The Fast of ‘Ashura

img_20210531_1637581616445426528374992.jpg

Some traditions are found in Sunni books to the effect that the Prophet
(s.a.w.) on migrating to Medina found the Jews fasting on the 10th of
Muharram. He asked them why, and was told: “It is an auspicious day; it
is the day when God delivered the children of Israel from their enemy
(i.e. Pharaoh); and, therefore, Moses fasted on that day.” The Prophet
(s.a.w.) said, “I am worthier of Moses than you are.” Thereupon, he fasted on that day and ordered (the Muslims) to fast.
1. al-Sahih of al-Bukhari, Vol.3; Egypt ed.; p.54
2. Mishkatul-Masabih; Delhi ed.; 1307 A.H.; p.l72

Now let us look closely at these traditions:
First: The Jews had their own calendar and months. There is no logic
in saying that they fasted on the 10th of Muharram – unless it could be
proved that this date always coincided with a Jewish day of fast.
It was mentioned in my article, “Martyrdom of Imam Husayn and the
Muslim and the Jewish Calendars” (Alserat, Vol.VI, No’s 3 & 4; Muharram
1401 Nov.1980) that the first month of the Jews (Abib, later named Nis￾an) coincided with Rajab of the Arabs. W.O.E.Oesterley and Theodore
H.Robinson have written that in Arabia “the most important of all the
new-moon festivals was that which fell in the month of Ragab (sic), equi￾valent to the Hebrew month ‘Abib, for this was the time when the an￾cient Arabs celebrated the Spring festival.” (Hebrew Religion; S.P.C.K.,
London; 1955; p.128)
Probably, in ancient times the two branches of Abraham’s house fol￾lowed the same system of intercalating an additional month 7 times in a
cycle of 19 years. And in this way the 7th Jewish month, Tishri I, coin￾cided with Muharram. And the ‘Ashura of Muharram synchronized with
10th of Tishri I, the Jewish Day of Atonement – a day of fast. In that art￾icle, it was observed that the two calendars lost their synchronization
when Islam, in the 9th year of hijra, disallowed intercalation. But on
deeper consideration it transpired that that parity was lost long before
the advent of Islam, because the Arabs did not follow any mathematical
calculation in their intercalation. That was why the Muharram of the 2nd
year of Hijra began on 5th July, 623 C.E. (Al-Munjid, 21st ed.), months
before Tishri I (which always coincides with September-October).
Clearly, ‘Ashura of Muharram in that year (or, for that matter, during
the Prophet’s whole life at Medina) had no significance whatsoever for
the Jews.
The question is: Why did they fast on that day?

Second: The Jewish Midrashic literature relates the 10th day of the 7th
month (Yom Hakippurim – Day of Atonement) to the event of bringing
the tablets of the Covenant from Mount Sinai, as Dr. Mishael Maswari￾Caspi has written in his letter, quoted in my previous article, mentioned
above.
The question is: If the Jews had wanted to keep the long-lost synchronization of Tishri I and Muharram in view, how was it that they forgot to
narrate this tradition to the Prophet?

Third: The month in which God delivered the Israelites from Pharaoh
was Abib (i.e. Rajab), as the Bible clearly says: “Observe the month of Abib,
and keep the passover unto the Lord thy God: for in the month of Abib the Lord
thy God brought thee forth out of Egypt by night.” (Deut., 16:1)
The question is: How could the Jews transfer an event of Abib
(originally coinciding with Rajab) to Muharram, in open defiance of their
Torah?

And lastly here is a point to ponder for the Muslims: The Prophet
(s.a.w.) was sent with a religion to abrogate all previous religions and
shari’ah. How was it that he deigned to imitate the custom of the Jews?
It is clear from above-mentioned facts that the Jews had no reason at
all to fast on ‘Ashura of Muharram at that period; and this story, built on
that premise, is just that – a fiction. Obviously, it was invented by a narrator who only knew that once upon a time Muharram coincided with
the Jews’ Tishri I; but was totally unaware of contemporary Jewish religion and culture.
One feels constrained to mention here that this and other such traditions were forged by camp-followers of the Umayyads, after the martyrdom of Imam Husayn, as a part of their campaign to turn the 10th of
Muharram into a day of rejoicing.

