AHLE BAIT-E-PAAK Ke Naamo Ke Saath ALYHISSALAM Lagane

Jo Log AHLE BAIT-E-PAAK Ke Naamo Ke Saath ALYHISSALAM Lagane Par Aitraaz Karte Hain Wo Is Post Ko Zaroor Padhein….

اھل بیت کے ناموں کے ساتھ علیہ السلام کیوں کہتے ہیں؟

قرآن وحدیث سے زبردست تحقیق

سورہ احزاب کی مشہور آیت 56 :
إِنَّ اللَّهَ وَ مَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ياأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَ سَلِّمُوا تَسْلِيماً کی تفاسیر اہل سنت و اہل تشیع اور اسی طرح محدثین اہل سنت جیسے بخاری و مسلم لکھتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی اصحاب کرام اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا اے اللہ کے حبیب آپ پر کس طرح سلام ( سلمو تسلیما ) بھیجا جائے یہ تو علم ہے ہمیں آپ پر صلوات کیسے پڑھی جائے ؟ تو فرمایا اس طرح پڑھو : اَلّهُمَّ صَلِّ عَلي مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ كَما صَلَّيْتَ عَلي اِبْراهيِمَ وَ آلِ اِبْراهِيمَ وَ آلِ اِبْراهِيمَ فِي الْعالَمِينَ اِنَّكَ حَمِيدٌ مَجيِدٌ
( صحيح بخاري، ج 6،‌ ص 151 ـ صحيح مسلم،‌ ج 1، ص 305)
اسی طرح دوسری روایت میں ملتا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے آدھی صلوات پڑھنے سے منع کیا ہے کہ کوئی کہے کہ صلی اللہ علیہ یا اللہم صل علی محمد اور آلہ و آل محمد نہ کہے ملاحضہ فرمائیں : لا تُصَلُّوا عَلَيَّ الصَّلاَ الْبَتْراء مجھ پہ آدہی صلوات نہ پڑہا کرو بلکہ اس طرح پڑہا کرو : اَللهُمَّ صَلَّ عّلي مُحَمَّدٍ وَ آل مُحَمَّدٍ (الصّواعق‌المحرقه، ص 144)
سورہ 37 (صافات)آیت 130میں اللہ فرماتا ہے۔
سلام علی آل یاسین (یعنی سلام ہو یسین کی آل پر)
خاندان رسالت کی اہم خصوصیات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ قرآن مجید میں ہرجگہ مخصوص طور پر انبیائے کرام پر سلام ہے اللہ فرماتا ہے ۔”سلام علی نوح فی العالمین”،”سلام علی ابراہیم “،”سلام علی موسی وھارون” (سورہ صافات) لیکن کسی مقام پر اولاد انبیا ء کے لیئے سلام نہیں آیا ہے ،سوا اولاد خاتم الانبیاء کے جن کے لئے ارشاد الہی ہے ، سلام علی آل یاسین ، یاسین بھی رسول خدا ﷺ کا ایک نام ہے اور یہ کہ “یٰس”پیغمبر صلّی اللہ علیہ وآلہ کا نام مبارک ہےآپ کو معلوم ہے کہ قرآن مجید میں حضور ﷺ کےبارہ ناموں میں سے پانچ نام امت کی مزید معرفت کے لیے ذکر کئے گئے ہیں اور وہ پانچ مقدس نام ہیں محمد، احمد، عبداللہ، نون اور یاسین ہیں ۔سورہ نمبر 36 کے شروع میں اللہ فرماتا ہے “یس و القرآن الحکیم انّک لمن المر سلین ” یا حرف ندا اور “س حضور ﷺ کا نام مبارک اور حضور ﷺ کی ظاہری وباطنی معتدل حقیقت اور مساوات کی طرف اشارہ ہے
