Hazrat Haji Sayyah Sarwar e Makhdoom Syed Saeedoddin Rifai Rahmatullah Alaih Qandhari

a882311d-270c-4cc4-8237-f7b74faf987f

Malfuzat-i-Sarwari and Tarikh-i-Kandhar gives the historica information
of Hazrat Haji Sayyah Saidoddin Sarwar Maqdoom.169 Under the study of
geneology of Sarwar Maqdoom, and find that spiritual and familiar
relation to him from 26th as a Sake to Hazrat Imam Hussain Rajallaanh.
Imam Husain was the son of Fatima, the daughter of Prophet Muhammad.
The geneology as described by Amir Hamza in his book has been usefull
to study this Sufi saint from Kandhar.170
Most of the Sufis of Deccan and Bidar Gulbarga Bijapur Khuldabad
area who migrated to the city from the mid fourteenth centuty, belonged to
the Chishti, the Qadari or the Rafai silsilas, which had already undergone
considerable development in various parts of the Indian Subcontinent
before becoming significant in Kandhar.171 Hazdrat Saidoddin Sarwar
Maqdoom was the successor (Khalifa) of his father, Hazrat Sayyad Sarwar
Ibrahim Nizamuddin Rafai.172 He was also benefitted by the spiritual
training of Shahikh Nizam ud Din Auliya in Delhi. After the death of
Shaikh Nizam ud Din Auliya in 1324, his murids spread all over India
from Delhi.173
Originally the family of Hazrat Sarwar Maqdoom came from the
town of Basra in Iraq. Hazrat Sarwar Maqdoom had the hobby of travellin
to major cities having Islamic importance. Hency, he was known by the
name ‘Sayyah’ (literally meaning the traveler).174 He was also a pilgrim
of Mecca and Medina in Arabia. He came to Delhi and become a disciple
of Shaikh Nizam ud Din Auliya.175 After that, he came to Kandhar Deccan
at 1325 AD. His Tariqah was known as Qadiriya Rafaiya. The Rafaiya Tariqa or silsila came from the northern part of Indian sub continent and
had originated from the famous Sufi saint Shaikh Hazrat Saiyyad Ahmed
Kabir Rafai Rahamtullahalai.176 Sarwar Maqdoom had died on 17th Rajjab
736 AH and was buried in at Badi Dargah. This badi Dargah originally
was s typical structure with square or octagonal base supporting a dome.177
After the inthakhal of Hazrat Sarwar Maqdoom, his two sons came to
Tariqah of Rafai Qadiriya silsila.

مختصر سوانح حیات قطب الاقطاب سعید الدین رفاعیؓ سرور مخدوم قندھاری🌺

👈حضرت حاجی سیاح سرور مخدوم سید سعید الدین رفاعیؓ حسینی سادات سے ہیں آپ کا سلسلہ پدری چھ واسطوں سے ایک روایت کے مطابق سات واسطوں سے برہان العارفین سلطان سید احمد کبیر رفاعیؓ تک پپہنچتا ہے۔نسب مادر ۱۲ واسطوں سے امیرالمومنین عمر بن خطابؓ تک پہنچتا ہے۔
آپکے والد کا نام سید ابراہیم نجم الدینؓ تھا۔آپکی والدہ کا نام بی بی فاطمہ تھا آپ شیخ الاسلام با با فرید الدین گنج شکرؓ کی لخت جگر تھی۔اس لحاظ سے آپ بابا فرید گنج شکرؓ کے نواسے ہوتے ہے۔

🌷شکر گنجؓ آپ کے نانا,رفاعیؓ آپکے دادا,
علیؑ کے لعل, آل مصطفیٰ ﷺ مخدوم قندھار ی🌷

👈سرور مخدومؒ کے آباء و اجداد عراق کے رہنے والے تھے۔سرور مخدومؒ نے مختلف ممالک کی سیر کی مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں عرصہ تک قیام کیا,پھر ہندوستان تشریف لائے اور دہلی میں اقامت اختیار کرلی۔آپؒ عرصہ دراز تک محبوب الہیٰؓ کی خدمت میں رہے اور نظام الدین اولیاء کے فیض صحبت میں علوم ظاہر کے علاوہ علوم باطن سے بھی بہرہ ور ہوئے ۔

🔰بیعت و خلافت:-
آپؒ اپنے والدؒ کے مرید اور خلیفہ تھے۔جیسا کہ “مشاہیر قندہار” (مولفہ محمد اکبر الدین صدیقی ) میں اسکا ذکر ہے۔آپؒ کو بارگاہ محبوب الہیٰ سے بھی اجازت و خلافت حاصل تھی۔