قمر بنی ھاشمؑ

قمر بنی ھاشمؑ:
۔
صفین میں امام علیؑ نے ایک گیارہ سال کے کم سن کے چہرے پر نقاب ڈال کر میدان میں سات سورماوں کا مقابلہ کرنے بھیجا، یہ ساتوں اس کم سن کی تلوار سے جہنم واصل ہوئے۔ یہ دیکھ کر ایک باغی نے سوال پوچھا کہ تم کون ہو؟ اس کم سن نے جواب دیا کہ مجھے قمر بنی ہاشمؑ کہتے ہیں۔ پوچھنے والے نے تعجب سے سوال پوچھا کہ قمر بنی ہاشمؑ تو حسنؑ اور حسینؑ ہیں، تم کون ہو؟ جس پر اس کم سن نے جواب دیا کہ حسنؑ اور حسینؑ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بیٹے ہیں اور میں علیؑ کا بیٹا۔ حسنؑ اور حسینؑ آنکھیں ہیں اور میں ہاتھ ہوں۔ اور ہاتھ کا کام آنکھوں کی حفاظت کرنا ہوتا ہے۔

جنگ صفین کے یہ کم سن، مولا ابوالفضل العباسؑ تھے۔

جن کی صفین کی ہیبت کربلا تک باقی رہی۔ بس فرق اتنا ہے کہ صفین میں جنگ کی اجازت ملی تھی اور کربلا میں صرف پانی لانے کی۔ صفین میں بھی مقابل آنے والے شام کے باغی تھے اور کربلا میں بھی ایک بار پھر یہی باغی مقابل آئے۔ صفین میں امام علیؑ سے جنگ کرکے اور عمار بن یاسرؑ جیسے صحابیوں سمیت بدری صحابہ کو قتل کرکے بنص حدیثِ رسولؑ باغی کہلائے۔ جبکہ کربلا میں خانوادہ رسالت کو قتل کرکے رہتی دنیا تک کیلئے ملعون قرار پائے۔ صفین کے بعد ان باغیوں پر اجتہادی خطاء کا غلاف ڈالا گیا تھا، امام حسینؑ نے کربلا میں یہ غلاف چاک کر ڈالا۔
۔
صفین میں گیارہ سالہ کم سن مولا ابوالفضلؑ نے باغیوں کے سامنے خود کو علیؑ کا بیٹا اور حسنینؑ کو محمدؐ کا بیٹا کہہ کر آنے والے وقتوں کے تمام باغیوں کیلئے پیغام دیدیا تھا کہ ہمارے مقابل آنے والا محمدؐ اور علیؑ، دونوں کا دشمن ہے اور جو ان دونوں کا دشمن ہے وہ اللہ کا دشمن ہے۔ آج چودہ سو برس گزرنے کے بعد جب ہم کربلا کا تذکرہ کرتے ہیں تو ہمیں صفین کا ذکر بھی ضرور کرنا چاہئے کیوں کہ صفین کربلا کا پیش لفظ ہے، صلح حسنؑ اس کا مقدمہ اور کربلا مکمل کتاب یعنی مضمونِ کتاب۔
۔
ایامِ شہادت امام علیؑ میں آپ اکثر کوفہ کے اُن یتیم بچوں کا ذکر سنتے ہیں جو امام علیؑ کو اپنا باپ کہتے ہیں۔ جن کی نسبت سے امام علیؑ کو ابوالایتام کہا جاتا ہے۔ یہ بچے شبِ ضربت اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں میں دودھ کے پیالے لیکر امام علیؑ کے گھر کے باہر جمع ہوگئے تھے، جب انہیں خبر ملی تھی کہ طبیب نے امام علیؑ کو بکری کا دودھ پلانے کا نسخہ تجویز کیا ہے۔ میں اس منظر کا موازنہ کربلا کے اُس منظر سے کرنے کی کوشش کرتا ہوں جب قافلہ حسینیؑ میں موجود چھوٹے چھوٹے بچے اپنے مشکیزے لیے عباس علمدارؑ کے سامنے اِس اُمید میں کھڑے تھے کہ وہ اُن کیلئے نہر سے پانی لاینگے۔ یہ بچے جانتے تھے کہ یہ ابوالیتام کا بیٹا عباسؑ ہے، اِن باپ بیٹے سے بچوں کو ہمیشہ بہت اُمیدیں رہیں۔ مجھے ان دونوں مناظر میں عجیب مماثلت محسوس ہوتی ہے، انتہائی رقت آمیز مماثلت۔ بس فرق اتنا ہے کوفہ کے بچے یتیم تھے اور کربلا کے بچے یتیم ہونے والے تھے۔

