Taleemat e Ameer 73

** تعلیمات امیر (Taleemat e Ameer r.a)
** تہترواں حصہ (part-73)

پس حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بشارت کہ
“ہندوستان میں اسلام کا پرچم میرے فرزند قطب الدینؒ سے پھیرے گا یہ اس طرح سے ثابت ہوا کہ قنوج جو مرکز ہندوستان تھا اور سب سے پرانا شہر بھی جیسا کہ “کتاب قاموس” میں لکھا ہے کہ “قنوج کسنّور بلدۃ فی الہند بِناءُ قابیل بن آدم علیہ السلام” یعنی قنوج بوزن سنور ایک شہر ہے بیچ ہند کے بنایا ہوا قابیل کا جو بیٹے حضرت آدم علیہ السلام کے تھے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ شہر تاریخ سِن میں سب سے زیادہ قدیمی ہے۔ اور کڑا۲؂ جو اس وقت حکومت قنوج کا مرکز تھا، کی سرزمین پر حضرت سرکار امیر قطب الدین محمد ال مدنی ال کڑوی رحمت اللہ علیہ کے دست حق پرست سے پرچم اسلام پھیرا، اور آنحضرتؒ نے ہندوستان میں علوم اسلامیہ کے پہلے جلیل قدر عالم دین کی حیثیت سے اس سرزمین پر خانقاہ قائم کرکے اپنے علم ظاہر و باطن سے کشیر لوگوں کو فیضیاب کیا۔ اور اس سرزمین سے قفر و گمراہی کے آثار کو مٹایا جس سے سہی مائنوں میں علم کی شمع روشن ہوئی اور بشارت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پوری ہوئی کہ “سرزمین ہند پر اسلام کی اشاعت میرے فرزند قطب الدین پر منحصر ہے”

اس کے متعلق صاحبِ کتاب “تذکرہ سادات قطبیہ” لکھتے ہیں۔
شمالی ہند میں سلطان محمود غزنوی کے حملوں کے دوران ہی اسلامی اثرات پڑنے لگے تھے۔ کتب تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ ۴۲۳ھ میں اسلامی مجاہدین نے جن کے سردار سید سالار ساہوؒ اور سید سالار مسعود غازیؒ تھے کڑا مانکپور اور ان کے اطراف کے علاقوں میں ہندو راجاؤں اور زمینداروں کے فوجوں سے جنگ کی اور فتح پائی۔ افواج مجاہدین میں سے کوئی شخص غزنی واپس نہیں گیا۔ زیادہ تر شہید ہو گئے اور باقی نو مسلموں کی جماعت کے ساتھ مل جل کر رہنے لگے۔ اور جب ان کے اولاد کی تعداد بڑھی تو پھر جنگ جہادی شروع ہو گئی اور چالیس سال تک اکثر شیوخِ اسلام اور یہاں کے باشندوں یعنی اقوام بہر کے درمیان لڑائیاں ہوتی رہیں۔ اور وقتاً فوقتاً ایسا کشت وخون ہوا کہ کڑا مانکپور کی سرزمین مقتولوں کی لاشوں سے بھر گئی تھی۔ چنانچہ اب تک ان علاقوں میں جہاں زمین کھودی جاتی ہے کشتگان جنگ کی ہڈیاں برآمد ہوتی ہیں۔ اللہُ اکبر۔ مسلمانوں نے اپنی جان وقف جہاد کر دی تھی لیکن اقوام بہر کا ناموں نشان بھی صوبہ اودھ سے مٹا دیا تھا۔
قوم بہر کے عہد حکومت میں صوبہ اودھ راجہ قنوج کے عملداری سے خارج تھا۔ لیکن قوم بہر کی تباہی کے بعد راجہ قنوج نے اپنی حکومت کڑا و مانکپور پر قائم کر لی۔ اور قوم نے قصبہ جات کی سکونت ترک کر کے باہر کی سکونت اختیار کر لی لیکن اس وقت تک تعلیم و تعلم کا سلسلہ شروع نہیں ہوا تھا اور نہ کوئی اس وقت تک ان اطراف میں علوم شریعہ کا ماہر و عالم تھا۔
کڑا مانکپور اور ان کے گردونواح کے باشندوں کی خوش قسمتی تھی کہ امیر کبیر سید قطب الدین محمد مدنیؒ جیسے دروش باوقار فقیہ حازق اور ولی کامل جو اپنی ذات میں علوم ظاہری و باطنی کے ایک عظیم ادارہ کے مانند تھیں، ان کے درمیان آکر سکونت پذیر ہوئے اور تشنگان علم ان کے علم معرفت سے خوب سیراب ہوئے اور اس میں کوئی بھی شبہ نہیں
کہ ان کی تعلیمات اور زبردست نسبت روحانی کے اثرات، تاریخ کے عظیم تغیرات، زمانے کے انقلابات اور اتنی نسلیں گزرنے کے باوجود ان کی اولاد میں مسلسل ظاہر ہوتے رہے اور ترویج شریعت، پیروی سنت، زہدو تقوی، علم و فضل اور سنان و قلم ہر شعبہ میں ایسی اولوالعزم اور بلند قامت شخصیتیں پیدا ہوئیں جن سے سنت و شریعت، جہاد و قربانی اور زہد و تقوی کی شمع برابر روشن رہی۔

