Taleemat e Ameer 3

** تعلیمات امیر (Taleemat e Ameer r.a)
** تیسرا حصہ (part-3)…

حضرت نظام الدین اولیاء راحت القلوب اور سیر الاولیاء میں خواجگان چشت سے روایت کرتے ہیں کہ ‘اللہ ربّ العزت نے شب معراج حبیب مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خرقہ عطا کیا اور یہ ارشاد فرمایا کہ اے محبوبؑ اس خرقہ مقدس کو اپنے اصحاب میں اس کو عنایت فرمائیےگا جو اس کا اہل ہو۔ اور اس خرقہ کے متعلق کچھ راز و نیاز کی باتیں خدا اور اس کے محبوبؑ کے درمیان ہوئی۔ پس سرکار علیہ السلام نے اپنے اصحاب میں سے حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ و حضرت مولی علی علیہ السلام کو بلایا اور ارشاد فرمایا کہ ‘خداوند قدوس نے مجھ کو معراج والی رات یہ خرقہ عطا کیا ہے اور یہ حکم دیا ہے کہ اس کو میں اس کے اہل تک پہنچاؤں۔ پس سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکرؓ کو بلا کر سوال کیا کہ اگر یہ خرقہ تم کو عنایت کروں تو تم کیا کرو گے؟ آپ نے فرمایا میں صدق سے کام لوں گا اور طاعت کروں گا۔
پھر سرکار علیہ السلام نے حضرت عمرؓ کو بلایا اور ان سے بھی یہی سوال کیا؟ ۔حضرت عمرؓ نے فرمایا! ‘میں عدل و انصاف کروں گا۔ اس کے بعد سرکارؐ نے حضرت عثمانؓ کو بلایا اور ان کے سامنے بھی یہی سوال رکھا۔حضرت عثمانؓ نے عرض کیا کہ میں سخاوت کروں گا اور اتفاق کروں گا۔ پھر سرکار علیہ السلام نے حضرت مولی علی علیہ السلام سے بھی یہی سوال پوچھا ‘کہ اے علیؑ اگر یہ خرقہ تم کو مل جائے تو تم اس کا کیا کرو گے؟ حضرت مولی علی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ ‘اے حبیب مکرم صلی اللہ علیہ وسلم میں اس خرقہ سے بندگانِ خدا کے عیب چھپاؤں گا ان کی پردہ پوشی کروں گا۔ پس پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ خرقہ حضرت مولی علی علیہ السلام کو مرحمت فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ مجھے خدا نے حکم فرمایا تھا کہ جو شخص یہ جواب دے اسی کو خرقہ عطا کرنا۔
پس فقیر کہتا ہے کہ حضرت سرکار مولی علی علیہ السلام کے پانچ خلیفہ ہوئے کہ جس طرح سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے پانچ خلیفہ ہوئے جن میں تین کا انتخاب حکمت خدا کے تہت لوگوں نے کیا اور حضرت علی علیہ السلام کا انتخاب امر مخفی کے تہت خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا جن کے قائم مقام ظاہر و باطن پانچوے خلیفہ راشد کے شکل میں سید السادات، فخر ائمہ اہل بیت حضرت امام حسن ال مجتبی علیہ السلام پر ۳۰ سال خلافت راشدہ کا مکمل ہوا۔ اور یوں حضرت امام حسن علیہ السلام پر خلافت راشدہ کا اختتام اور مولی علی علیہ السلام کی ظاہری اور باطنی خلافت کا آغاز ہوا۔ پس خدا کی منشا اور مشیت کے تحت صبح قیامت تک ‘امیر ملک اللہ’ امیر المومنین مولی علی علیہ السلام کی حکومت ملک اللہ یعنی تمام عالمین پر حشر نشر تک قایم کر دی گئی ہے جس سے کسی بھی حالت میں کوئی نکل نہی سکتا۔ پس جس نے خودمختاری اور خدسری کرنے کی کوشش کرنی چاہی تو وہ خسارہ میں رہا۔

📚 ماخز از کتاب چراغ خضر و منبع الولایت۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s