Taleemat e Ameer 9

** تعلیمات امیر ( Taleemat e Ameer r.a)
** نواں حصہ ( part-9)

۶۔ سلسلہ ستّہ سلسلہ امیریہ بطریق سلسلہ اویسیہ۔
روح سے فیض حاصل کرنے کو اصطلاح صوفیہ میں اویسی طریقہ کہتے ہیں۔ اس سے یہ مراد نہیں کہ یہ سلسلہ حضرت اویس قرنیؒ سے ملتا ہے بلکہ اویسیہ سے مراد مطلق روح سے فیض حاصل کرنا ہے۔ چونکہ روح سے اخذ فیض اور اجرائے فیض دونوں صورتیں ہوتی ہیں، اس لئے سلسلہ اویسیہ کی یہی دونوں خصوصیات ہیں۔ اس اصطلاح کو حضرت اویس قرنی سے اگر کوئی نسبت ہو سکتی ہے تو شاید اس بناء پر کہ انہوں نے حضور نبی کریم ﷺ کی صحبت میں رہ کر تربیت حاصل نہیں کی تھی۔ بلکہ حضور ﷺ کی روح پر فتوح سے اخذ فیض کیا تھا۔ اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ وہ پہلے حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالی عنہ تھے۔ 

📚 ماخز از کتاب چراغ خضر۔

Taleemat e Ameer 8

** تعلیمات امیر ( Taleemat e Ameer r.a)
** اٹھواں حصہ ( part- 8)

۵۔ حضرت مولی علی علیہ السلام کے پانچویں خلیفہ کی حیثیت سے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ نے خلافت حاصل کیا۔ چنانچہ نقشبندیہ سلسلہ آپ ہی سے وجود میں آیا۔ جیسا کہ فقیر پہلے بھی ذکر کر چکا ہے کہ جو لوگ آپ کی بیت حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ سے ثابت کرتے ہیں وہ درست نہیں۔ البتہ سلسلہ نقشبند میں جناب ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ کا روحانی فیض جو آپ نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم و حضرت مولی ال متقیان امام علی علیہ السلام سے اخذ کیا تھا وہ جاری اور ساری ہے۔ جو آپ کے نبیرا حضرت قاسم کے ذریعہ سے اس سلسلہ میں شامل ہوا۔ جنہوں نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ سے بیت کی۔ مخفی نہ رہے کہ جناب قاسمؓ حضرت محمدؓ ابن ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ کے فرزند ہیں جن کی پرورش بھی حضرت مولی علی علیہ السلام کے زیر قفالت ہوئی جیسا کہ آپ کے زمن میں ذکر ہو چکا ہے۔ پس حضرت قاسمؓ کے توسل سے نقشبندیہ سلسلہ میں تین جانب سے فیض علیؑ شامل ہے۔ پھر جناب قاسمؓ کی بیت اور خلافت آپ کے نواسے اور ائمہ اہل بیت میں چھٹوے امام حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کو حاصل ہوئی اور اس اعتبار سے چار جانب سے فیضِ روحانی باب مدینۃالعلم مولی المومینین حضرت مولی علی علیہ السلام اس سلسلہ میں شامل ہو گیا جس سبب دوسرے سلسلوں کے بنسبت یہ سلسلہ زیادہ فیض رساں ہے اور اس سلسلہ کے فقرا تکمیل منازل روحانیت جلد کر لیتے ہیں۔

ماخز از کتاب چراغ خضر و منبع الولایت۔