(213) Hadith 1
Aisha radiyallahu anha relates that the speech of Rasoolullah sallallahu alaihe wasallam was not quick and continuous as that of yours. He spoke clearly, word for word. A person sitting in his company remembered what he said.Commentary
The speech of Sayyidina Rasoolullah sallallahu alaihe wasallam was not of an abridged nature or was it fast, that nothing could be understood. He spoke calmly and clearly, word for word. A person sitting by him remembered what he said.
back(214) Hadith 2
Anas ibn Maalik radiyallahu anhu says, “Rasoolullah sallallahu alaihe wasallam (sometimes) repeated a word (as was necessary) thrice, so that his listeners understood well what he was saying”.Commentary
If what he was explaining was difficult or it was something that had to be given a thought, or if there were many people, he faced all three sides and repeated it to every side, so that those present understood well what he was said. Repeating a thing thrice was maximum. If saying a thing twice only sufficed, he only said it twice.
back(215) Hadith Number 3
Imaam Hasan radiyallahu anhu says, “I asked my (maternal) uncle Hind ibn Abi Haalah, who always described the noble features of Rasoolullah sallallahu alaihe wasallam to describe to me the manner in which Rasoolullah sallallahu alaihe wasallam spoke. He replied that Rasoolullah sallallahu alaihe wasallam was always worried (about the hereafter). And always busy thinking (about the attributes of Allah and the betterment of the Ummah). Because of these things he was never free from thought and never rested (or because of worldly affairs he did not gain rest, but gained rest and contentment from religious well being. It is mentioned in the hadith that the coolness of my eyes is in salaah). He always spoke clearly from beginning to end. (He did not speak in a manner where only half sentences are spoken and the other half remained in the mind of the speaker, as is prevalent among snobbish high-minded and proud people). He spoke concisely, where the words are less and meaning more. (Mulla Ali Qaari has collected forty such ahaadith in his commentary which are very short. Those who wish may refer to it and memorise it). Every word was clearer than the previous one. There was no nonsensical talk, nor was there half-talks’ where the meaning was not complete and could not be grasped. He was not short-tempered, nor did he disgrace anyone. He always greatly appreciated the blessings of Allah even though it might be very minute, he did not criticize it.
He did not criticize food, nor over-praised it (The reason for not criticizing food is clear, that it is a blessing from Allah. The reason for not praising it is because it might be felt that one is gluttonous. Nevertheless, he praised food if it was to make someone happy, and sometimes praised some special things). He was never angered for anything materialistic. (The reason being that he did not pay much attention, and did not care much about materialistic things).
If someone exceeded the limits in religious matters or against the truth, he became so angry that no one could endure it, nor could anybody stop it till he avenged it. If for some reason he made a gesture or pointed at something, he did it with a full hand. (The ulama say the reason being that it is against humbleness to point with one finger only. Some ulama say it was his noble habit to signal oneness of Allah with one finger, therefore he did not signal anyone in that manner). When he was surprised by something he turned his hands, and when he spoke sometimes while talking, he moved his hands, he sometimes hit the palm of his right hand with the inside part of his left thumb. When he became angry with someone, he turned his face away from that person, and did not pay attention to that person or he forgave that person. When he was happy due to humility it seemed as if he had closed his eyes. The laugh of Rasoolullah sallallahu alaihe wasallam was mostly a smile, at that moment his mubarak front teeth glittered like white shining hailstone.Commentary
This hadith is the remaining portion of the seventh hadith mentioned in the first chapter. Every sentence of it should be read carefully and one should try to emulate them as much as possible. Every action of Sayyidina Rasoolullah sallallahu alaihe wasallam is complete in humbleness and etiquette. Sayyidina Hind ibn Abi Haalah radiyallahu anhu is a step brother of Sayyiditina Faatimah radiyallahu anha
Month: June 2021
Agar Ali Na hote
Ali AlaihisSalam ke Muwaddat Iman hai..
Hazrat Ali Ibn Abdullah Ibn Abbas Radiallahu anhoo
“کنز الجہلاء ڈاکٹر آصف زلالی کی کذب بیانی
“کنز الجہلاء ڈاکٹر آصف زلالی کی کذب بیانی”
آصف زلالی اپنی گستاخی کو کذب بیانی سے بچانے کی ایک اور ناکام کوشش کرتے ھوئے فواتح الرحموت کا سہارا لیتا ھے۔
جو بحر العلوم عبد العلی لکھنوی المتوفی ١٢٢٥ھ کی کتاب ھے.