ہر برس روزِ عاشور کربلا میں قبیلہ بنی طویریج کے لوگوں کا ہجوم، حرم مولا عباسؑ سے بھاگتے ہوئے حرم امام حسینؑ کی طرف جاتا ہے۔ ان سب کی زبانوں پر “عباسؑ جیب الماء لسکینہؑ” کے الفاظ ہوتے ہیں، یعنی “اے عباسؑ، اُٹھو سکینہؑ کیلئے پانی لاو”۔ یہ اس قبیلے کی قدیمی رسم ہے جس میں اب ان کے ساتھ ہر خطے کا عزادار شامل ہوجاتا ہے۔ آپ کوفہ کے یتیم بچوں، کربلا کے پیاسے بچوں اور مولا حسینؑ کی پیاسی سکینہؑ کو ذہن میں رکھ کر کچھ دیر کیلئے بنی طویریج کی اس رسم کے بارے میں سوچیں، آپ کو محسوس ہوگا جیسے آپ بھی ان کے ساتھ حرم مولا عباسؑ سے بھاگتے ہوئے حرم امام حسینؑ تک جانا چاہتے ہیں اور پکار پکار کرکہنا چاہتے ہیں:

“عباسؑ جیب الماء لسکینہؑ۔ ” (مولا عباسؑ سکینہؑ کیلئے پانی لایئے)”
۔
کوفہ ہی کا وہ منظر بھی بار بار ذہن میں آتا ہے جب وقتِ رخصت امام علیؑ نے سب بچوں کا ہاتھ امام حسنؑ کے ہاتھ میں دیا تھا۔ بی بی اُم البنینؑ نے بے قرار ہوکر پوچھا تھا کہ آپؑ نے سب بچوں کا ہاتھ حسنؑ کے ہاتھ میں دے دیا لیکن میرے عباسؑ کا ہاتھ اُن کے ہاتھ میں نہ دیا۔ جس پر امام علیؑ نے امام حسینؑ اور مولا عباسؑ کو بلاکر، امام حسینؑ کا ہاتھ مولا عباسؑ کے ہاتھوں میں دیدیا تھا۔ صفین میں خود کو حسنینؑ کی حفاطت کرنے والے ہاتھ کہہ کر اپنا تعارف کروانے کا شاید یہی مطلب تھا کہ ایک ہاتھ سے حسینؑ کی حفاظت کروں گا اور دوسرے سے حسنؑ کی، جن کے ہاتھ میں سب بہن بھائیوں کا ہاتھ دیا گیا تھا۔

افسوس کہ یہ ارمان پورا نہ ہوسکا۔ جب بڑے بھائی حسنؑ کے جنازے پر تیر برس رہے تھے اور مولا عباسؑ نے میان سے تلوار نکال کر آگے بڑھنا چاہا تو امام حسینؑ نے یہہ کہہ کر روک دیا کہ صبر کرو اور مولا عباسؑ فقط یہ کہہ کر خاموش ہوگئے

“یہ میرے بھائی کا جنازہ ہے”۔

کربلا میں جنگ کی اجازت مانگی تو یہاں بھی امام حسینؑ نے صبر کرنے کی تلقین کی اور اذنِ جہاد نہ ملا۔ ورنہ کون نہیں جانتا کہ یہ فاتح بدر و اُحد، خیبر و خندق، صفین و جمل و نہروان کا بیٹا عباسؑ تھا، جس نے گیارہ برس کی عمر میں صفین کے میدان میں یہ بتا دیا تھا کہ اذنِ جہاد اگر ملے تو یہ اپنے باپ کی طرح اکیلا اپنی ذات میں ایک لشکر کہلاتا ہے۔

