Taleemat e Ameer 19

** تعلیمات امیر ( Taleemat e Ameer r.a)
** انیسواں حصہ ( part-19)

عن ابی سعید؛ قال: قال رسول الله : من خلفاء کم خلیفة یحشو المال حشیاً ولا یعده عداً۔
ابو سعید نے رسول خداؐ سے دوسری حدیث نقل کی ہے ؛ آنحضرتؐ نے فرمایا: تمہار ے خلفاء اور ائمہ میں سے ایک خلیفہ و امام وہ ہوگا جو مال کو مٹھی سے تقسیم کرے گا نہ کہ عدد و شمار سے۔
امام زمانہ کے بارے میں فاضل نَوَوی شارح صحیح مسلم؛ مذکورہ حدیث کی لغت حل کرنے کے بعد لکھتے ھیں :
سونا اور چاندی کی اس قسم کی تقسیم کا سبب یہ ہے کہ اس وقت ان حضرتؑ کی وجہ سے کثرت سے فتوحات ہوں گی جن سے غنائم اورمال وثروت فراوانی سے حاصل ہوگا اور آپ اس وقت اپنی سخاوت اور بے نیازی کا اس طرح مظاہرہ فرمائیں گے، اس کے بعد کھتے ہیں : سنن ترمذی و ابی داؤد میں ایک حدیث کے ضمن میں اس خلیفہ کا نام (مہدی) مرقوم ہے، اس کے بعد اس حدیث کو سنن ترمذی سے نقل کرتے ہیں کہ رسولؐ نے فرمایا :قیامت واقع نہیں ہوگی جب تک میرے اہل بیت(خاندان) سے میرا ہمنام، جانشین ظاھر ھو کر عرب پر مسلط نہ ھو جائے۔ اس کے بعد نووی کھتے ہیں : ترمذی نے اس حدیث کو صحیح جانا ہے اور سنن داؤد میں اس حدیث کے آخر میں یہ بھی تحریر ہے : ” وہ خلیفہ اس زمین کو عدل و انصاف سے اسی طرح بھر دے گا جیسے وہ ظلم و ستم سے بھری ہوگی۔“

امام بخاری نے ابوہریرہ سے نقل کیا ہیکہ آنحضرت نے فرمایا:
”کَیْفَ اَنْتُمْ اِذَا نَزَلَ اِبنُ مَرْیَم فِیکُم وَاِمامُکم مِنْکُمْ“. تمھارا اس وقت خوشی سے کیا حال ہوگا جب ابن مریم حضرت عیسیؑ تمھارے درمیان نازل ہوں گے اور تمھارا امام تم میں سے ہوگا؟ ابن حجر نے اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ امام شافعی اپنی کتاب ”المناقب“ میں تحریر کرتے ہیں :اس امت میں امام مھدیؑ کا وجود اور آپ کا حضرت عیسیؑ کو نماز پڑھانا حد تواتر کے طور پر ثابت ہے۔

ابن حجر اس کے بعد کھتے ہیں :
بدر الدین عینی اس حدیث کی مفصل شرح کرنے کے بعد اس طرح نتیجہ گیری کرتے ہیں : ”حضرت عیسیؑ کا اس امت مسلمہ کے امام مہدیؑ کے پیچھے قیامت سے نزدیک آخری زمانہ میں نماز پڑھنا ،اس بات کی دلیل ہے کہ جو لوگ قائل ہیں کہ زمین کبھی حجت خدا سے خالی نہیں، وہ درست ہے اور ان کا یہ عقیده حق بجانب ہے۔