ابن حجر نے صواعق محرقہ کے اندر جو آیات فضائل اہل بیت علیھم السلام میں نقل کی ہے ان میں سے تیسری آیت کے ذیل میں لکھا ہے کہ مفسّرین کی ایک جماعت نے مفسّر اور خیر امّت ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ “المراد بذالک سلام علی آل محمد”یعنی الیاسین سے مراد آل محمد ﷺ ہیں لہذا آل یاسین پر سلام کا مطلب ہے سلام آل محمد ﷺ پر اور لکھتے ہیں کہ اما م فخر الدین رازی نے ذکر کیا ہے ۔ان اہل بیتہ صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم یساوونہ فی خمسۃ اشیاء ،فی السلام قال” السلام علیک ایھا النبی” و قال” سلام علی الیاسین “، فی الصلواۃ علیہ علیھم فی التشھد وفی الطھارۃ قال اللہ تعالی “طہ یا طاھر “وقال ” یطھرکم تطھیرا “،و فی تحریم الصدقۃ ،وفی المحبۃ قال تعالی “قل ان کنتم تحبّون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ وقال قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی” ۔(یعنی رسول کے اہل بیت علیھم السلام پانچ چیزوں میں حضور صلئ اللہ علیہ وسلم سے مشابہت رکھتے ہیں اول سلام میں فرمایا سلام حضور پاک ﷺ پر اور یہ بھی فرمایا سلا م آل یاسین پر (یعنی سلام آل محمد ﷺ پر) دوسرے صلوات میں تشہد نماز میں تیسرے طہارت میں خدائے تعالی نے فرمایا ہے طہ یعنی اے طاہر اور ان حضرات کے بارے میں آیت تطہیر نازل فرمائی ۔چوتھے تحریم صدقہ میں کیونکہ حضور ﷺ اور ان کے اہل بیت پر صدقہ حرام ہے ،پانچویں محبت میں،کیوں کہ خدائے تعالی نے فرمایا (محمد ﷺ ) کہہ دو(امت سے )میں تم سے کوئی اجر یا بدلہ نہیں چاہتا سوائے میرے قرابتداروں یعنی اہلبیت سےمودت کے) سید ابو بکر بن شہاب الدین علوی کتاب “شفتہ الصادی من الصادی من بحر فضائل بنی النبی الھادی(مطبوعہ مطبعہ اعلامیہ مصر سنہ 1303ھ کے باب اول صفحہ 24 پر مفسرین کی ایک جماعت سے روایت ابن عباس ونقاش کلبی سے اور باب 2 صفحہ 42 پر نقل کیا ہے کہ آیت میں آل یاسین سے مراد آل محمد ﷺ ہیں اور امام فخرالدین رازی نے تفسیر کبیر جلد ہفتم صفحہ 163 میں اسی آیت شریفہ کے ما تحت آیت کے معنی میں کئی وجہیں نقل کی ہیں اور وجہ دوم میں کہا ہے کہ الیا سین سے مراد آل محمد سلام اللہ علیھم اجمعین ہیں نیز ابن حجر نے صواعق محرقہ میں ذکر کیا ہے کہ مفسرین کی ایک جماعت نے ابن عباس سے نقل کیا ہے ، انہوں نے کہا “سلام علی الیاسین” سلام آل محمد ﷺ پر
اس کے علاوہ اکثر علما و محدثین اہل سنت اہل بیت علیہم السلام کے ساتھ ’’ علیہ السلام ‘‘ لکھتے تھے جبکہ آج کے موجودہ علماء اہل سنت خدا جا نے کس کی پیروی کرتے ہیں ملاحضہ فرمائیں :
علماء اہل سنت نے لفظ “علیہ السلام “کو اہل بیت علیہم السلام کے لئے استعمال کرتے تھے اور قدیمی احادیث ، کلام ، اور سیرت ۔۔۔ کی کتابوں میں یہ الفاظ ذکر کئے ہیں
“علی علیہ السلام و فاطمہ علیہا السلام و حسن علیہ السلام و حسينِ بنِ عليٍّ عليه السلام” کے اسماءِ گرامی کے ساتھ علیہ سلام لگیا ہے

محمد ابن اسماعیل البخاری
امام بخاری نے بھی علیہ السلام لکھا ہے :
علی علیہ السلام و فاطمہ علیہا السلام
صحیح بخاری کتاب البیوع باب: سناروں کا بیان حدیث نمبر : 2089 حدثنا عبدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا يونس، عن ابن شهاب، قال أخبرني علي بن حسين، أن حسين بن علي ـ رضى الله عنهما ـ أخبره أن عليا ـ عليه السلام ـ قال كانت لي شارف من نصيبي من المغنم، وكان النبي صلى الله عليه وسلم أعطاني شارفا من الخمس، فلما أردت أن أبتني بفاطمة ـ عليها السلام ـ بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم واعدت رجلا صواغا من بني قينقاع أن يرتحل معي فنأتي بإذخر أردت أن أبيعه من الصواغين، وأستعين به في وليمة عرسي.