ڈاکٹر ولی الحق انصاری فرنگی محلی اپنے ایک مضمون بعنوان “شمالی ہند کے جند علمی اور ادبی مراکز” میں لکھتے ہیں کہ

“شمالی ہندوستان میں اگرچہ مسلمانوں کے تہذیبی و ثقافتی اثرات محمود غزنوی کے حملوں کے بعد ہی قایم ہونا شروع ہو گئے تھے لیکن ۱۱۹۲ء میں ترائن کی لڑائی کے بعد یہاں کے حالات میں ایک انقلاب عظیم آیا اور پورے شمالی ہندوستان میں اسلامی حکومت قائم ہونے کے ساتھ ساتھ یہاں کے مختلف قصبات اسلامی تہزیب و علوم کے مرکز بننا شروع ہو گئے۔ موجودہ ضلع الہ آباد میں کڑا بھی ایسی ہی بستی تھی جو کہ مسلمانوں کے شمالی ہند میں اولین فتوحات کے زمانے سے ہی اسلامی معاشرت و تہزیب کا مرکز بن گئی تھی اور اس ضلع میں اسلامی علوم کے پہلے عالم سید قطب الدین محمد الحسنیؒ کا تعلق اسی سرزمین سے ہے۔ آپ قطب الدین ایبک کے زمانے میں غزنی سے ہندوستان آۓ اور پہلے فتحپور ہنسوا کے قریب موضع کرہ سادات میں اقامت گزیں ہوئے لیکن کچھ عرصہ بعد وہاں سے ترک سکونت کر کے کڑا میں مستقلاً سکونت پزیر ہو گئے اور یہیں۳ رمضان المبارک ۶۷۷ھ میں آپ کا وصال ہوا۔
حضرت سید قطب الدینؒ علوم اسلامی کے زبردست عالم تھے۔ صاحبِ کتاب “تزکرہء علمائے ہند” لکھتے ہیں “حضرت میر سید قطب الدین محمد ال کڑویؒ عالم متبحر و فقیہ نحریر، صاحب ولایت و مجاہد فی سبیل اللہ تھے۔


۲؂ مخفی نہ رہے کہ کڑا کا اصل نام کرعہ ہے۔ جو غلط لفظوں کی ادائگی کے وجہ سے کڑا ہو گیا۔ اور لفظ کرعہ احدیث مبارکہ میں امام محمد ال مہدی علیہ السلام کی آمد کے مطالق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زبان مبارک سے سرزد ہوا ہے۔


📚 ماخذ از کتاب چراغ خضر۔