Taleemat e Ameer 4

** تعلیمات امیر (Taleemat e Ameer r.a)
** چوتھا حصہ (part-4)…

پس تمام روہانی سلسلہ آپ پر ہی منتہی ہوتے ہیں اور تمام ولیوں کی ولایت آپ ہی کا خاصّہ ہے۔ پس فقیر ان پانچ برگزیدہ ہستیوں کا ذکر کرنے کی سعادت حاصل کرتا ہے کہ جن سے گروہ صوفیاء کا سلسلہ بلواسطہ یہ بلاواسطہ تور پر جاری و ساری ہوا اور اس کے بعد فقیر ائمہ اثنا عشریہ ان ۱۲ خلیفہ برحق کا ذکر کرنے کی سعادت حاصل کریگا جو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کے بلافصل جانشین ٹھہرے۔ پس ان سب میں پہلے امام حسن ال مجتبی سرکار سبز قبا علیہ السلام ہے کہ جو علم بزرگی مرتبہ مقام شجاعت بلاغت سخاوت شرافت امامت وجاہت قناعت میں اپنے جدّ سرورے کونین سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنے پدرے بزرگوار حضرت مولی المتقیان امام علی علیہ السلام کے حقیقی جانشین ٹھیریں۔
۱۔ پس آپؑ سے آپ کے برادر اصغر امام حسین علیہ السلام نے اور ان سے آپ کے فرزند ارجمند امام حسن ال مثنی علیہ السلام نے بیت و خلافت حاصل کیا جن سے ‘قطبیہ’ اور ‘قادریہ’ سلسلہ کا آغاز ہوا۔جو اس طرح سے ہے کہ حضرت رسول القدس محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خرقہ خلافت حضرت مولی علی علیہ السلام کو عطا کیا۔جن سے خرقہ خلافت امام حسن مجتبی علیہ السلام کو حاصل ہوا جن سے امام حسین شہید کربلا علیہ السلام کو حاصل ہوا جن سے حضرت حسن مثنیؑ کو حاصل ہوا جن سے حضرت عبداللہ ال محضؑ کو حاصل ہوا جن سے حضرت محمد ذیاالنفس زکیہ شہیدؑ کو حاصل ہوا (پس ان سے دو سلسلہ، سلسلہ قطبیہ جو امام حسنؑ سے آپ تک پہنچا اور دوسرا سلسلہ زیدیہ جو حضرت زید شہیدؑ سے پہنچا تھا کا آغاز ہوا جس کے آپ امام تھیں) اور آپ سے آپ کے چھوٹے بھائی حضرت موسی الجونؑ کو خرقہ خلافت حاصل ہوا (پس ان سے سلسلہ قادریہ کا آغاز ہوا جو حضور غوث الاعظم شیخ سید عبدالقادر جیلانی کی نسبت سے مشہور و معروف ہے)۔ اس طرح سلسلہ زیدیہ حضرت سرکار امیر کبیر ابو محمد عبد اللہ ال اشتر شہید عرف عبد اللہ شاہ غازیؒ سے سندھ (پاکستان) کی سرزمین پر پہنچا۔
اور سلسلہ قطبیہ کبیریہ حضرت سرکار غوث العالمین ہندل ولی بادشاہ مطلک امیر کبیر سید قطب الدین محمد ال مدنی ال کڑوی رحمت اللہ علیہ سے ہندوستان کی سرزمین پر پہنچا۔ اور اس طرح سے خانوادہ و سلسلہ بزرگ برتر قطبیہ کبیریہ سے سب سے اول ہند- سندھ کی سرزمین پر دین حق کا پرچم پھیرا اور ان کے مقدس وجود سے یہ سرزمین شاد آباد ہوئی۔ لیکن اس عالی شان خاندان و سلسلہ کے بزرگوں نے ہمیشہ اپنے آپ کو چھپاۓ رکھا اور امر مخفی کے تحت ان کو پس پردہ رکھا گیا۔ پس وقت وقت پر امر خاص کے تحت بزرگوں میں اشخاص پر ان کی عظمت عیاں رہی۔ پس انہی اشخاص میں ایک حضرت مخدوم اشرف سمنانی کچھوچھوی رحمت اللہ علیہ بھی ٹھیریں جنہوں نے اپنے مکتوبات میں یہ ارشاد فرمایا کہ ‘سادات کڑا جو سادات بنی حسن ال مجتبی علیہ السلام سے ہیں، ان کے حسب (شانِ بزرگی و کمالات) و نسب (سلسلہ آباؤ اجداد) کی طہارت میں میرے پاس کوئی کلام نہیں یعنی یہ خاندان و سلسلہ بےمثل و بےمثال ہے۔

📚 ماخز از کتاب چراغ خضر و منبع الولایت۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s