❇️مجدد و مجتہد آئین حزب اللّٰہ حضرت سید اسمعیل عرف ذبیح اللّٰہ شاہ حسنی الحسینیؒ نے اپنی تصنیف لطیف “آئین حزب اللّٰہ ” میں حضرت سرکار سرور مخدوم ؒ کا فیضان محبوب الہٰی سے مستفیض ہونے کا ذکر کیا ہے۔
👈ایک روز سلطآن المشائخ محبوب الہٰی قدس اللّٰہ سرہ مجلس میں وعظ فرما رہے تھے کہ آپکی محفل منزل فیض میں سخاوت کا اسطرح ذکر آیا کہ حضور غوث اعظمؓ ایک روز یاد الہٰی میں بیٹھے تھے کسی نے کہا کہ حاتم طائی بڑا سخی تھا۔حضور غوث الاعظمؓ نے خلیفہ سے ارشاد فرمایا کہ شہر بغداد میں جتنے فاسق و بدکار ہوں حاضر کرو۔صبح خلیفہ وقت نے یہ سب لوگوں کو حاضر کیا۔وہ سب قطار سے حسب فرمان کھڑے کئے گئے آپؓ گھوڑے پر سوار ہوکر ما بین صف ہائے ایستادہ گھوڑا چلائے اور فرمایا کہ ادہر کے ابدال ادہر کے قطب(سبحان اللّٰہ ) یہ سخاوت ہے۔یہ تذکرہ سن کر محبوب الہیٰ چپ ہو رہے۔اور وعظ میں مشغول ہوئے۔اتنے میں جناب باری تعالی سے حضرت کو خطاب ہوا اے محبوب الہٰی آپ بھی کچھ مانگو چنانچہ تین مرتبہ ایسا ہی خطاب ہوا۔آپ بدستور وعظ میں شامل رہے چوتھی مرتبہ غور فرمایا کہ جناب باری تعالیٰ مجھے خطاب فرماتا ہےاور میں چپ رہو یہ سوء ادبی ہے پس حسب الارشاد باری تعالٰی عرض کیا میں جس کو غوثیت,قطبیت,کرامت,ولایت عطا کروں اگرچہ وہ کیسا ہی ہو تا قیامت اسکے خاندان میں امانتا جاری رہے۔جناب باری سے ارشاد ہوا اے محبوب جو مانگو منظور ہے۔آپ نے ارشاد فرمایا اس محفل میں جتنے بیٹھے ہیں کھڑے ہوجائیں۔حضرت امیر خسرو ؒ,حضرت خواجہ نصیر الدین چراغ دہلویؒ اور کئی بیٹھے رہے باقی 1400 حضرات جو کھڑے تھے ان سے فرمایا کہ اس دروازہ کی کمان سے بے گمان نکل جاؤ۔جو جائیگا غوث و قطب,ولی اور ابدال ہوگا۔حسب الارشاد گذرے اور نعمتیں حاصل کیں۔ایسے لاکھوں ولی اللّٰہ آپ کی خانقاہ مبارک سے مامور بخدمت نکلے۔”از آنجملہ حاجی سیاح سرور مخدوم سید سعید الدین الملقب بہ خلیل اللّٰہ رفاعی چشتی کفار بہنجن قدس اللّٰہ سرہ، بھی اسی دارالعلوم مدرسہ صوفیہ کے ایک جلیل القدر ومنتہی کامل اولیاء( میں سے) ہیں۔” (آئینِ حزبُ اللّٰہ ص ۱۱۱,۱۱۲)

🔰سفردکن اور توطن قندھار:-
725ھ میں محبؤب الہیٰ کا وصال ھوا اور اسکے بعد محمد تغلق نے دہلی خالی کرکے دولت آباد کو پایہ تخت قرار دیا اس وقت جن اولیاء نے دکن کی طرف رخ کیا ان میں حاجی سیاح سرور مخدوم ؒ کو خاص اہمیت حاصل ہے ۔آپ شیخ ابراہیم سپہ سالار کیساتھ دکن تشریف لائے اور متعدد معرکوں میں شرکت کی جسمیں آپ نے مخالفین کے کئی سرداروں کو قتل کیا جس کی وجہ سے کفار بہنجن مشہور ہو گئے۔
دکن آنے کے بعد آپ نے قندھار کو اپنی اقامت کے لیے پسند کیا۔اس وقت قندھار ہندؤں کا متبرک مقام تھا رآمائن اور مہا بھارت کے ہیرؤں کا مسکن رہ چکا تھا۔اس وجہ سے یہاں مندروں کی کافی تعداد تھی۔کفر کا بول بالا تھا مخلوق خدا شرک پرستی میں مست خالق حقیقی سے نا آشنا جہالتوں کے اندھیروں میں زندگی گذار رہی تھیں۔ایسے پر فتن ماحول میں آپ نے شمع حق جلائی اور لوگوں کو دعوت اسلام دی۔آپکے اخلاق کریمہ اور کرامات نے لوگوں کو گرویدہ کرلیا۔بہتوں نے آپکے دستِ حق پر اسلام قبول کیا ۔

