
Syedna Musa Kazim Alaihissalam aur Hazrat Shafiq Balkhi Rehmatullah alaih


سوانح حیات حضور غوث العاظم دستگیر ؒ ۔
✍️ از قلم سید قطب الدین محمد عاقب الحسنی الحسینی القطبی غفی عنہ

صلٰوۃ الغوثیہ
اِذَاسَءَلْتُمُ اللّٰہَ فَاسْءَلُوْہُ بِیْ وَقَالَ مَنِ اسْتَغَاثَ بِیْ فِیْ کُرْبَۃٍ کُشِفَتْ عَنْہٗ وَ مَنَ نَادَانِیْ بِاِسْمِیْ فِیْ شِدَّۃٍ فُرِجَتْ عَنْہ‘ وَ مَنْ تَوَسَّلَ بِیْ اِلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَ فِیْ حَاجَۃِ قُضِیَتْ لَہٗ وَ مَنْ صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ یَقْرَءُ فِیْ کُلِّ رَکْعَۃٍ بَعْدَ الْفَاتِحَۃِ سُوْرَۃَ الْاِخْلَاصِ اِحْدَیٰ عَشْرَۃَ مَرَّۃً ثُمَّ یُصَلِّی عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ بَعْدَ السَّلَامِ وَ یُسَلِّمُ عَلَیْہِ وَ یَذْکُرُنِی ثُمَّ یَخْطُوْ اِلٰی جِھَۃِ الْعِرَاقِ اِحْدَیٰ عَشْرَۃَ خُطْوَۃً یَذْکُرُ فِیْھَا اِسْمِیْ
جب خدا سے سوال کرو تو میرے وسیلہ سے سوال کرو۔ اور فرمایا جو کسی تکلیف میں مجھ سے فریاد کرے۔ وہ تکلیف رفع ہو اور جو کسی سختی میں میرا نام لے کر ندا کرے وہ سختی دور ہو اور جو کسی حاجت میں اللہ تعالیٰ کی طرف مجھ سے توسل کرے وہ ہاجت برآئے۔ اور جو دو رکعت نماز ادا کرے۔ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد گیارہ بار سورۂ اخلاص پڑھے۔ پھر سلام پھیر کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم پر درود و سلام بھیجے او رمجھے یاد کرے۔ پھر عراق (بغداد شریف) کی طرف گیارہ قدم چلے اور ان میں میرا نام لیتا جائے۔ اور اپنی حاجت یاد کرے۔ انشاءاللہ اس کی حاجت روائی ہوگی۔
(۱)- سیّدنا غوث الاعظم شیخ سید عبدالقادر جیلانی رحمت اللہ علیہ۔ آپ کی والدہ سیّدہ فاطمہ ام الخیر امت الجبار امام جعفر صادق علیہ السلام کی اولاد سے تھیں۔ آپ اپنے والد سیّدنا محمد الوارد عرف ابو صالح موسی سے بیعت ہوئے جن سے خلافت حسنیہ قطبیہ قادریہ و حسینیہ زیدیہ حاصل کیا۔
(۲)- سیّدنا محمد الوارد عرف ابو صالح موسی: آپ کی والدہ محمد العابِد بن امام موسی کاظمؑ کی اولاد سے تھیں۔ آپ حجاز سے ہجرت کر کے عراق آئے۔ آپ نے اپنے والد سیّدنا عبد اللہ سے بیعت و خلافت حاصل کی۔ مزار مبارک گیلان میں ہے۔
(۳)- سیّدنا عبد اللہ : حجاز میں آپ کی ولادت ہوئی۔ اپنے پدر بزرگوار حضرت سیدنا محمد سے بیعت ہو کر خلافت حاصل کی۔ مزار مبارک حجاز میں ہے۔
(۴)- سیّدنا محمد : آپ کی ولادت بھی حجاز میں ہوئی۔ اپنے والد سیدنا یحیی سے خلافت پائی۔ مزار مبارک بھی حجاز میں ہے۔
(۵)- سیّدنا یحییٰ : ۱۷ شعبان المعظم ۳۴۰ ھ کو مدائن میں آپ کی ولادت ہوئی ۳۷۰ ھ میں اپنے والد مکرم حضرت محمد رومیہ سے خلافت پائی۔ مزار مبارک حجاز میں ہے۔
(۶)- سیّدنا محمد بابن رومیہ: آپ کی والدہ ام ولد رومیہ تھیں۔ ۱۲ رمضان المبارک ۲۹۹ ھ میں مدینہ منورہ میں ولادت ہوئی۔ والدِ گرامی حضرت داؤد امیر سے ۳۴۹ ھ میں بیعت ہو کر خلافت پائی۔ ۱۷ ربیع الاوّل ۴۱۵ ھ مین رحلت فرمائی۔ قبر مبارک جنت البقیع میں ہے۔
(۷)- سیّدنا داؤد الامیر امجد: آپ کی والدہ محبوبہ بنت مزاحم الکلابیہ تھیں۔ آپ کی ولادت ۱۱ شعبان ۲۴۵ھ میں مدنیہ طیبہ میں ہوئی۔ ذی الحجہ ۲۷۷ ھ میں اپنے والد ماجد حضرت موسیٰ ثانی سے خلافت پائی۔ مزار شریف آپ کا مکہ مکرمہ میں ہے۔
(۸)- سیّدنا ابو عمرو موسیٰ ثانی: ان کی والدہ امامۃ بنت طلحۃ بن صالح بنی فزارہ سے تھیں۔ ۶ محرم الحرام ۱۹۳ ھ میں مدینہ منورہ میں ولادت ہوئی۔ ربیع الآخر ۲۳۸ ھ میں والدِ مکرم عبد اللہ الرضا سے خلافت پائی۔ ماہ صفر ۲۵۶ ھ میں شہید ہوئے۔ مزار مقدس سویقہ مدینہ طیبہ میں ہے۔