حسین علیہ السلام
أُتِيَ عبيدُ اللهِ بنُ زيادٍ برأسِ الحسينِ بنِ عليٍّ عليه السلام ، فجَعَلَ في طَسْتٍ ، فجَعَلَ يَنْكُثُ ، وقال في حُسْنِه شيئًا ، فقال أنسٌ : كان أَشْبَهَهم برسولِ الله صلى الله عليه وسلم، وكان مَخْصوبًا بالوَسْمَةِ . الراوي: أنس بن مالك المحدث:البخاري – المصدر: صحيح البخاري – الصفحة أو الرقم: 3748 خلاصة حكم المحدث: [صحيح]

  • سنن ابی داود از صحاح ستہ
    1) ابو داود نے اس روایت میں امام علی علیہ السلام کے ساتھ لفظ استعمال کیا
    حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِىٍّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يُصَلِّى قَبْلَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ.
    سنن أبي داود ج۲ ص ۳۸ المؤلف : أبو داود سليمان بن الأشعث السجستاني
    2) علی علیہ السلام کے لئے کتاب زکات میں لفظ علیہ السلام لکھا ہے
    حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِىٍّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « قَدْ عَفَوْتُ عَنِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ فَهَاتُوا صَدَقَةَ الرِّقَةِ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ وَلَيْسَ فِى تِسْعِينَ وَمِائَةٍ شَىْءٌ فَإِذَا بَلَغَتْ مِائَتَيْنِ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ ».
    سنن أبي داود ج۲ ص ۱۵۸المؤلف : أبو داود سليمان بن الأشعث السجستاني
    3) سنن داود میں کافی مقامات پر “علی علیہ السلام ” لکھا گیا ہے لیکن
    اختصار کی خاطر فقط عربی عبارت کے ذکر پر اکتفاء کیا جاتا ہے
    سنن داود کے کچھ دوسرے مقامات :
    4) : باب تحلیل
    حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ عَنْ خَالِدٍ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ عَامِرٍ عَنِ الْحَارِثِ الأَعْوَرِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ فَرَأَيْنَا أَنَّهُ عَلِىٌّ – عَلَيْهِ السَّلاَمُ – عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِمَعْنَاهُ.
    5) باب الرَّجُلِ يَمُوتُ لَهُ قَرَابَةُ مُشْرِكٍ
    : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنِى أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ نَاجِيَةَ بْنِ كَعْبٍ عَنْ عَلِىٍّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ قَالَ قُلْتُ لِلنَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- إِنَّ عَمَّكَ الشَّيْخَ الضَّالَّ قَدْ مَاتَ. قَالَ « اذْهَبْ فَوَارِ أَبَاكَ ثُمَّ لاَ تُحْدِثَنَّ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِى ». فَذَهَبْتُ فَوَارَيْتُهُ وَجِئْتُهُ فَأَمَرَنِى فَاغْتَسَلْتُ وَدَعَا لِى.
    حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ قَالَ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ حَنَشٍ عَنْ عَلِىٍّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ قَالَ بَعَثَنِى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِلَى الْيَمَنِ قَاضِيًا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُرْسِلُنِى وَأَنَا حَدِيثُ السِّنِّ وَلاَ عِلْمَ لِى بِالْقَضَاءِ فَقَالَ « إِنَّ اللَّهَ سَيَهْدِى قَلْبَكَ وَيُثَبِّتُ لِسَانَكَ فَإِذَا جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْكَ الْخَصْمَانِ فَلاَ تَقْضِيَنَّ حَتَّى تَسْمَعَ مِنَ الآخَرِ كَمَا سَمِعْتَ مِنَ الأَوَّلِ فَإِنَّهُ أَحْرَى أَنْ يَتَبَيَّنَ لَكَ الْقَضَاءُ ». قَالَ فَمَا زِلْتُ قَاضِيًا أَوْ مَا شَكَكْتُ فِى قَضَاءٍ بَعْدُ.
