
मौला ए क़ायनात अली अलैहिस्लाम फ़रमाते है:- दौलत,रूतबा, ओर इख्तियार मिलने से इंसान बदलता नही उसका असली चहेरा सामने आ जाता है

मौला ए क़ायनात अली अलैहिस्लाम फ़रमाते है:- दौलत,रूतबा, ओर इख्तियार मिलने से इंसान बदलता नही उसका असली चहेरा सामने आ जाता है

al-Qur’ān
(19) وَاِنَّ الْفُجَّارَ لَفِيْ جَحِيْمٍo يَّصْلَوْنَھَا یَوْمَ الدِّيْنِo وَمَا ھُمْ عَنْھَا بِغَآئِبِيْنَo وَمَآ اَدْرٰ کَ مَا یَوْمُ الدِّيْنِo ثُمَّ مَآ اَدْرٰ کَ مَا یَوْمُ الدِّيْنِo یَوْمَ لَا تَمْلِکُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَيْئًا ط وَالْاَمْرُ یَوْمَئِذٍ ِﷲِo
(الانفطار، 82/ 14-19)
اور بے شک بدکار دوزخِ (سوزاں) میں ہوں گےo وہ اس میں قیامت کے روز داخل ہوں گےo اور وہ اس (دوزخ) سے (کبھی بھی) غائب نہ ہو سکیں گےo اور آپ نے کیا سمجھا کہ روزِ جزا کیا ہےo پھر آپ نے کیا جانا کہ روزِ جزا کیا ہےo (یہ) وہ دن ہے جب کوئی شخص کسی کے لیے کسی چیز کا مالک نہ ہوگا، اور حکم فرمائی اس دن اللہ ہی کی ہو گیo
(19) Aur Be-shak bad-kār dozaḳhe (sozaṅ) meṅ hoṅge. Woh us meṅ qiyāmat ke roz dāḳhil hoṅge. Aur woh us (dozaḳh) se (kabhī bhī) ġhā’ib nah ho sakeṅge. Aur Āp ne kyā samjhā keh Roze Jazā kyā hai? Phir Āp ne kyā jānā keh Roze Jazā kyā hai. (Yeh) woh din hai jab ko’ī shaḳhṣ kisī ke liye kisī chīz kā mālik nah hogā, aur ḥukm farma’ī us din Allāh hī kī hogī.
[al-Infiṭār, 82/14_19.]
〰〰
Join Karen

