Musnad (2:336); Abd-ur-Razzāq, al-Musannaf (11:400#20841);
Ibn Mundah, al-Īmān (1:516 # 415, 416);
Abū ‘Awānah, al-Musnad (1:99#315);
Baghawī, Sharh-us-sunnah (15:82#4277);
‘Asqalānī, Fath-ul-bārī (6:491), al-Isābah fī tamyīz-is-sahābah (4:766), Taghlīq-ut-ta‘līq (4:40);
Qurtubī, al-Jāmi‘ li-ahkām-il-Qur’ān (4:101; 16:106);
Ibn Kathīr, Tafsīr-ul-Qur’ān al-‘azīm (1:578); and
Suyūtī in ad-Durr-ul-manthūr fit-tafsīr bil-ma’ thūr (2:242).
‘Asqalānī, Fath-ul-bārī (6:493, 494)



*امام مہدی علیہ السلام کا ظہور اورفضائل* *Imam Mahdi ‘Alayh-is-Salam Ka Zahoor Aur Faza’il*
*فصل نہم* *حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی امام مہدی علیہ السلام کی اقتداء میں نماز ادا فرمائیں گے* *Nawi’n Fasl* *Hazrat Isa ‘Alayh-is-Salam Bhi Imam Mahdi ‘Alayh-is-Salam Kee Iqteda’ Me Namaaz Ada Farmaa’enge* 4. عن ابي امامة الباهلي رضي الله عنه مرفوعا فقالت ام شريک بنت ابي العکر يا رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم فاين العرب يومئذ؟ قال هم يومئذ قليل و جلهم ببيت المقدس وامامهم رجل صالح قد تقدم يصلي بهم الصبح اذ نزل عليهم ابن مريم الصبح فرجع ذلک الامام ينکص يمشي القهقري ليتقدم عيسي ابن مريم يصلي بالناس فيضع عيسي يده بين کتفيه ثم يقول له تقدم فصل فانها لک اقيمت فيصلي بهم امامهم. اسناده قوي و اما في الحديث و امامهم رجل صالح فالمراد به المهدي کما جاء التصريح به حضرت ابو امامہ رضي اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک طویل حدیث روایت کرتے ہیں جس میں ہے کہ ایک صحابیہ ام شریک بنت ابی العکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرب اس وقت کہاں ہوں گے۔ (مطلب یہ ہے کہ اہل عرب دین کی حمایت میں مقابلے کے لیے کیوں سامنے نہیں آئیں گے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ عرب اس وقت کم ہوں گے اور ان میں بھی اکثر بیت المقدس (یعنی شام) میں ہوں گے اور ان کا امام و امیر ایک رجل صالح (مہدی) ہوگا جس وقت ان کا امام نماز فجر کے لیے آگے بڑھے گا۔ اچانک (حضرت) عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام اسی وقت (آسمان سے) اتریں گے۔ امام پیچھے ہٹے گا تاکہ (حضرت) عیسیٰ علیہ السلام نماز پڑھائیں۔ (حضرت) عیسیٰ علیہ السلام امام کے کندھوں کے درمیان ہاتھ رکھ کر فرمائیں گے آگے بڑھو اور نماز پڑھاؤ کیونکہ تمہارے ہی لیے اقامت کہی گئی ہے تو انکے امام (مہدی) لوگوں کو نماز پڑھائیں گے۔ 04. Hazrat Aboo Umamah RadiyAllahu ‘Anhu RasoolAllah SallAllahu ‘Alayhi Wa-Aalihi Wa-Sallam Se Ek Taweel Hadith Riwayat Karte Hain Jis Me Hai Ki Ek Sahabiyyah Ummu Sharik Bint Abi Akr RadiyAllahu ‘Anha Ne Arz Kiya: Ya RasoolAllah SallAllahu ‘Alayhi Wa-Aalihi Wa-Sallam! Arab Us Waqt Kaha’n Honge. (Matlab Yeh Hai Ki Ahle Arab Deen Kee Himaayat Me Muqabale Ke Liye Kyoo’n Saamne Nahin Aa’enge) To RasoolAllah SallAllahu ‘Alayhi Wa-Aalihi Wa-Sallam Ne Farmaya: Arab Us Waqt Kam Honge Aur Un Me Bhi Aksar Bayt-il-Maqdis (Ya’ni Shaam) Me Honge Aur Un Ka Imam-o Ameer Ek Rajul Saaleh (Mahdi) Hoga. Jis Waqt Un Ka Imam Namaze Fajr Ke Liye Aage Badhega Achaanak (Hazrat) Isa Ibn Maryam ‘Alayhima Al-Salam Usi Waqt (Aasmaan Se) Utarenge. Imam Pichhe Hatega Taa Ki (Hazrat) Isa ‘Alayh-is-Salam Namaz Padhaa’e’n. Hazrat Isa ‘Alayh-is-Salam Imam Ke Kandho’n Ke Darmiyaan Haath Rakkh Kar Farmaa’enge Aage Badho Aur Namaaz Padhaa’o Kyoo’n Ki Tumhaare Hee Liye Iqaamat Kahi Ga’i Hai To Un Ke Imam (Mahdi) Logo’n Ko Namaz Padhaa’enge. – [Ibn Majah, Al-Sunan, 02 : 1361, Raqm : 4077, Tahir-ul-Qadri, Al-Qawl-ul-Mu‘tabar Fi Al-Imam-il-Muntazar, : 54_55.]