📚 ماخذ از کتاب چراغ خضر۔

Taleemat e Ameer 18

** تعلیمات امیر ( Taleemat e Ameer r.a )
** اٹھارہواں حصہ ( part-18)

پس فقیر اب ان بارہ (۱۲) ائمہ اہل بیت علیہ السلام کے ذکر سے ان حروف و اوراق کو منور و مجلہ کرتا ہے جن کے ضیا گوہربار سے آفتاب و مہتاب اور قائنات کی ہر شے روشن و تاباں ہے۔ اور جن کے گرد راہ سے علم حکمت کا سر چشمہ ہر خاص و عام کے لیے فیض رساں ہے۔
اہل البیت :- اہلِ بیت عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی “گھر والے ” کے ہیں۔ انہیں پنج تن پاک بھی کہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کفار سے مباہلہ کرنے کے لیے نکلے تو یہی حضرات آپ کے ساتھ تھے۔ ایک دفعہ آپ نے ان حضرات کو اپنی چادر میں لے کر فرمایا (اے اللہ، یہ میرے اہل البیت ہیں۔)
اہل البیت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صاحبزادی فاطمۃ الزھرا سلام اللہ علیہ ، آپ کے چچا زاد اور داماد حضرت علیؑ اور ان کے صاحبزادے حضرت امام حسنؑ اورحضرت امام حسینؑ شامل ہیں۔ یہ تمام افراد اصحاب کساء کے نام سے بھی مشہور ہیں۔

اثناعشریہ:-
(یعنی بارہ امام)، اثناعشریہ کی اصطلاح بارہ ائمہ کی طرف اشارہ کرتی ہے جن کا سلسلہ محمد صلی اللہ علیہ سے شروع ہوتا ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد ان کے جانشین امام علی علیہ السلام ہیں اور کل بارہ امام ہیں جن کا تذکرہ احدیث میں آتا ہے۔ کم و بیش تمام مسلمان ان ائمہ کو اللہ کے نیک بندے مانتے ہیں تاہم اثنا عشریہ اہل تشیع ان ائمہ پر اعتقاد کے معاملہ میں خصوصی شہرت رکھتے ہیں۔ ان بارہ ائمہ کے نام یہ ہیں :۔
حضرت علی علیہ السلام، حضرت حسن علیہ السلام، حضرت حسین علیہ السلام، حضرت زین العابدین علیہ السلام، حضرت محمد ال باقر علیہ السلام، حضرت جعفر صادق علیہ السلام، حضرت موسی کاظم علیہ السلام، حضرت علی رضا علیہ السلام، حضرت محمد تقی علیہ السلام، حضرت علی نقی علیہ السلام، حضرت حسن عسکری علیہ السلام
اور آخری امام حضرت امام محمد ال مہدی حسنی حسینی علیہ السلام۔
مسلمانوں کی بہت ساری کتب میں بارہ خلفا کا ذکر موجود ہے کہ رسولﷲ کے بعد بارہ جانشین ہونگے۔ سرکار علیہ السلام نے فرمایا: ‘نقبائے بنی اسرائیل کی طرح میری امت کے بھی بارہ خلیفہ ہونگے’۔
۔,,…عن عبد الملک؛ سمعت جابر بن سمرة ؛قال: سمعت النبیؐ یقول: یکون اثناعشرا امیرا، فقال کلمة، لم اسمعها، فقال ابی: انه قال: کلهم من قریش“-
عبد الملک نے جابر بن سمرہ سے نقل کیا ھے:
میں نے رسول خداؐ سے سنا : آپ نے فرمایا: میرے بعد میرے بارہ امیر و خلیفہ ہوں گے، جابر کھتے ھیں : دوسرا کلمہ میں نے ٹھیک سے نھیں سنا جس میں آنحضرتؐ نے ان بارہ خلفاء کے بارے میں بتلایا تھا کہ وہ کس قبیلہ سے ہوں گے، لیکن بعد میں میرے پدر بزگوار نے مجھ سے کھا: وہ جملہ جو تم نے نھیں سنا وہ یہ تھا کہ وہ تمام خلفاء قریش سے ہوں گے۔

مسلم نے بھی اس حدیث کو آٹھ سندوں کے ساتھ اپنی کتاب میں نقل کیا ہے اور ا ن میں سے ایک حدیث میں اس طرح آ یا ہے:
”…جابر بن سمرة؛ قال:انطلقتُ الی رسول اللّٰہؐ ومعی ابی، فسمعته، یقول: لایَزَالُ هذَا الدین عَزِیزاً مَنِیعاً اِلیٰ اِثْنیٰ عَشَرَ خلیفة،ً قال کلمة ،صَمَّنِیْها الناس،ُ فقلتُ لابی ما قال؟ قال :کلهم من قریش“.