    6) باب فِى الأَوْعِيَةِ.
    حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سُمَيْعٍ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ عُمَيْرٍ عَنْ عَلِىٍّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ قَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَالْجِعَةِ.
    7) باب فِى أَكْلِ الثُّومِ
    حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا الْجَرَّاحُ أَبُو وَكِيعٍ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ عَنْ شَرِيكٍ عَنْ عَلِىٍّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ قَالَ نُهِىَ عَنْ أَكْلِ الثُّومِ إِلاَّ مَطْبُوخًا. قَالَ أَبُو دَاوُدَ شَرِيكُ بْنُ حَنْبَلٍ.
    8): باب فِى الْحِمْيَةِ.
    عَنْ أُمِّ الْمُنْذِرِ بِنْتِ قَيْسٍ الأَنْصَارِيَّةِ قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَمَعَهُ عَلِىٌّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ وَعَلِىٌّ نَاقِهٌ وَلَنَا دَوَالِى مُعَلَّقَةٌ
    9)باب فِى الْمَجْنُونِ يَسْرِقُ أَوْ يُصِيبُ حَدًّا.
    « رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلاَثَةٍ عَنِ الصَّبِىِّ حَتَّى يَبْلُغَ وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ وَعَنِ الْمَعْتُوهِ حَتَّى يَبْرَأَ ». وَإِنَّ هَذِهِ مَعْتُوهَةُ بَنِى فُلاَنٍ لَعَلَّ الَّذِى أَتَاهَا أَتَاهَا وَهِىَ فِى بَلاَئِهَا. قَالَ فَقَالَ عُمَرُ لاَ أَدْرِى. فَقَالَ عَلِىٌّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ وَأَنَا لاَ أَدْرِى
    10) : باب أَيُقَادُ الْمُسْلِمُ بِالْكَافِرِ
    حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَمُسَدَّدٌ قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِى عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَالأَشْتَرُ إِلَى عَلِىٍّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَقُلْنَا هَلْ عَهِدَ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- شَيْئًا لَمْ يَعْهَدْهُ إِلَى النَّاسِ عَامَّةً قَالَ لاَ إِلاَّ مَا فِى كِتَابِى هَذَا – قَالَ مُسَدَّدٌ قَالَ – فَأَخْرَجَ كِتَابًا – وَقَالَ أَحْمَدُ كِتَابًا مِنْ قِرَابِ سَيْفِهِ – فَإِذَا فِيهِ « الْمُؤْمِنُونَ تَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ أَلاَ لاَ يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ وَلاَ ذُو عَهْدٍ فِى عَهْدِهِ مَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا فَعَلَى نَفْسِهِ وَمَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ». قَالَ مُسَدَّدٌ عَنِ ابْنِ أَبِى عَرُوبَةَ فَأَخْرَجَ كِتَابًا.
    11) باب فِى الْقَدَرِ.
    حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ قَالَ سَمِعْتُ مَنْصُورَ بْنَ الْمُعْتَمِرِ يُحَدِّثُ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَبِيبٍ أَبِى عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِىِّ عَنْ عَلِىٍّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ قَالَ كُنَّا فِى جَنَازَةٍ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَجَلَسَ وَمَعَهُ مِخْصَرَةٌ فَجَعَلَ يَنْكُتُ بِالْمِخْصَرَةِ فِى الأَرْضِ۔۔۔۔۔
    12) باب فِى قِتَالِ الْخَوَارِجِ.
    حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ أَبِى نُعْمٍ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ قَالَ : بَعَثَ عَلِىٌّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِذُهَيْبَةٍ فِى تُرْبَتِهَا فَقَسَّمَهَا بَيْنَ أَرْبَعَةٍ بَيْنَ۔۔۔۔۔
    13) باب فِى حَقِّ الْمَمْلُوكِ.
    حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ أُمِّ مُوسَى عَنْ عَلِىٍّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ قَالَ كَانَ آخِرُ كَلاَمِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « الصَّلاَةَ الصَّلاَةَ اتَّقُوا اللَّهَ فِيمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ».
    مزید عبارات کو طول کے خدشہ کی خاطر چھوڑ رہے ہیں۔
  • سنن ترمذی از صحاح ستہ
    ترمذی نے کتاب جنائز باب عیادت المریض
    حدثنا أحمد بن منيع حدثنا الحسن بن محمد حدثنا إسرائيل عن ثوير ( عن ابن أبي فاختة ) عن أبيه قال : أخذ علي بيدي قال انطلق بنا إلى الحسن نعوده فوجدنا عنده أبا موسى فقال علي عليه السلام أعائدا جئت يا أبا موسى ! أم زائرا ؟ فقال لا بل عائدا فقال علي سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول ما من مسلم يعود مسلما غدوة إلا صلى عليه سبعون ألف ملك حتى يمسى وإن عاده عشية إلا صلى عليه سبعون ألف ملك حتى يصبح وكان له خريف في الجنة
    سنن ترمذی ج ۳ ص ۲۹۱ کتاب جنائز باب عیادت مریض
    برادرانِ اہلِ سنت کی کتبِ حدیث، تفسیر اور تاریخ کی عظیم ترین کتب میں ان ذواتِ مقدسہؑ کو علیہ سلام لکھا جاتا رہا ہے۔ اختصار کے ساتھ چند حوالے پیشِ خدمت ہیں۔
  • صحیح بخاری مع فتح الباری
  1. صحیح بخاری مع فتح الباری المطبعۃ الخیر یہ مصر جلد ششم کے صفحات 26،122،131،132،177 پر “فاطمہ علیہا السلام” لکھا ہے ۔
  2. جلد ششم (6) صفحہ 119میں ’’الحسین بن علی علیہما السلام ‘‘تحریر ہے ۔
  3. جلد ششم (6) صفحہ 364 پر ’’الحسن علی علیہ السلام ہے ۔
  4. جلد ہفتم (7) کے صفحات 53،56،114،236،345 اور 355میں ’’فاطمۃ علیہا السلام ‘‘موجود ہے۔
  5. جلد نہم (9) صفحہ ۱۰۹ پر ’’علی بن حسین علیہ السلام ‘‘ 274،407 میں ’’فاطمۃ علیہا السلام ‘‘تحریر ہے ۔
  6. جلد سیزدہم (13) ،صفحہ 347 پر’’حسین بن علی علیہ السلام ‘‘لکھا ہے ۔
    “عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری”
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری جلد ہفتم (7) صفحہ 237 مطبوعہ قسطنطنیہ میں ’’فاطمۃ علیہاالسلام ‘‘ہے.