👈آپکے مریدین و معتقدین کی تعداد بہت زیادہ تھی نہ صرف مسلمان بلکہ ہندو بھی آپکی بزرگی کے قائل تھے۔
آپ اپنا بیشتر وقت تنہائی میں گذارتے آپ نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ یاد الہیٰ میں گذارا شہر سے دور ایک پہاڑ پر موجود تسبیح خانہ میں آپ اپنے مالک حقیقی کے ذکر میں مشغول رہتے تھے۔وہ جگہ گول ٹیکڑی کے نام سے آج بھی مشہور ہے۔
آپ نے اپنے مریدین کی ہدایت و تربیت کی خاطر انکے نام مکتوبات تحریر کئے جو “مکتوبات سروری” کے نام سے مشہور ہے جس میں آپنے مسائل تصوف اس خوبی سے بیان کئے ھیں کہ انکا مطالعہ علم تصوف کے مبتدی اور منتہی کے لئے یکساں فائدہ پہنچا سکتا ہے۔

🔰وصال:-
حضرت حاجی سیاح سرور مخدوم ؒ نے 16 رجب 736ھ کو وصال فرمایا آپکے فرزند نے جسم مبارک کو غسل دیا اور مریدین و معتقدین کی جماعت کثیر کے ساتھ نماز جنازہ ادا کی گئی۔مسکن سے کچھ فاصلے پر مدفن تیار کیا گیا جس پر نہایت شاندار گنبد کی تعمیر ہوئی۔روضہ آج تک مرجع خاص و عام ہے۔905 ھ میں خواجۂ دکن بندہ نواز گیسو درازؒ نے بارگاہ سرور مخدوم میں حاضری دی اورآپ کے فیض سے مستفیض ہوئے۔

اولاد:-
سرور مخدوم ؒ کے دو فرزند تھے۔
پہلے فرزند زین الحقؒ جنکا کمسنی میں ہی وصال ہوگیا تھا۔
دوسرے فرزند شاہ عزالحق عزیز الدين ؒ جن کے تین صاحبزادے تہے۔1)زین الدینؒ 2)سراج الدینؒ,3)نجم الدين ؒ ۔
آپؒ نے اپنی وفات سے پہلے اپنے چہوٹے پوتے نجم الدینؒ کو اپنے پاس بلایا اور انکے سر پر عمامہ رکھا اور تسبیح,مسواک,مصلی,اور عصا بھی مرحمت کیا۔جسکی بنیاد پر انھیں کی اولآد میں سجادگی کا سلسلہ جاری ہو گیا۔

❇️ارشادات سرورمخدوم:-
👈شریعت کے مطالعہ سے نفس پاک ہوتا ہے اور سچائی کے نور سے خدا کے بھید اس پر کھلتے ہیں اور مخلوق کے مرتبہ کے حجابات درمیان سے اٹھ جاتے ہیں۔اسکی اتباع سے جسم اطاعت اور خدمت میں آتا ہے۔
👈طریقت کے مجاہدہ سے دل صاف ہوتا ہے اور نور عصمت سے مصفی ہوتا ہے,خدائے تعالی کے احکام کی باریکیاں اس پر کھل جاتی ہیں اور دنیا کے حجابات درمیان سے اٹھ جاتے ہیں,دل شہوات کے چھوڑنے سے حضوری میں آتا ہے۔
👈حقیقت کے مراقبہ سے روح روشن ہوتی ہے تجلی کے نور سے خدائے تعالی کی وحدانیت کے بھید اس پر کھل جاتے ہیں اور نفسانی مرادات کے حجابات درمیان سے اٹھ جاتے ہیں۔

مآخذ و مراجع :-
1)مکتوبات سروری —–قطب الاقطاب سرور مخدومؓ
2)آئن حزب اللّٰہ ۔۔۔۔۔۔۔۔مجدد آئین حزب اللّٰہ سید اسمعیل ذبیح اللّٰہ شاہؒ
3)مشاھیر قندھار۔۔۔۔۔۔۔۔محمد اکبر الدین صدیقی
4)مرقع انوار۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فصیح الدین نظامی۔