جابر بن سمرہ کھتے ھیں :
ایک مرتبہ میں اپنے والد بزرگوار کے ساتھ خدمت رسول خداؐ میں مشرف ہوا تو میں نے رسولؐ سے سنا :آپ فرما رہے تھے: یہ دین الہٰی بارہ خلفاء تک عزیز اور غالب رہے گا،اس کے بعد دوسرا جملہ میں نہ سن سکا کیونکہ صدائے مجلس سننے سے حائل ہوگئی تھی، لیکن میرے پدر بزرگوار نے کھا :وہ جملہ یہ تھا:یہ تمام بارہ خلفاء قریش سے ہوں گے۔ اس حدیث کومختلف مضامین کے ساتھ اہل سنت کی اہم کتابوں میں کثرت کے ساتھ نقل کیا گیا ہے۔ یکون فی آخر الزمان خلیفة یقسم المال ولا یعده۔

جابر بن عبد اللہ اور ابوسعید نے رسول اکرمؐ سے نقل کیا ہے :
آپؐ نے ارشاد فرمایا: آخری زمانہ میں میرا ایک جانشین و امام ہوگا جو مال و ثروت کو( ناپ و تول کے ساتھ ) تقسیم کرے گا نہ کہ گنے گا۔

📚 ماخذ از کتاب چراغ خضر۔

Taleemat e Ameer 17

** تعلیمات امیر ( Taleemat e Ameer r.a)
** سترہواں حصہ ( part-17)

اور سلسلہ امیریہ اعزازی تور پر اس فقیر کو اس طرح سے عطا کیا گیا کہ اس فقیر کے سر پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جنۃ البقی شریف میں جناب سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہ کے مزار مجلہ پر تاج نعلین رکھا۔ پھر اس فقیر کو دربار رسالت معاب صلی اللہ علیہ وسلم سے سنہرا پیراہن مبارک کہ جس پر اس فقیر کے لیے سرکار علیہ السلام کے جانب سے سلام لکھا تھا عطا کیا گیا۔ پھر اول امام ‘امیر ملک اللہ’ مولی علی علیہ السلام نے سلسلہ امیریہ کعبۃ اللہ شریف میں باب ابراہیم پر بازو پکڑ کر عطا کیا۔ اور پھر جسکو آخری امام حضرت امام محمد ال مہدی حسنی حسینی علیہ السلام نے امر مخفی کے تہت اپنی عصا مبارک عطا کیا اور ارشاد فرمایا کہ وقت آگیا ہے اب طیار ہو جاو۔ پس سرکار حضرت میر سید قطب الدین محمد ال مدنی ال کڑویؒ اسی سلسلہ مخفیہ کے لیے اپنے ملفوظات میں دعا گو ہیں کہ۔
“سوالی من الہ الخلق طرّا
یتم الاخیر للمتعلقین”
میری درخواست جمِع مخلوقات کے پروردگار سے ہے کہ وہ میرے مطالقین یعنی میرے فرزندوں اور مریدوں پر دنیا و آخرت میں نیکیوں اور اپنی نعمتوں کو مکمل فرمائے۔ آمین ۔
اس کے بعد فقیر کو سرکار قطب الدین محمد ال مدنی ال کڑویؒ نے اپنی درگاہِ عالیہ کی تولیت بھی عنایت کیا اور پھر اپنے قریب بلا کر یہ ارشاد فرمایا کہ ‘یہ درگاہ تمہاری ہے اسے تمہے دیکھنا ہے۔ اور بالآخر تمام ہند- سندھ کے اولیاء کے امام حضرت سرکار عبداللہ شاہ غازیؒ نے ایک رویا میں اس فقیر کو اپنے دربار میں اپنی سند خلافت و سجادگی سے بھی سرفراز فرمایا۔
پس فقیر ان تمام نعمت عظمی کے لیے اپنی مولی کریم ربّ العالمین کا بےحد شکر بجا لاتا ہے۔

📚 ماخذ از کتاب چراغ خضر۔