    “ارشاد الباری شرح صحیح البخاری”
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ارشاد الباری شرح صحیح البخاری جلداول صفحہ 97 میں بھی ’’فاطمۃ علیہاالسلام ‘‘ لکھا ہے ۔
    “سنن أبي داود” أبو داود سليمان بن الأشعث السجستاني
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  7. سنن أبي داود ج2 ص 38 مؤلف : أبو داود سليمان بن الأشعث السجستاني پر “عَلِىٍّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ” لکھا ہے۔
  8. سنن أبي داود ج2 ص 158 پر کتابِ زکاۃ میں بھی “عَلِىٍّ عَلَيْهِ السَّلاَم” لکھا ہے۔
  9. بابِ تحلیل میں عَلِىٍّ عَلَيْهِ السَّلاَم لکھا ہے۔
  10. باب الرَّجُلِ يَمُوتُ لَهُ قَرَابَةُ مُشْرِكٍ میں بھی عَلِىٍّ عَلَيْهِ السَّلاَم لکھا ہے۔
  11. باب فِى الأَوْعِيَةِ میں بھی “عَلِىٍّ عَلَيْهِ السَّلاَم” لکھا ہے۔
  12. باب فِى أَكْلِ الثُّومِ میں بھی “عَلِىٍّ عَلَيْهِ السَّلاَم” لکھا ہے۔
  13. باب فِى الْحِمْيَةِ میں بھی “عَلِىٍّ عَلَيْهِ السَّلاَم” لکھا ہے۔
  14. باب فِى الْمَجْنُونِ يَسْرِقُ أَوْ يُصِيبُ حَدًّا میں بھی “عَلِىٍّ عَلَيْهِ السَّلاَم” لکھا ہے۔
  15. باب أَيُقَادُ الْمُسْلِمُ بِالْكَافِرِ میں بھی “عَلِىٍّ عَلَيْهِ السَّلاَم” لکھا ہے۔
  16. باب فِى الْقَدَرِ میں بھی “عَلِىٍّ عَلَيْهِ السَّلاَم” لکھا ہے۔
  17. باب فِى قِتَالِ الْخَوَارِجِ میں بھی “عَلِىٍّ عَلَيْهِ السَّلاَم” لکھا ہے۔
  18. باب فِى حَقِّ الْمَمْلُوكِ میں بھی “عَلِىٍّ عَلَيْهِ السَّلاَم” لکھا ہے۔
    سنن ترمذی ابی عیسیٰ محمد بن عیسیٰ
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  19. سنن ترمذی ج 3 ص 291 کتاب جنائز باب عیادت مریض
    میں “علي عليه السلام” تحریر ہے۔
    ” الملل و النحل” بیروت محمد بن عبد الکریم شہرستانی
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    صفحہ نمبر 91 پر “علی علیہ سلام” تحریر کر رہے ہیں۔
    “تفسیر کبیر” دارالطباعۃ العامرہ قسطنطنیہ علامہ فخر الدین
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  20. علامہ فخر الدین الرازمی نے تفسیر کبیر جلد 2،صفحہ 700 مطبوعہ دارالطباعۃ العامرہ قسطنطنیہ میں لکھا “الحسن والحسین علیھما السلام کانا ابنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم”
  21. ایضاً جلد ہشتم (8) صفحہ 322 پر تحریر ہے
    ھذہ ال آیات نزلت فی حق علی بن ابی طالب علیہ السلام ۔۔۔فی کتاب البیسط انھا نزلت فی حق علیہ السلام ۔۔۔ان الحسن والحسین علیھما السلام مرضا ۔۔۔اخذ علی علیہ السلام بید الحسن والحسین ۔۔ ۔ولا ینکر دخول علی ابن ابی طالب علیہ السلام فیہ ۔۔۔الذین یقولون ھذہ الا ےۃ مختصۃ بعلی علیہ السلام
    تفسیر مظہری قاضی ثنا ء اللہ پانی پتی
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    قاضی ثنا ء اللہ پانی پتی نے اپنی تفسیر مظہری جلد ہفتم صفحہ 412 پر لکھا
    رواہ احمد عن الحسین بن علی علیھما السلام ۔۔ ۔ وروی الطبرابی بسند حسن عن الحسین بن علی علیھما السلام –
    امام شافعی نے قرانِ مجید کی آیت
    ”قُلْ لَّا اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْراً اِلَّاالْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰی“
    کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شعر کہے انکے شعروں کیساتھ اپنی تحریر سمیٹتا ہوں کہ
    یااَھْلَ بَیْتِ رَسُوْلِ اللّٰہِ حُبُّکُمْ
    فَرَضٌ مِنَ اللّٰہِ فِی الْقُرآنِ اَنْزَلَہُ
    اے اہلِ بیتِؑ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خدا نے اپنی کتاب میں آپکی محبت فرض کی ہے۔
    کَفَاکُمْ مِنْ عَظِیْمِ الْقَدْرِ اِنَّکُمْ
    مَنْ لَمْ یُصَلِّ عَلَیْکُمْ لَاصَلوٰةَ لَہُ
    آپکی عظمت بیان کرنے کے لئے یہی کافی ہے کہ جو آپؑ پر صلواۃ نہ بھیجے (درور نہ پڑھے) اس کی نماز ہی نہیں ہوتی

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s