Taleemat e Ameer 62

** تعلیمات امیر (Taleemat e Ameer r.a)
** باسٹھواں حصہ (part-62)

اور “سیرت السادات” میں حضرت سید فخر الدین خیالیؒ لکھتے ہیں کہ۔
“اور امام السّالیکین و خیر الواصلین اور بدر منیر کے مانند معروف سید اشرف جہانگیر ساکن کچھوچھہ نے بیرون ہند سے ہندوستان کے حدود میں آنے والے سادات کے صحتِ نسب کے متعلق پوچھنے والوں کے جواب میں اپنے مکتوبات میں یوں لکھا ہے کہ ‘سلطان غیاث الدین بلبن اپنے زمانہ میں انتہائی کوشش کرتا تھا کہ سادات و اشراف کو عزت و احترام سے رکھے اور شرفا و نجبا کی عمدہ تور سے پرورش کرے۔ وہ رزیل لوگوں سے بہت نفرت کرتا تھا حتی کہ اس نے حکم صادر کر دیا تھا کہ ہمارے مجلس میں کوئی رزیل آدمی نہ آئے کیونکہ پست اور سفلہ لوگوں سے میں گفتگو نہیں کرتا۔ اس کے حکم سے اطراف کے نسّابوں اور اکناف کے حسب ونسب بیان کرنے والوں نے سادات عظام کے انساب کی تحقیقات کرکے نام بنام لکھ کر باتفاق اس کے حضور پیش کر دیا اور مخدوم میر اشرف جہانگیر نے ان میں سے منتخب کو اپنے مکتوبات میں لکھا ہے۔ انھیں میں وہ فرماتے ہیں کہ سادات کڑا جو حسنی (قطبی) ہیں ان کے حسب نسب کی طہارت میں میرے پاس کوئی کلام نہیں ہے۔ یعنی قول اشرف ؒ یہ ہے کہ یہ خاندان ہندوستان کے ساداتوں میں بےنظیر ہے۔

“کیا بیاں ہو شانِ خاندانِ حضرت امیر کبیرؒ
کہہ گئے بے ساختہ یہ مخدوم اشرف جہانگیرؒ

📚 ماخذ از کتاب چراغ خضر۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s