Taleemat e Ameer 55

** تعلیمات امیر (Taleemat e Ameer r.a)
** پچپنواں حصہ (part-55)

شاہ نعمت اللہ ولی کاظمیؒ المتوفی ۸۲۷ ( مجالس المومنین ۲۷۶) جو شاعر ہونے کے علاوہ عالم اور منجم بھی تھے آپ کو علم جفر میں بھی دخل تھا ۔ آپ نے اپنی مشہور پیشین گوئی میں ۱۳۸۰ ہجری کا حوالہ دیا ہے جس کا غلط ہونا ثابت ہو چکا ہے کیونکہ اب ۱۴۴۱ ہجری لگ گئی ہے اور امام مہدی علیہ السلام ابہی ظاہر نہی ہوئے۔ (قیامت نامہ قدوة المحدثین شاہ رفیع الدین ص ۳۸) ۔(والعلم عنداللہ )۔

ظہورکے بعد:-
ظہور کے بعد حضرت امام مہدی علیہ السلام کعبہ کی دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑے ہوں گے ۔ ابر کا سایہ آپ کے سر مبارک پر ہوگا ، آسمان سے آواز آتی ہوگی کہ ”یہی امام مہدی ہیں “ اس کے بعد آپ ایک منبر پر جلوہ افروز ہوںگے لوگوں کو خدا کی طرف دعوت دیں گے اور دین حق کی طرف آنے کی سب کو ہدآیت فرمائیں گے آپ کی تمام سیرت پیغمبر اسلامؐ کی سیرت ہوگی اور انھیں کے طریقہ پر عمل پیرا ہوں گے ابھی آپ کا خطبہ جاری ہوگا کہ آسمان سے جبرئیل و مکائیل آکر بیعت کریں گے، پھر ملائکہ آسمانی کی عام بیعت ہوگی ہزاروں ملائکہ کی بیعت کے بعد وہ ی۳۱۳ مومن بیعت کریںگے ۔
جوآپ کی خدمت میں حاضر ہو چکے ہوںگے پھر عام بیعت کا سلسلہ شروع ہوگا دس ہزار افراد کی بیعت کے بعد آپ سب سے پہلے کوفہ تشریف لے جائیںگے ،اور دشمنان آل محمدؐ کا قلع قمع کریں گے آپ کے ہاتھ میں عصاٴ حضرت موسیؑ کا ہوگا جو اژدھے کا کام کرے گا اور تلوارحمائل ہوگی ۔(عین الحیات مجلسی ۹۲) تواریخ میں ہے کہ جب آپ کوفہ پہونچیں گے تو کئی ہزار کا ایک گروہ آپ کی مخالفت کے لئے نکل پڑے گا ،اور کہے گا کہ ہمیں بنی فاطمہ کی ضرورت نہیں ،آپ واپس چلے جائیں یہ سن کر آپ تلوار سے ان سب کا قصہ تمام کر دیں گے اور کسی کو بھی زندہ نہ چھوڑیں گے جب کوئی دشمن آل محمدؐ اور منافق وہاں باقی نہ رہے گا تو آپ ایک منبر پر تشریف لے جائیں گے اور کئی گھنٹے تک رونے کا سلسلہ جاری رہے گا پھر آپ حکم دیں گے کہ مشہد حسینؑ تک نہر فرات کاٹ کر لائی جائے اور ایک مسجد کی تعمیر کی جائے جس کے ایک ہزار در ہوں ،چنانچہ ایساہی کیا جائےگا۔ اس کے بعد آپ زیارت مزار مقدسہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مدینہ منورہ تشریف لے جائیں گے ۔ (اعلام الوری ۲۶۳ ،ارشادمفید ۵۳۲ ،نورالابصار ۱۵۵) ۔