al-Ḥadīt̲h̲
19۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رضي الله عنه فِي رِوَایَةٍ طَوِيْلَةٍ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللهِ، ھَلْ لِلسَّاعَةِ مِنْ عِلْمٍ تُعْرَفُ بِهِ السَّاعَةُ؟ فَقَالَ لِي: یَا ابْنَ مَسْعُوْدٍ، إِنَّ لِلسَّاعَةِ أَعْلَامًا وَإِنَّ لِلسَّاعَةِ أَشْرَاطًا۔ أَلَا، وَإِنَّ مِنْ أَعْـلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِھَا أَنْ یَکُوْنَ الْوَلَدُ غَيْضًا وَأَنْ یَکُوْنَ الْمَطْرُ قَيْظًا وَأَنْ تَفِيْضَ الأَشْرَارُ فَيْضًا،
یَا ابْنَ مَسْعُوْدٍ، إِنَّ مِنْ أَعْـلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِھَا أَنْ یُصَدَّقَ الْکَاذِبُ وَأَنْ یُکَذَّبَ الصَّادِقُ،
یَا ابْنَ مَسْعُوْدٍ، إِنَّ مِنْ أَعْـلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِھَا أَنْ یُؤْتَمَنَ الْخَائِنُ وَأَنْ یُخَوَّنَ الأَمِيْنُ،
یَا ابْنَ مَسْعُوْدٍ، إِنَّ مِنْ أَعْـلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِھَا أَنْ تُوَاصَلَ الأَطْبَاقُ وَأَنْ تَقَاطَعَ الأَرْحَامُ،
یَا ابْنَ مَسْعُوْدٍ، إِنَّ مِنْ أَعْـلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِھَا أَنْ یَسُوْدَ کُلَّ قَبِيْلَةٍ مُنَافِقُوْھَا وَکُلَّ سُوْقٍ فُجَّارُھَا،
یَا ابْنَ مَسْعُوْدٍ، إِنَّ مِنْ أَعْـلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِھَا أَنْ تُزَخْرَفَ الْمَسَاجِدُ وَأَنْ تُخَرَّبَ الْقُلُوْبُ،
یَا ابْنَ مَسْعُوْدٍ، إِنَّ مِنْ أَعْـلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِھَا أَنْ یَکُوْنَ الْمُؤْمِنُ فِي الْقَبِيْلَةِ أَذَلَّ مِنَ النَّقْدِ،
یَا ابْنَ مَسْعُوْدٍ، إِنَّ مِنْ أَعْـلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِھَا أَنْ یَکْتَفِيَ الرِّجَالُ بِالرِّجَالِ وَالنِّسَاءُ بِالنِّسَاءِ،
یَا ابْنَ مَسْعُوْدٍ، إِنَّ مِنْ أَعْـلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِھَا أَنْ تَکْثُفَ الْمَسَاجِدُ وَأَنْ تَعْلُوَ الْمَنَابِرُ،
یَا ابْنَ مَسْعُوْدٍ، إِنَّ مِنْ أَعْـلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِھَا أَنْ یُعْمَرَ خَرَابُ الدُّنْیَا وَیُخْرَبُ عِمْرَانُھَا،
یَا ابْنَ مَسْعُوْدٍ، إِنَّ مِنْ أَعْـلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِھَا أَنْ تَظْهَرَ الْمَعَازِفُ وَتُشْرَبَ الْخُمُوْرِ،
یَا ابْنَ مَسْعُوْدٍ، إِنَّ مِنْ أَعْـلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِھَا شُرْبَ الْخُمُوْرِ،
یَا ابْنَ مَسْعُوْدٍ، إِنَّ مِنْ أَعْـلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِھَا اَلشُّرَطُ وَالْغَمَّازُوْنَ وَاللَّمَّازُوْنَ،
یَا ابْنَ مَسْعُوْدٍ، إِنَّ مِنْ أَعْـلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِھَا أَنْ یَکْثُرَ أَوْلَادُ الزِّنَی۔
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ۔
19: أخرجہ الطبراني في المعجم الکبیر، 10/ 229، الرقم/ 10556، وأیضًا في المعجم الأوسط، 5/ 127، الرقم/ 4861۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک طویل روایت میں بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا کوئی علم ایسا بھی ہے جس سے قربِ قیامت کے بارے میں جانا جا سکے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اے ابنِ مسعود! بے شک قیامت کے کچھ آثار و علامات ہیں وہ یہ کہ اولاد (نافرمانی کے سبب والدین کے لیے) غم و غصہ کا باعث ہو گی، بارش کے باوجود گرمی ہو گی اور بدکاروں کا طوفان برپا ہوگا،
’اے ابن مسعود! بے شک قیامت کے آثار و علامات میں سے یہ بھی ہے کہ جھوٹے کو سچا اور سچے کو جھوٹا سمجھا جائے گا،
اے ابن مسعود! بے شک قیامت کے آثار و علامات میں سے یہ بھی ہے کہ خیانت کرنے والے کو امین اور امین کو خیانت کرنے والا بتلایا جائے گا،
اے ابن مسعود! بے شک قیامت کے آثار و علامات میں سے یہ بھی ہے کہ بیگانوں سے تعلق جوڑا جائے گا اور خونی رشتوں سے توڑا جائے گا،
اے ابن مسعود! بے شک قیامت کے آثار و علامات میں سے یہ بھی ہے کہ ہر قبیلے کی قیادت اس کے منافقوں کے ہاتھوں میں ہوگی اور ہر بازار کی قیادت اس کے بدمعاشوں کے ہاتھ میں ہو گی،
اے ابن مسعود! بے شک قیامت کے آثار و علامات میں سے یہ بھی ہے کہ مساجد سجائی جائیں گی اور دل ویران ہوں گے،
اے ابن مسعود! بے شک قیامت کے آثار و علامات میں سے یہ بھی ہے کہ مومن (نیک اور دیانت دار آدمی) اپنے قبیلہ میں بھیڑ بکری سے زیادہ حقیر سمجھا جائے گا،
اے ابن مسعود! بے شک قیامت کے آثار و علامات میں سے یہ بھی ہے کہ مرد، مردوں سے اور عورتیں، عورتوں سے جنسی تعلق استوار کریں گی،
اے ابن مسعود! بے شک قیامت کے آثار و علامات میں سے یہ بھی ہے کہ مسجدیں بہت زیادہ ہوں گی اور اُن کے منبر عالی شان ہوں گے،
اے ابن مسعود! بے شک قیامت کے آثار و علامات میں سے یہ بھی ہے کہ دنیا کے ویرانوں کو آباد اور آبادیوں کو ویران کیا جائے گا،
اے ابن مسعود! بے شک قیامت کے آثار و علامات میں سے یہ بھی ہے کہ گانے بجانے کا سامان عام ہوگا اور شراب نوشی کا دور دورہ ہوگا،
اے ابن مسعود! بے شک قیامت کے آثار و علامات میں سے یہ ہے کہ مختلف اَقسام کی شرابیں پی جائیں گی،
اے ابن مسعود! بے شک قیامت کے آثار و علامات میں سے یہ بھی ہے کہ (معاشرے میں) پولیس والوں، چغلی کرنے والوں اور طعنہ بازوں کی بہتات ہوگی،
اے ابن مسعود! بے شک قیامت کے آثار و علامات میں سے یہ بھی ہے کہ ناجائز بچوں کی ولادت کثرت سے ہوگی۔
اِس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