(۹)- سیّدنا ابو محمد عبد اللہ الرضا المعروف عبد الشیخ الصالح : ان کی والدہ ام سلمۃ بنت محمد بن طلحۃ اولاد ابی بکر صدیق ؓ سے تھیں۔ ۱۴ رمضان المبارک ۱۵۲ ھ میں مدینہ طیبہ میں ولادت ہوئی ربیع الاوّل ۱۹۸ ھ میں اپنے والد گرامی سے خلافت پائی۔ ماہ ربیع الاخر ۲۱۳ ھ میں جمعہ کے دن وفات پائی۔ مرقد پاک مدینہ منورہ میں ہے۔
(۱۰)- سیّدنا موسیٰ الجون: ان کی والدہ ھند بنت ابی عبیدۃ ؓ تھیں۔ رجب ۱۰۳ ھ میں مدینہ منورہ میں ولادت ہوئی۔ ۱۳۳ ھ میں سلسلہ حسنیہ قطبیہ و زیدیہ حسینیہ میں اپنے بڑے بھائی حضرت سیدنا امام محمد نفس زکیہ علیہ السلام سے بیت حاصل ہوئی۔ ماہ جمادی الآخر ۱۵۶ ھ میں مدینہ طیبہ میں رحلت فرمائی۔ مزار مقدس اسی سر زمین پاک میں ہے۔
(۱۱)- سیّدنا عبد اللہ المحض: ان کی والدہ سیدہ فاطمہ بنت حضرت امام حسین علیہ السلام تھیں۔ ۱۱ ربیع الآخر بروز دو شنبہ ۷۰ ھ میں مدینہ منورہ میں آپ کی ولادت ہوئی۔ شعبان المعظم ۹۲ ھ میں والدِ ماجد حضرت حسن مثنیٰ سے خلافت پائی۔ ۱۸ رمضان المبارک ۱۴۵ ھ میں وصال فرمایا۔ مرقدِ مبارک جنت البقیع میں ہے۔
(۱۲)- سیّدنا حسنِ مثنیٰ: ان کی والدہ خولہ بنت منظور بن زبّان فزاری الکوفی تھیں۔ ۱۲ رمضان ۲۹ ھ میں آپ کی ولادت ہوئی۔ اپنے والد محترم سیّدنا امام حسن علیہ السلام سے ۴۵ ھ میں خلافت پائی۔ ۱۷ رجب ۹۷ ھ میں رحلت ہوئی۔ مزار شریف جنت البقیع میں ہے۔
(۱۳)- حضرت امام حسنِ مجتبےٰ علیہ السلام :۱۵ رمضان المبارک ۳ھ میں بروز پنج شنبہ مدینہ طیبہ میں ولادت ہوئی۔ جناب فاطمۃ الزہرا بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم آپ کی والدہ ماجدہ ہیں۔ ربیع اوّل ۳۵ ھ والدِ ماجد حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے خلافت و امامت کا شرف پایا ۲۸ صفر ۴۵ ھ میں جام شہادت نوش فرمایا۔
غلام حلقه بگوشِ رسول و ساداتم
زهے نجات نمودن حبیب آیاتم
(میں رسول اکرم ﷺ اور جملہ سادات کا دست بستہ غلام ہوں۔ ہماری نجات کے لیے یہ کتنی محبوب نشانیاں موجود ہیں۔)
کفایت است ز روحِ رسول و اولادش
همیشه در دو جهاں جملۀ مهمّاتم
(رسالت مآب ﷺ اور آپؐ کی اولاد کی ارواح فتوح، دونوں جہاں کے امور کے لیے اور جملہ مہمات کے لیے کفایت کرنے والی ہیں۔)
ز غیر آلِ نبی حاجتے اگر طلبم
روا مداری کے از هزار حاجاتم
(اگر میں آلِ نبیؐ کے وسیلہ کے بغیر اپنے پروردگار سے مانگوں تو ایک ہزار حاجتوں میں سے ایک بھی حاجت پوری نہ ہو۔)
دلم ز حبِّ محمد پُر است و آلِ مجید
گواهِ حالِ منست ایں همه حکایاتم
(میرا دل حبِ محمدﷺ اور آپؐ کی برگزیدہ آل کی محبت سے معمور ہے۔ میرا حال اور کیفیت میرے اس فلسفے اور عقیدت پر گواہ ہے۔)
چوں ذرّه ذرّه شود ایں تنم بخاکِ لحد
تو بشنوی صلوات از جمیع ذرّاتم
(جب قبر میں میرا تن خاک میں ذرہ ذرہ ہو جائے گا تو اے دنیا والو! تم میرے جسم کے تمام ذرات خاکی سے صلوٰۃ کی آوازیں سنو گے۔)
غلامِ خادمِ خدامِ خاندانِ تو ام
ز خادمی تو دانم بود مهاباتم
(یا نبی اللہ! میں آپؐ کے خاندان کے خادموں کے خادم کا بھی غلام ہوں۔ مجھے جو یہ عظیم الشان رتبہ ملا ہے وہ اسی غلامی کے باعث ملا ہے۔)
سلام گویم و صلوات با تو هر نفسے
قبول کن بکرم ایں سلام و صلواتم
(یا نبی اللہ! میں ہر سانس کے ساتھ اور ہر دم آپؐ پر درود و سلام پڑھتا ہوں۔ اسے از راہِ لطف و کرم قبول فرما لیجئے۔)
گناه بے حد من بیں تو یا رسول اللّٰه!