📚 ماخذ از کتاب چراغ خضر۔

Taleemat e Ameer 54

** تعلیمات امیر (Taleemat e Ameer r.a)
** چونواں حصہ (part-54)

امام مہدی کے ظہور کا سنہ:-

اللہ رب العزت نے پانچ چیزوں کاعلم اپنے لئے مخصوص رکھا ہے جن میں  ایک قیامت بھی ہے (قرآن مجید) ظہور امام مہدی علیہ السلام چونکہ لازمہ قیامت سے ہے ،لہذا اس کاعلم بھی خدا ہی کو ہے کہ آپ کب ظہور فرمائیںگے کونسی تاریخ ہوگی ۔ کونسا سن ہوگا ،تاہم احادیث معصومین جو الہام اور قرآن سے مستنبط ہوتی ہیں ان میں اشارے موجود ہیں ۔علامہ شیخ مفید ،علامہ سید علی ،علامہ طبرسی ،علامہ شبلنجی رقمطراز ہیں کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے اس کی وضاحت فرمائی ہے کہ آپ طاق سن میں ظہور فرمائیںگے جو ۱ ، ۳ ، ۵ ، ۷ ، ۹ سے مل کر بنے گا ۔ مثلا ۱۳ سو ، ۱۵ سو ، ۱۷ سو ، ۱۹ سو یا ایک ہزار ۳ ہزار ، ۵ ہزار ، ۷ ہزار ، ۹ ہزار ۔
اسی کے ساتھ ہی ساتھ آپ نے فرمایا ہے کہ آپ کے اسم گرامی کا اعلان بذریعہ جناب جبرئیل ۲۳ تاریخ کو کر دیا جائے گا اور ظہور یوم عاشورہ کو ہوگا جس دن امام حسین علیہ السلام بمقام کربلا شہید ہوئے ہیں (شرح ارشاد مفید ۵۳۲ ،غایۃ المقصود جلد ۱ ص ۱۶۱ ،اعلام الوری ۲۶۲ ،نورالابصار ۱۵۵) میرے نزدیک ذی الحجہ کی ۲۳ تاریخ ہوگی کیونکہ “نفس زکیہ” کے قتل اور ظہور میں ۱۵ راتوں کا فاصلہ ہونا مسلم ہے امکان ہے کہ قتل نفس زکیہ کے بعد ہی نام کا اعلان کر دیا جائے ،پھر اس کے بعد ظہور ہو، ملا جواد ساباطی کا کہنا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام یوم جمعہ بوقت صبح بتاریخ ۱۰ محرم الحرام ۷۱۰۰ میں ظہور فرمائیں گے۔ غایۃ المقصود ۱۶۱ بحوالہ براھین ساباطیہ) امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ امام مہدی کاظہور بوقت عصر ہوگا اور وہی عصر آیة ”والعصر ان الانسان لفی خسر “ سے مراد ہے۔
اور جس وقت آپ ظہور فرمائیں گے مثل حضرت عیسیؑ آپ چالیس سالہ جوان ہوں گے ،(اعلام الوری ۲۶۵ ،وغایۃ المقصود ص ۷۶،۱۱۹) ۔ پس فقیر کے نزدیک بھی یہی ذیادہ قابل قیاس ہے کیونکہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان نبوت کے وقت بھی آپ کی عمر شریف چالیس سال تھی۔

📚 ماخذ از کتاب چراغ خضر۔