al-Qur’ān
(18) اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْo وَ اَذِنَتْ لِرَبِّھَا وَحُقَّتْo وَ اِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْo وَ اَلْقَتْ مَا فِيْھَا وَتَخَلَّتْo
(الانشقاق، 84/ 1-4)
جب (سب) آسمانی کرّے پھٹ جائیں گےo اور اپنے رب کا حکمِ (اِنشقاق) بجا لائیں گے اور (یہی تعمیلِ اَمر) اُس کے لائق ہےo اور جب زمین (ریزہ ریزہ کر کے) پھیلا دی جائے گیo اور جو کچھ اس کے اندر ہے وہ اسے نکال باہر پھینکے گی اور خالی ہو جائے گیo
(18) Jab (sab) āsmānī kurre phat̥ jā’eṅge. Aur apne Rabb kā ḥukme (insheqāq) bajā lā’eṅge aur (yahī taʻmīle amr) us ke lā’iq hai. Aur jab zamīn (rezah-rezah kar ke) phailā dī jā’egī. Aur jo kuc̥h us ke andar hai woh use nikāl bāhar phaiṅkegī aur ḳhālī ho jā’egī.
–
[al-īnshiqāq, 84/1_4.]
〰〰
Join Karen

al-Ḥadīt̲h̲
18۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : إِذَا اسْتَحَلَّتْ أُمَّتِي سِتًّا فَعَلَيْھِمُ الدِّمَارُ، إِذَا ظَھَرَ فِيْھِمُ التَّـلَاعُنُ، وَشَرِبُوْا الْخُمُوْرَ وَلَبِسُوْا الْحَرِيْرَ، وَاتَّخَذُوْا الْقِیَانَ، وَاکْتَفَی الرِّجَالُ بِالرِّجَالِ وَالنِّسَاءُ بِالنِّسَاءِ۔
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَيْھَقِيُّ وَأَبُوْ نُعَيْمٍ۔
18: أخرجہ الطبراني في المعجم الأوسط، 2/ 18، الرقم/ 1086، والبیھقي في شعب الإیمان، 4/ 377، الرقم/ 5469، وأبو نعیم في حلیۃ الأولیائ، 6/ 123، وذکرہ المنذري في الترغیب والترھیب، 3/ 71، الرقم/ 3123، والھیثمي في مجمع الزوائد، 7/ 331، والھندي في کنز العمال، 7/ 177۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب میری اُمت چھ چیزوں کو حلال سمجھنے لگے گی تو اُن پر تباہی نازل ہو گی۔ جب اُن میں باہمی لعنت ملامت عام ہو جائے، لوگ کثرت سے شرابیں پینے لگیں، مرد ریشمی لباس پہننے لگیں، لوگ گانے بجانے اور رقص کرنے والی عورتیں رکھنے لگیں، مرد، مردوں سے اور عورتیں، عورتوں سے جنسی لذت حاصل کرنے لگیں (یعنی ہم جنس پرستی عام ہو جائے اور gays اور lesbians کے گروہ عام ہو جائیں اس وقت تباہی و بربادی ان کا مقدر ٹھہرے گی)۔
اِس حدیث کو امام طبرانی، بیہقی اور ابو نعیم نے روایت کیا ہے۔

al-Qur’ān
(17) اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاo وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاo وَقَالَ الْاِنْسَانُ مَالَهَاo یَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَاo
(الزلزال، 99/ 1-4)
جب زمین اپنے سخت بھونچال سے بڑی شدت کے ساتھ تھرتھرائی جائے گیo اور زمین اپنے (سب) بوجھ نکال باہر پھینکے گیo اور انسان (حیران و ششدر ہو کر) کہے گا: اسے کیا ہوگیا ہےo اس دن وہ اپنے حالات خود ظاہر کر دے گیo
(17) Jab zamīn apne saḳht bhūṅchāl se bar̥ī shiddat ke sāth thar tharā’ī jā’egī. Aur zamīn apne (sab) bojh nikāl bāhar pheṅkegī. Aur insān (ḥairān-o shashdar ho kar) kahegā: ise kyā ho gayā hai. Us din woh apne hālāt ḳhẉud ẓāhir kar degī.
–
[al-Zilzāl, 99/1_4.]
〰〰
Join Karen

