Taleemat e Ameer 81

** تعلیمات امیر (Taleemat e Ameer r.a)
** اکیاسیواں حصہ (part-81)

  • حج بیت اللہ زیارت بارگاہِ مصطفیؐ و تفویض تریق اویسیہ ۔
    مرشد سے جدائی کے بعد حضرت سید بدیع الدین احمد قطب المدار قدس سرہ حج بیت اللہ و زیارت بارگاہِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرف ہوئے اور پھر اپنے حاصل مراد معبود حقیقی کی یاد سے حریم دل کو آباد کرنے لگے اور ایک مخصوص مقام پر ذکر جان جاناں میں محو ومستغرق ہو گئے۔
    آپ نے ایسی گوشہ نشینی اختیار فرمائی کہ دنیا کہ تمام چیزوں سے قلب پاک منزہ ہوگیا۔ آپ کا باطن خالی اور مصفی ہوگیا اور دنیا و آخرت سے مجرد ہوگیں، تجلیات ربانیہ کی ہمراہی اور مشاہدات حقانیہ کی ہمنوائی میں ایک طویل عرصہ گزر گیا کہ اسی اثنا میں رحمت ونور کے پیغامبر صلی اللہ تعالی وآلہ وسلم اپنی نورانیت کے ساتھ عالم مثال میں ظاہر ہوتے ہیں اور اپنے دلبند بدیع الدین قطب المدار کو اپنے دامنِ رحمت میں ڈھاپ لیتے ہیں۔ پھر اتنے میں امیر المومینین حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم عیاں ہوتے ہیں اور بارگاہ رسالت سے حکم جاری ہوتا ہے “اے علی اپنے نور نظر کو روحانیت کی تربیت دے کر میرے پاس لاؤ !”۔
    تاجدار اقلیم ولایت نے آپکو اپنے آغوش عاطفت میں  لیکر آپکے روحانیت کو صیقل فرمایا اور قلب کو متحمل بار ے ولایت عظمی بناکر بارگاہ رسالت میں پیش کردیا رسول کائنات صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ بشمول عواطف فرماکر خانہ نبوت میں اسلام حقیقی تلقین فرمائی اور اپنے جمال جھاں آرا سے آپکے قلب وروح کو مزین فرما کر شرف اویسیت سے ممتاز فرمایا اور ہندوستان جانے کی تاکید فرمائی۔
    آپ مدینہ منورہ سے اپنے وطن حلب تشریف لے گئے اور اپنے برادر سید محمود الدینؒ کے تین فرزندوں حضرت سید ابو محمد ارغونؒ و حضرت سید ابو تراب فنصور اور حضرت ابوالحسن طیفورؒ کے ہمراہ
    ہندوستان تشریف لائیں۔ اور بعد میں ان ہی کو اپنا نائب و جانشین مقرر کیا۔

محمد اقبال مجددی اپنی کتاب تذکرہ علما ومشائخ پاکستان و ہند میں شاہ مدار کے بارے میں لکھتے ہیں کہ “آپ نے حلب میں ہی تعلیم اور علم کیمیا وغیرہ سیکھا اور جوانی میں ہی سیر وسیاحت کے لیے چل پڑے،طویل سفر کیے۔ پیغمبر اسلام محمدﷺ کے روہانی اشارے پر ہندستان آئے ،وہ اویسی المشرب تھے اور طریقئہ اویسیہ کو پاکستان اور ہند میں متعارف کروانے والے آپ ہی تھے۔ معروف صوفی شیخ اشرف جہانگیر سمنامی شاہ مدار کے معاصر اور کئی اسفار میں ان کے ہم سفر تھے۔ شاہ مدار گجرات کے راستے ہندستان آئے اجمیر پہنچ کر خواجہ معین الدین چشتی سے عقیدت ومودت کا اظہار کیا۔ اجمیر سے کالپی گئے وہاں بھی قبول عام حاصل ہوا وہاں سے قنوج میں داخل ہوئے تو خواص و عام نے استقبال کیا ،مخدوم جہانیاں جہاں گشت بخاری کے خلیفہ شیخ اخی جمشید نے بہت تکریم کی اور شاہ مدار نے قنوج کے مضافات میں مکن پور قصبہ میں سکونیت اختیار کی”۔

📚 ماخذ از کتاب چراغ خضر۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s