Taleemat e Ameer 70

** تعلیمات امیر (Taleemat e Ameer r.a)
** ستّرواں حصہ (part-70)

صاحبِ نزہۃ الخواطر فرماتے ہیں کہ۔
“اور وہ بغداد سے مغلوں کے فتنہ کے زمانہ میں اپنے والد کے شہادت کے بعد منتقل ہوئے اور غزنی میں داخل ہوئے اور وہاں ایک زمانے تک مقیم رہے۔
پھر وہ ہندوستان آئے شاید قطب الدین ایبک کے زمانے میں اور اس کے ساتھ مل کر اللہ کے راستے میں جہاد کرتے رہیں۔ چنانچہ ان کے دست حق پرست پر کڑا مانکپور اور ہنسوہ وغیرہ کے مضبوط اور سنگین قلے فتح ہوئے۔

آنحصرتؒ کے حیات ظاہری میں سلطان قطب الدین ایبک کے بعد ہندوستان کے آٹھ سلاطین ہوئے جو سب کہ سب آپ کا اور آپ کے فرزندوں کا بےحد ادب و احترام کرتے رہیں۔ بلخصوص سلطان شمس الدین ایلتمشؒ حضرت امیر کبیرؒ کا حد درجہ احترام و اکرام کرتے تھیں۔ قاضی شہاب الدین امر زاولی دولت آبادی نے “حدایۃ السعدء” ۳؂ میں لکھا ہے کہ۔
“سلطان شمس الدینؒ آپ کو صدر مجلس میں بیٹھاتے
آپ کا ہاتھ چومتے تھے۔ اور آپ سے برکت حاصل کرتے تھے”
صاحب بحر الانساب لکھتے ہیں کہ سلطان شمس الدین ایلتمش نے اپنی دختر شہزادی فتیحہ سلطانہ کو آنحضرت کے منجھلے فرزند حضرت قوام الدین محمودؒ ۴؂ کے حبالہ عقد میں بتور خدمت دے دیا تھا۔
حضرت غلام رسول محرؒ لکھتے ہیں کہ۔
“یہ امر بجاۓ خد ان سادات کی برتری و بلند پائیگی کا روشن ثبوت ہے۔


۳؂ اسی کتاب کا نسخہ حضرت مخدوم اشرف سمنانی رحمت اللہ علیہ نے قاضی شہاب الدین امر زاولی دولت آبادیؒ کو خرقہ خلافت کے ساتھ عطا کیا تھا۔

۴؂ ابن بطوطہ نے اپنے سفر نامہ میں آپ سے ملاقات کا واقعہ لکھا ہے۔ اور یہ اعتراف کیا ہے کہ آپ کے وقت میں کوئی بزرگ آپ کے ہم پلہ دہلی میں نہ تھا۔ اور یہ بھی لکھا ہے کہ آپ بہت سخی تھیں اور آپ کو دست غیب حاصل تھا جس سے آپ غریب پروری کرتے تھیں۔


📚 ماخذ از کتاب چراغ خضر۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s