اسی صبر کی وجہ سے مولا عباسؑ کو زیارت میں “مجاہد” اور “صابر” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ مولا عباس علیہ السلام کی شجاعت و وفا کے تذکرے تو ہر زبان پر ہوتے ہی ہیں لیکن مولا عباس علیہ السلام کے صبر کو جب بھی یاد کرتا ہوں مجھے ضریح ابوالفضل العباس علیہ السلام سے لپٹ رونے والا وہ بوڑھا پنجابی شخص ہمیشہ یاد آجاتا ہے جس نے اس ایک جملے میں جناب عباس علیہ السلام کے مکمل مصائب بیان کردیئے تھے:

“میرا مرشد عباسؑ، چپ چاپ دنیا توں چلا گیا۔ “
۔
آٹھ محرم مولا غازی عباسؑ کی شہادت سے منسوب ہے۔ پانی لانے کی اجازت مانگنے پر جب امام حسینؑ نے جنابِ عباسؑ سے کہا تھا کہ وہ علمدارِ لشکر ہیں تو مولا عباسؑ نے دائیں اور بائیں دیکھنے کے بعد ایک بار حسرت سے پوچھا تھا کہ آقا، وہ لشکر کہاں ہے جس کا میں علمدار ہوں؟

صاحبِ علمِ لدنی، امام حسینؑ جانتے تھے کہ اب اُس بھائی کی قربانی دینے کا وقت آگیا ہے جس نے تمام عمر اُنہیں بھائی نہیں بلکہ سیدی اور آقا کہہ کر مخاطب کیا تھا، سوائے اُس وقتِ آخر کے جب زانوئے مولا حسینؑ پر سر رکھ کر مولا عباسؑ نے پہلی بار اُنہیں بھائی کہہ کر مخاطب کیا تھا۔ علامہ طالب جوہری اعلی اللہ مقامہ کا تاریخی جملہ ہے کہ ” جیسے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیلیے علی علیہ السلام، ویسے ہی حسین علیہ السلام کیلیے ابوالفضل العباس علیہ السلام ۔ “۔ یہ جملہ کہنے کے بعد وہ کہا کرتے تھے کہ یہ اتنا بڑا جملہ ہے کہ اس پر پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے۔
۔
کربلا میں ابوالفضل العباسؑ کے دو اور بھائی عبداللہ بن علیؑ اور عثمان بن علیؑ بھی شہید ہوئے، جو بی بی اُم البنین سلام اللہ علیھا اور مولا علیؑ کی اولاد تھے۔ یہ دونوں گنجِ شہیداں میں مدفون ہیں۔ مولا عباسؑ کو اُن کے بھائیوں کا پرسہ ضرور دیجئے گا۔ عثمان بن علیؑ کا نام زیارتِ ناحیہ میں کچھ یوں موجود ہے السَّلَامُ عَلَی عُثْمَانَ بْنِ أَمِیرِالْمُؤْمِنِینَ سَمِی عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ لَعَنَ اللَّهُ رَامِیهُ بِالسَّهْمِ خَوْلِی بْنَ یزِیدَ الْأَصْبَحِی الْأَیادِی وَ الْأَبَانِی الدَّارِمِی۔
اس جملے میں موجود ایک نام عثمان بن مظعونؓ کا بھی ہے۔ یہ صحابی رسول(ص) اور امام علیؑ کے قریبی ساتھی تھے۔ زیارت ناحیہ کے اس جملے کے مطابق، امام علیؑ نے اپنے بیٹے کا نام اپنے اس قریبی دوست اور صحابی رسول(ص) عثمان بن مظعونؓ کی نسبت سے رکھا تھا۔
۔
ہمارا سلام ہو قمرِ بنی ہاشمؑ پر کہ جو ٹوٹی ہوئی آس اور گرے ہوئے حوصلے اپنے علم کے پھریرے کی ہوا اور خوشبو سے جوڑ دیتے ہیں۔ جو جانتے ہیں کہ ہر برس آٹھ محرم کو ہر عزادار کی اُمید اور آس ٹوٹ جاتی ہے، جو جانتے ہیں کہ ہر عزادار کے ذہن میں کہیں نہ کہیں یہ خیال ہر سال آتا ہے کہ کاش عباسؑ کو اذنِ جہاد ملا ہوتا، جو جانتے ہیں کہ ہر محرم کی 8 تاریخ کو ہر عزادار کے دل کی آواز یہی ہوتی ہے:

“کاش عباسؑ نہ مارے جاتے”

یا عباسؑ، یا حسینؑ
۔