Taleemat e Ameer part 8

تعلیمات امیر (Taleemat e Ameer)
ستاسیواں حصہ (part-87)

  • سوانِح حیات-
    آپؒ کے جد بزرگوار خواجہ احمد حسینؒ ‘ عباسی خلیفہ کے دور میں اہل بیت اور سیّدوں پر توڑے جانے والے ظلم اور جبرو استبداد سے تنگ آکر عراق سے ہجرت کر کے سنجر (سیستان‘ خراسان) میں آباد ہوئے تھے۔ جہاں آپ کے دادا خواجہ کمال الدینؒ اور والد ذی حشم خواجہ غیاث الدین حسنؒ پیدا ہوئے۔
    خواجہ غریب نوازؒ کے والد ماجد سید غیاث الدین حسن قدس سرہ‘ تجارت کی غرض سے قصبہ سنجر سے سیستان منتقل ہو گئے تھے لیکن تاتاریوں کی آتشِ فساد سے بچنے کیلئے پھر سنجر لوٹ آئے۔ جہاں اللہ تعالیٰ نے ۱۴ رجب المرجب ۵۳۷ھ کی صبح فرزند مسعود عطا فرمایا جن کا نام حَسن رکھا گیا۔ آپ ابھی تین چار سال کے تھے کہ اپنے ہم عمر بچّوں کو اکٹھا کر لیتے اور چشتی روایت کے مطابق اُن کی خوب تواضع فرماتے۔ ابھی کم سن تھے کہ نئے کپڑے پہن کر نماز عید کیلئے روانہ ہوئے تو ایک نابینا بچے کو پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس دیکھا‘ فوراً واپس ہوئے اپنا قیمتی لباس اتار کر اُسے پہنایا اور خود دوسرا لباس پہن کر نابینا بچے کو ساتھ لے کر عید کی نماز ادا فرمائی۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے گھر پر حاصل کی اور نو سال کی عمر میں قرآن مجید بھی حفظ کر لیا۔ سنجر میں ہی ایک مکتب میں داخل کرا دئے گئے جہاں پر آپ نے حدیث و فقہ کا مطالعہ کیا اور کمسنی میں ہی ان علوم پر دسترس حاصل کر لی۔ابھی آپ پندرہ سال کے تھے کہ ملکی افراتفری سے تنگ آکر والد گرامی خراسان چلے گئے جہاں ۱۵ شعبان المعظم ۵۵۲ھ کو انہوں نے دنیائے فانی سے عالم جاودانی کو لبیک کہا۔ تھوڑے ہی عرصے بعد والدہ مخدومہ بھی رحلت فرما گئیں۔

📚 ماخذ از کتاب چراغ خضر۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s