شفاعتے بکن و محو کن خیالاتم
(یا رسول اللہ! میرے گناہ بے حد و حساب ہیں، میں ان پر نادم اور پشیمان ہوں۔ آپ ہی میری شفاعت کیجئے اور میری پریشانیوں کو ختم کیجئے۔)
ز هر که بدتر ازو نیست من ازو بترم
ندانم اینکه بتو چوں شور ملاقاتم
(میں اپنے آپ کو ہر بدتر انسان سے بھی برا سمجھتا ہوں۔ نادم ہوں کہ آپؐ سے ملاقات پر کس طرح منہ دکھاؤں گا۔)
ز نیک و بد همه داند که من محمدی ام
خلائقے که کند گوش بر ملاقاتم
(ہر اچھا اور برا آدمی جانتا ہے کہ میں محمدی ہوں۔ رسالت مآب ﷺ کا غلام ہوں۔ اسی لیے ملاقات پر لوگ میری باتوں پر توجہ دیتے ہیں۔)
بگوئی محؔی که بهرِ نجات می گویند
درودِ سرورِ کونین در مناجاتم
(اے محی الدین! اپنی مناجاتوں میں تم بھی سرورِ کونینﷺ پر درود و سلام پڑھو، کیونکہ دیگر لوگ بھی مشکلات سے نجات کی خاطر یہی درود ہی پڑھتے ہیں۔



** تعلیمات امیر ( Taleemat e Ameer r.a)
** ستائسواں حصہ (part-27)
آج کچھ فتنہ پرور ملا ہیں جن کا ایجنڈا خارجیت کو فروغ دینا ہے، جن کا ایجنڈا محبت و ادبِ رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اور محبت آل بیت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ختم کرنا ہے۔ اگر وہ اہل بیت کے ذکر اور ذکر حسین کا طعنہ دیتے ہیں اور پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ تم شیعہ ہوگئے تو ان کے پروپیگنڈہ پر لعنت ہوگی، قیامت کے دن مواخذہ ہوگا، ہمیں کسی کے پروپیگنڈے سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ کیا مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ محبت کی نسبت اور اہل بیت کے ساتھ تعلق کی پختگی میں ہمارا ایمان اتنا کمزور ہوگیا ہے؟ کہ کسی کے پروپیگنڈہ کے ڈر سے چپ کرکے بیٹھ جائیں! اور مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد کے ذکر کو چھوڑ دیں۔ جب امام مالک نے کوڑے کھاکر ان کی محبت کی راہ نہیں چھوڑی۔۔۔ امام اعظم کا جنازہ جیل سے اٹھا مگر مودت نہیں چھوڑی۔۔۔ امام شافعی پر رافضی۔ شیعہ ہونے کی تہمت لگی مگر مودت نہیں چھوڑی۔۔۔ امام احمد بن حنبل نے کوڑے کھائے فتوی دیا، محبت نہیں چھوڑی۔۔۔ تو پھر ہم کیوں اہل سنت والجماعت کا اپنا طریق چھوڑتے ہیں۔ کل اولیاء، ابدال، قطب، غوث اور ولی محبتِ و مؤدتِ اہل بیت میں ڈوبا ہوا تھا۔ کوئی ولی مرتبہ ولایت کو نہیں پہنچتا جب تک اس کی ولایت کو سیدہ کائنات فاطمۃ الزہرائ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی توثیق نہیں ملتی۔۔۔ کوئی ولی شان ولایت کو نہیں پاتا جب تک مولا علی شیر خدا کی مہر نہیں لگتی کیونکہ وہ فاتح الولایت اور امام ولایت ہیں۔
📚 ماخذ از کتاب چراغ خضر۔