زلالی کہتا ھیںکہ (نعوذباللہ) حدیثِ وراثت انبیاء کا علم نہ ھونے سے پہلے جنابِ سیدہ فاطمہ الزھرا سلام اللہ علیھا کی خطاء تھی اور جب معلوم ھوگیا- تو خطاء نہ رھی. یہ عجیب منطق ھے کہ کسی شئ کا علم نہ ھو پھر اسکو خطا کیسے کہا جا سکتا ھیں-؟
بہرحال، اس نے اپنی ضد و انا کو ثابت کرنے کیلئے فواتح الرحموت کا سہارا لیا تو آئیے دیکھتے ھیں کہ علامہ لکھنوی نے کیا لکھا اور موصوف کیا کہہ رھا ھے۔
فواتح الرحموت میں یہ اجماع کی بحث میں اس مقام پر آئی ھے جہاں معصوم عن الخطأ اور محفوظ عن الخطأ کی بحث ھے.
علامہ لکھنوی یہ بتانا چاہ رھے ھیں کہ انبیاء علیہم السلام کی عصمت اور اھل بیت علیہم السلام کے محفوظ ھونے میں ما بہ الامتياز یہ ھے کہ انبیاءؑ کیونکہ وحی کے تابع ھوتے ھیں لہٰذا ان سے خطا اجتھادی نہیں ھوسکتی۔ لیکن اھل البیت سے اجتھادی خطا ممکن ھے. یہ سب امکان کی حد تک ھے. پھر علامہ لکھنوی فرماتے ھیں کہ:
وكذا يجوز عليهم الزلة وهي وقوعهم في أمر غير مناسب لمرتبتهم من غير تعمد كما وقع من سيدة النساء رضي الله عنها من هجرانها خليفة رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم حين منعها من جهة الميراث و لا ذنب فيه
اور اسی طرح اھل بیت سے الزلة ھو سکتا ھے اور پھر اس زلة کی مثال دیتے ہیں کہ جناب سیدة النساء سلام الله عليها نے فدک کا مطالبہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کیا کہ جو غیر تعمد یعنی بلا نیت تھا.
آپ دیکھیں کہ علامہ لکھنوی نے جنابِ سیدہ سلام اللہ علیھا کی طرف تخصیص سے لفظ خطا منسوب نہیں کیا بلکہ ان کیلئے الزلة استعمال کیا اور زلہ وھی ھے جو انبیاء کرام علیہم السلام کی طرف منسوب کیا جاتا ھے جیسے ھماری کتب کلام میں مذکور ھے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کی طرف انکے رتبہ کے مطابق زلة کہا جاتا ھے. جیسے قرآن مجید میں حضرت آدم علیہ السلام کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ھے کہ
فأزلهما الشيطان عنها اور یہ وھی الزلة ھے اور پھر قرآن حکیم اسی الزلة کی تشریح فرماتا ھے کہ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْمًا اور ھم نے آدم علیہ السلام کی اس عمل میں نیت نہیں پائی.
آپنے دیکھا کہ جس انداز میں انبیاء کرام علیہم السلام کیلئے لفظ الزلة استعمال ھوا ھے قرآن پاک اور ھماری عقیدہ کی کتابوں میں بعینہ اسی طرح علامہ لکھنوی جناب سیدہ سلام اللہ علیھا کی بنسبت تصریحا الزلة استعمال کررہے ہیں اور ساتھ اس کا معنی متعین کررھے ہیں کہ یہ بات غیر تعمد سے ھوئی بالکل جیسے اللہ تعالیٰ حضرت آدم علیہ السلام کے متعلق کہہ رہا ھے کہ انکی نیت و عزم نہیں تھا بالکل مصنف یہاں کہہ رھے ہیں کہ جناب سیدہ سلام اللہ علیھا الزلة ہوا جس میں عمد و نیت نہیں تھی.
آپنے دیکھا کہ کس قدر احتیاط سے علامہ لکھنوی فرما رھے ہیں اور جناب سیدہ سلام اللہ علیھا کیلئے وھی اصطلاح استعمال کررھے ہیں جو انبیاء کرام علیہم السلام کیلئے بلا عزم و تعمد ھوتی ہیں۔۔
اور دوسری طرف یہ بے لگام ڈاکٹر جلالی تخصیص کے ساتھ لفظِ *خطاء *خطاء* کی گردان کررہا ھے حالانکہ مصنف نے اجتھادی خطا عمومی طور پر بطور مابہ الامتیاز بیان فرمایا ھے، عصمت اور حفاظت کے درمیان اور جب سیدہ زھرا سلام اللہ علیھا کا نام لیا تو مطلق خطا یا اجتھادی خطا تک نہیں کہا جیسے آصف جلالی کہتا ھے۔ بلکہ ان کیلئے زلہ اور غیر تعمد استعمال کیا جو نبیوںؑ کیلئے استعمال کیا جاتا ھے. یہ علامہ لکھنوی کی احتیاط بارگاہِ خاتونِ جنت علیھا السلام میں اور دوسری طرف ڈاکٹر جلالی کی کذب بیانی اور مندرجہ ذیل میں کتاب کا عکس آپ ملاحظہ فرمائیں.