🖋مرتب کردہ:
خاک پائے اولیاءاللہ
سید شجاعت علی نوری
کلم نوری شریف، مہاراشٹرا

شيخ الاسلام قطب الاقطاب تاج المشايخ فجر اخبار كبريائي بندگی مخدوم حاجی سیاح سرور سعید الدين الرفاعي قدس سره العزيز ( المتوفى 736 ہجری)
آپ سادات رفاعیہ سے ہیں ۔
اور اپنے والد بزرگوار کے مرید و خلیفہ ہیں۔ اصلا آپ کے اجداد ملک عراق بصرہ کے رہنے والے تھے ، پہر ہند میں آکر دہلی میں اقامت اختیار کی ۔
حضرت مخدوم کو سیاحی کا شوق تھا ، بہت سے ملکوں کی سیر کر کے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں کچھ عرصہ اقامت فرمائی پہر دہلی تشریف لائے ۔
کتاب تاریخ قندہار دکن (مطبوعہ 1321 ہجری ) میں موجود ہے کہ آپ کو خرقہ خلافت آپ كے والد بزرگوار سے ملا ہے اور اپ نے حضرت شیخ نظام الدین اولیا قدس سرہ کی خدمت بابرکت میں حاضر ہو کر استفادہ حاصل کیا ہے ۔
حضرت مخدوم کا سلسلہ خلافت
آپ کا سلسلہ خلافت رفاعیہ 10 واسطوں سے سید السادات سید احمد کبیر رفاعي سے ملتا ہے ۔
اور وہ اس طرح ہے ۔
سید سعید الدین الرفاعي
١۔ سید ابراہیم نجم الدین الرفاعي
٢۔ سيد شمس الدين الرفاعي
٣۔ سيد نجم الدين الرفاعي
٤۔ سيد تاج الدين الرفاعي
٥۔ سيد شمس الدين الرفاعي
٦۔ سيد نجم الدين احمد
٧۔ سيد قطب الدين أبى الحسن علي
٨۔ سيد ابراهيم
٩۔ سيد عبد الرحيم
١٠۔ سيد علي
١١۔ سيد السادات سيد احمد الكبير الرفاعي قدس سره العزيز
رحمهم الله عليهم
آپ کا سفر دکن
725 ہجری میں حضرت محبوب الہی نظام الدین اولیا قدس سرہ کا دہلی میں وصال ہوا۔ اور اس کے بعد ہی محمد تغلق نے دہلی خالی کر کے دولت آباد کو پایہ تخت قرار دیا۔ اس وقت جن اولیا نے دکن کی طرف رخ کیا ان میں حاجی سیاح سرور قدس سرہ کو خاص اہمیت حاصل ہے ۔
آپ حضرت شیخ سید ابراہیم سپہ سالار (جو محمد تغلق کی فوج میں سپہ سالار تھے) کے ساتھ دولت آباد ائے ۔ آپ کے کرامات اور خرق عادات نے عوام کو گرویدہ کر لیا بہت لوگوں نے آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا ۔اور آپ کے عقیدت مندوں کا حلقہ روز بہ روز وسیع تر ہوتا گیا ۔
دکن آنے کے بعد قندہار کو اپنی اقامت کے لئے پسند کیا ۔ چنانچہ آپ نے تالاب کے مشرقی کنارے پر اور حضرت ابراہیم سپہ سالار نے مغربی کنارے پر قیام کیا ۔
حضرت مخدوم کے سجادہ نشین
حضرت امیر حمزہ نے کتاب تاریخ قندہار دکن (مطبوعہ 1321 ہجری ) میں لکھا ہے کہ جب آپ کا وصال کا وقت قریب پہنچا تو آپ نے اپنے چھوٹے پوتے سید نجم الدین ابن سید عز الحق کے سر پر اپنے سر کا عمامہ رکھا اور تسبیح ، مسواک ، مصلی، عصا مرحمت کیا ۔ اور سید نجم الدین ہی اولادوں میں سجادگی کا سلسلہ جاری ہوا ۔ اور سید نجم الدین ابن سید عز الحق کی اولاد میں چھٹے سجادہ نشین سید شاہ شیخ بڑے حقانی صاحب کو ایک ہی دختر تھیں اور ان کے بعد سجادگی حضرت شیخ بڑے حقانی صاحب کی دختر کی اولاد میں جاری ہوئی ۔ اور پہر سجادگی حضرت کی آل میں منتقل ہو گئی۔
اور اس وقت سید مرتضى پاشا حسینی مسند سجادگی پر متمکن ہیں ۔
حضرت مخدوم کا وصال
16 رجب 736 ہجری میں آپ کا وصال ہوا جیسا کہ کتاب تاریخ قندہار دکن میں موجود ہے ۔
کتاب انوار القندهار میں مولانا شاہ رفیع الدین قدس سرہ اور کتاب تحفة الاحمدي میں مولانا محمد بن سید حسینی رفاعی نے آپ کی تاریخ وفات 17 ماہ رجب 736 ہجری لکھی ہے۔

Malfuzate sarwari’ maktub book on Haji Sayyah Sarwar e Makhdoom Kandhari Rahmatullah Alaih (makashafat e sarwari book)

  1. قندھار Anwarul Qandhar 24-Oct-2019 15-39-27
  2. تاريخ قندهار دكن 1903
  3. file_1607156303171
  4. Sufi of Maharashtra