Taleemat e Ameer 78

** تعلیمات امیر (Taleemat e Ameer r.a)
** اٹھترواں حصہ (part-78)

(۳)۔ حضرت سرکار مدار العالمین بدیع الدین احمد مکنپوری رحمت اللہ علیہ

  • ولادت باسعادت:-
    آپ کی ولادت باسعادت ۲۷۱ھ میں دریائے نیل سے تین منزل کے فاصلے پر موضع چنار ولایت حلب میں ہوئی۔
  • والدین شریفین:۔
    آپ کے والد ماجد کا اسم شریف حصرت قاضی قدوۃ الدین علی حلبیؒ ہے۔ اور والدہ سیدہ فاطمہ ثانیہ عرف بی بی خاص ملک ہاجرہ سے معروف ہیں۔
  • شجرہ نسب:۔
    آپ حسینی سادات میں سے ہیں۔ اور کچھ روایتوں سے آپ شرفاء قریش کے کسی شاخ سے ہیں۔
    لیکن زیادہ حق بات یہ ہے کہ آپ ساداتِ بنی فاطمہؑ سے تعلق رکھتے ہیں۔ شجرہ نسب اس طرح ہے۔
    حضرت قطب الاقطاب مدار الاعظم شیخ بدیع الدین مکنپوریؒ ابن حضرت قاضی قدوۃ الدین علی حلبیؒ ابن سید بہاءالدینؒ ابن سید ظہیر الدینؒ ابن سید احمدؒ ابن سید ابو الحسن محمدؒ ابن سید اسمائیل الاعرجؒ ابن حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام ابن حضرت امام محمد باقر علیہ السلام ابن حضرت امام علی زین العابدین علیہ السلام ابن حضرت امام آلی مقام حضرت حسین علیہ السلام۔
    آپ کی والدہ ماجدہ کے متعلق یہ بیان کیا جاتا ہے کہ وہ حسنی سادات تھیں۔ شجرہ اس طرح ہے۔
    حضرت سیدہ فاطمہ ثانیہ عرف بی بی خاص ملک بنت عبداللہ ابن سید زاہد ابن سید ابو محمد ابن سید ابو صالح ابن سید ابو یوسف ابن سید ابوالقاسم ابن سید عبداللہ محض ابن حضرت سید حسن مسثنی ابن امام العالمین حضرت سیدامام حسن امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم رضی اللہ تعالی عنھم اجمعین:
    لیکن یہ شجرہ فقیر کے نزدیک سہیح نہیں۔ کیونکہ عرب و عجم کی تمام مستند تاریخ و انساب کی کتابوں میں تفصیل و تحقیق کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت عبداللہ ال محضؑ کے بیٹوں میں حضرت محمد ذوالنفس ذکیہ شہید علیہ السلام کی کنیت ابوالقاسم تھی اور آپکی نسل صرف اور صرف حضرت عبداللہ ال اشتر عرف عبد اللہ شاہ غازیؒ سے چلی جیسا کہ صاحبِ کتاب “مُدرک الطالب فی نسب آل ابی طالب” ص ۸۷ پر رقم طراز ہےکہ “سید جمال الدین ابن عنبہ صاحبِ “عمدۃ طالب” اپنے استاد محترم السید الشریف النقیب ابو عبداللہ محمد تاج الدین الحسینی سے روایت کرتے ہیں کہ “حضرت محمد نفس ذکیہؑ کی اولاد صرف اور صرف عبداللہ ال اشترؒ سے باقی رہی۔
    اور حضرت عبداللہ ال اشتر کی کنیت ابو محمد تھی نہ کہ ابو یوسف کیونکہ آپ کے بیٹے کا اسم شریف حضرت محمد تھا اور لقب الاصغر ثانی جو محمد کابلی سے مشہور تھیں۔ اور انہیں کے نام کی مناسبت سے آپ کی کنیت ‘ابو محمد’ تھی۔ اور صرف انہیں فرزند حضرت محمد ال کابلی سے آپ کا سلسلہ نسب آگے بڑھا جن سے ہند اور سندھ میں سب سے زیادہ مستند حسنی حسینی سادات “سادات قطبیہ” متصرف ہیں۔ اور یہ فقیر بھی اسی خاندان کا چشم و چراغ ہے۔

📚 ماخذ از کتاب چراغ خضر۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s