آپ نے دیکھا کہ زلالی فواتح الرحموت کو اپنی گستاخی کی کذب بیانی کیلئے حجت بناتے ہیں تو چلیں اسی مصنف اور اسی کتاب سے انکو اک اجتھادی غلطی کا نظارہ کراتے ہیں.
علامہ لکھنوی کو ڈھال بنا کر اور جو بات انہوں نے تخصیص سے کہی ھی نہیں بلکہ فدک کے مخصوص مسئلہ پر انبیاء کرام علیہم السلام والی تأويل جناب سیدہ سلام اللہ علیھا کیلئے استعمال کی جسکو جلالی چھپا گیا لیکن اسکے برعکس اسی کتاب میں چند صفحات پہلے وہ معاویہ بن ابی سفیان کے متعلق صریح الفاظ میں بلا حیل و حجت انکی اجتھادی خطا کا کھلے لفظوں میں انکار کرتے ہیں اور انکے ظالم و جابر بادشاہ۔باغی ھونے کی تصدیق کرتے ہیں. جب انکی اجتھادی خطا پر متن میں ذکر کیا گیا تو علامہ لکھنوی فرماتے ہیں: بل الكلام في كونه مجتهدا، كيف و قد عده صاحب الهداية من السلاطين الجائرة مقابل العادلين و لو كان بالاجتهاد لما كان جورا و لم ينقل عنه فتوى على طريقة الاصول الشريعة هذا
بلکہ اس بات میں کلام ھے کہ معاویہ بن ابی سفیان مجتھد تھا یا نہیں. یہ کیسے ھوسکتا ھے جبکہ صاحب ھدایہ نے انہیں ظالم و جابر بادشاہوں میں شمار کیا ھے بمقابل عادل بادشاھوں کے اور جو عادل نہیں وہ مجتھد کیسے ہوسکتا ھے. اور اگر وہ اجتھاد ھوتا تو صاحب ھدایہ انہیں ظالم و جابر نہ کہتے اور پھر صاحب ھدایہ سے شریعت کے اصولوں اور طریقے پر یہ فتویٰ جاری نہ ھوتا کہ جائز ھے قضاة کو قبول کرنا ظالم بادشاہوں سے.
اب آپنے دیکھ لیا کہ ایک طرف تو زلالی غلط بات جو مصنف نے تخصیص کے ساتھ جناب بی بی پاک سلام اللہ علیھا کیلئے استعمال ھی نہیں کیا اسکو یہ لوگ توڑ مروڑ کر اپنی ضد اور ھٹ دھرمی کیلئے استعمال کررھا ھے اور دوسری طرف وہ بات علامہ لکھنوی صریحاً نام لیکر کہہ رھے ہیں کہ معاویہ بن ابی سفیان اک ظالم و جابر بادشاہ ھونے کی وجہ سے مجتھد نہیں تھا اور اسکی غلطی اجتھادی نہیں تھی، لیکن اسکو جلالی نظر انداز کررھا ھے۔ اور اسکے بجائے تین تین گھنٹے کے سیمینار کرکے موضوع اور جھوٹی روایات پیش کررھا ھے اور حلوے کی طرح اسی کتاب اور اسی مصنف کی رائے کو کھا گیا ھے .
لیکن جناب سیدہ سلام اللہ علیھا کو نیچا دکھانے کیلئے مصنف پر کذب بیانی کررھا ھے . کیا یہ ھے تحقیق اور انصاف کہ آپ طلقاء کے دفاع میں جھوٹ کو سچ ثابت کریں اور جنکے صدقے میں ھمیں دین ملا انکی تنقیص کرنے کیلئے جھوٹ اور کذب بیانی کریں؟
یاد رکھیں کہ جلالی اور حلالی میں
صرف ایک نقطہ کا فرق ھے۔۔!!
المشتہر-&-پیشکش:-
“سنی حسینی مشن۔”


