Bayt ke fayade’n

بیــعت ہونےکا فــائدہ حضرت مُعینُ الدّین اجمیری قدس سرہ العزیز کی عادتِ مُبارکہ تھی کہ ہمسائے کے ہر جنازے پر پہنچتے تھے۔اکثر اوقات میّت کے ساتھ قبر پر بھی تشریف لے جاتے اور تدفِین کے بعد جب لوگ چلے جاتے تو پِھر بھی کچھ وقت کے لیے آپ رحمۃ اللّٰه علیہ قبر پر بیٹھے رہتے۔ ایک دن حضرت خواجہ ہارونی رحمۃ اللّٰه علیہ کا ایک مُریِد فوت ہو گیا۔ خواجہ مُعینُ الدّین رحمۃ اللّٰه علیہ نمازِ جنازہ پڑھنے کے بعد حسبِ عادت اس قبر پر بیٹھے رہے اور مراقبہ فرمایا۔ حضرت خواجہ قُطب الدّین بختیار کاکی رحمۃ اللّٰه علیہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ اچانک حضرت مُعینُ الدّین رحمۃ اللّٰه علیہ دہشت کے عالم میں اپنی جگہ سے گھبرا کر اُٹھے اور آپ رحمۃ اللّٰه علیہ کے چہرۂ مُبارک کا رنگ متغیر تھا۔کچھ وقت کے بعد آپ رحمۃ اللّٰه علیہ کی طبیعت بحال ہوئی تو آپ رحمۃ اللّٰه علیہ نے فرمایا: • ” بیــعت بھی عجیب چیز ہے۔ ” حضرت خواجہ قُطب الدّین بختیار کاکی نے عرض کی کہ: ” میں نے عجیب کیفیت دیکھی ہے۔پہلے آپ کا رنگ متغیر ہو گیا تھا اور پِھر کچھ وقت کے بعد بحال ہو گیا تھا اس کی کیا وجہ تھی؟ ” فرمایا: ” جب لوگ اس میّت کو دفن کر کے چلے گئے تو اسے عذاب دینے کے لیے دو فرشتے آئے۔وہ اسے عذاب دینا چاہتے تھے کہ حضرت عثمان ہارونی ( رحمۃ اللّٰه علیہ ) کی صُورت سامنے آ گئی۔آپ ہاتھ میں عصا لیے ہوئے تھے۔آپ نے فرمایا اے فرشتو! یہ ہمارے مُریِدوں میں سے ہے اسے عذاب نہ دو۔فرشتوں نے کہا! آپ کا یہ مُریِد آپ کے طریقے پر نہ چلتا تھا۔آپ نے فرمایا! اگرچہ یہ میرے طریقے کے خلاف چلتا تھا،لیکن اس نے اپنا ہاتھ فقیر کے دامن میں ڈالا ہُوا ہے۔ غیب سے حُکم ہُوا اے فرشتو! اسے چھوڑ دو ہم نے اس کے پِیر کے طفیل اس کے گناہ بخش دیے۔طریقت کی بیعت ایسے کٹھن مرحلے میں کام آتی ہے۔ ( مرآت العاشقین،صفحہ۲۲۱،۲۲۲ )

Benefit of swearing allegiance

Hazrat Moin-ud-Din Ajmeri Quds Surah Al-Aziz used to visit every funeral of the neighbor.  Sitting on the grave.
One day a disciple of Hazrat Khawaja Haruni (may Allah have mercy on him) died.
Khawaja Mu’in-ud-Din (may Allah have mercy on him) after the funeral prayers, as usual, sat on the grave and meditated.
Hazrat Khawaja Qutbuddin Bakhtiar Kaki (may Allah have mercy on him) was also with him.
Suddenly, Hazrat Moin-ud-Din (may Allah have mercy on him) got up from his place in the world of terror and the color of his blessed face was changing.  •
“Allegiance is also a strange thing.  ”
Hazrat Khawaja Qutbuddin Bakhtiar Kaki said:
“I have seen a strange condition. First your color had changed and then after some time it was restored. What was the reason for that?”  ”
He said:
When the people buried the corpse and left, two angels came to torment him. They wanted to torment him that Hazrat Uthman Haruni (may Allah have mercy on him).
He was holding a staff in his hand. He said: O angel!  He is one of our disciples. Do not torment him. The angels said!
This disciple of yours did not follow your way. You said!  Although it went against my method, it has put its hand at the feet of the poor.
Ordered from the unseen, O angels!  Leave him alone, we have forgiven his sins for the sake of his feet. Allegiance to the method is useful in such a difficult stage.

(Miraat-ul-Aashiqeen, page 2.2)

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s