al-Ḥadīt̲h̲
(17) عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رضي الله عنهما قَالَ: یَأْتِي عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ یَجْتَمِعُوْنَ وَیُصَلُّوْنَ فِي الْمَسَاجِدِ وَلَيْسَ فِيْهِمْ مُؤْمِنٌ۔
رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَالْحَاکِمُ وَالطَّحَاوِيُّ وَالْفَرْیَابِيُّ وَالدَّيْلَمِيُّ وَالْمَقْدِسِيُّ۔ وَقَالَ الْحَاکِمُ: هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ۔
17: أخرجہ ابن أبي شیبۃ في المصنف، 6/ 163، الرقم/ 30355، وأیضًا، 7/ 505، الرقم/ 37586، والطحاوي في شرح معاني الآثار، 2/ 172، والفریابي في صفۃ المنافق/ 80، الرقم/ 108- 110، والدیلمي في مسند الفردوس، 5/ 441، الرقم/ 8680، والمقدسي في ذخیرۃ الحفاظ، 5/ 2767، الرقم/ 6469۔
وَفِي رِوَایَةٍ قَالَ: یَأْتِي عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ یَجْتَمِعُوْنَ فِي الْمَسَاجِدِ، لَيْسَ فِيْهِمْ مُؤْمِنٌ۔
رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالْآجُرِّيُّ، وَقَالَ الْحَاکِمُ: هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ۔
أخرجہ الحاکم في المستدرک، 4/ 489، الرقم/ 8365، والآجري في کتاب الشریعۃ، 2/ 601-602، الرقم/ 236-237۔
وَفِي رِوَایَةٍ قَالَ: لَیَأْتِیَنَّ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ یَجْتَمِعُوْنَ فِي مَسَاجِدِهِمْ، مَا فِيْهِمْ مُؤْمِنٌ۔
رَوَاهُ الْآجُرِّيُّ۔
أخرجہ الآجري في کتاب الشریعۃ، 2/ 602-603، الرقم/ 238۔
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ وہ مساجد میں اکٹھے ہوں گے اور باجماعت نمازیں پڑھیں گے، لیکن ان میں کوئی ایک بھی (صحیح) مؤمن نہیں ہوگا۔
اسے امام ابن ابی شیبہ، حاکم، طحاوی، فریابی، دیلمی اور مقدسی نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے فرمایا: اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
ایک اور روایت میں حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ وہ (باجماعت نمازوں کے لیے) مساجد میں اکٹھے ہوں گے لیکن ان میں کوئی ایک بھی مومن نہیں ہوگا۔
اسے امام حاکم اور آجری نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے فرمایا: اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
ایک اور روایت میں حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: لوگوں پر ضرور بالضرور ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں وہ (باجماعت نمازوں کے لیے) اپنی مساجد میں جمع ہوں گے لیکن ان میں کوئی ایک بھی مومن نہیں ہوگا۔
اسے امام آجری نے روایت کیا ہے۔

al-Qur’ān
(16) یَسْئَلُکَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ ط قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللهِ ط وَمَا یُدْرِيْکَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَکُوْنُ قَرِيْبًاo
(الأحزاب، 33/ 63)
لوگ آپ سے قیامت کے (وقت کے) بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ فرمادیجیے: اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے، اور آپ کو کِس نے آگاہ کیا شاید قیامت قریب ہی آچکی ہوo
(16) Log Āp se qiyāmat ke (waqt ke) bāre meṅ daryāft karte haiṅ. Farmā dījiye: us kā ʻilm to Allāh hī ke pāṣ hai, aur Āp ko kis ne āgāh kiyā shāyad qiyāmat qarīb hī ā chukī ho.
–
[al-Aḥzāb, 33/63.]
〰〰
Join Karen

al-Ḥadīt̲h̲
16۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ تَغْلِبَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ یَفْشُوَ الْمَالُ وَیَکْثُرَ، وَتَفْشُوَ التِّجَارَةُ، وَیَظْهَرَ الْعِلْمُ۔
رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَالْحَاکِمُ۔ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ، وَإِسْنَادُهٗ عَلٰی شَرْطِهِمَا۔
16: أخرجہ النسائي في السنن، کتاب البیوع، باب التجارۃ، 7/ 244، الرقم/ 4456، وأیضًا في السنن الکبری، 4/ 5، الرقم/ 6048، والحاکم في المستدرک، 2/ 9، الرقم/ 2147، والمقرئ في السنن الواردۃ في الفتن، 3/ 565-566، الرقم/ 251۔
حضرت عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بے شک قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ مال عام اور کثیر ہو جائے گا، تجارت پھیلے گی اور دنیوی علم کا دور دورہ ہو گا۔
اسے امام نسائی اور حاکم نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے فرمایا: اس حدیث کی اسناد صحیح ہے اور بخاری و مسلم کی شرائط پر ہے۔
[Ṭāhir al-Qādrī fī al-Qawlu al-Ḥasani fī ʻalāmatī al-sāʻaṫi wa-ẓuhūri al-fitan,/35_36, raqam: 16.]
〰〰
Join Karen