
امام زادہ حضرت سیّدنا عبداللہ دقدق اہل بیت اطہار کے بزرگ حضرت امام محمد باقر علیہ السّلام کے بیٹے امام زین العابدین علیہ السّلام کے پوتے اور شہید کربلا امام حسین علیہ السّلام کے پڑپوتے تھے۔
تاریخ ولادت ۸۳ ہجری بمطابق ۷۰۲ عیسوی مدینہ منورہ
شہادت ۱۱۸ ہجری ۷۳۶ عیسوی مدینہ منورہ
والدہ بقول ابن عنبہ سید عبداللہ دقدق کی والدہ ماجدہ کا نام” اُم فروہ ” بنتِ قاسم بن محمد بن ابوبکر رضی اللّٰہ عنہ تھا امام جعفر صادق علیہ السّلام اور سیدنا عبداللہ دقدق کی والدہ ام فروہ ہی ہیں۔ آپ کی والدہ ام فروہ محمد بن ابوبکر کی پوتی تھیں جن کے والد قاسم بن محمد بن ابوبکر مدینہ کے سات فقہا میں سے تھے۔ آپ کی نانی اسماء بنت عبدالرحمان بن ابو بکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ ہیں۔ امام جعفر صادق کے بعد آپ اولاد امام باقر علیہ السلام میں سب سے بڑے تھے۔
جنابِ عبداللّہ کا لقب دقدق تھا جو تاریخ کی کتب میں درج ہے۔ اس کے علاوہ سید عبداللہ الافطح اور دروق بھی تاریخ اور علم الانساب کی کتب میں ملتا ہے۔
۱۔قال ابن قتيبة في معارفه: أما عبد الله بن محمد فهو الملقب بدقدق ومات بالمدينة
۲۔ قال البلاذري في أنساب الأشراف أما عبد الله بن محمد فكان يلقب دورقا، مات بالمدينة
۳۔ ذكره ابن شهر آشوب في مناقبه فعند ذكره أولاد الإمام الباقر (ع) قال: وعبد الله الأفطح
دقدق عربی لفظ ہے جس کے لغوی معنی ٹکرانا ہے دو چیزوں کو ایسے ٹکرانا کہ دَق کی آواز پیدا ہو۔ اور جب کسی چیز کو توڑنا مقصود ہو تو دَقَّ کا لفظ استمعال ہوتا ہے جیسے چکی کے دو پاٹوں کے درمیان کوئی اناج رکھ کر باریک پیس دیا جاتا ہے۔”المنجد عربی اردو”
سید عبداللہ دقدق کا یہ لقب یقینن ان کو آلِ امیہ سے ٹکرانے کی بدولت ملا ہوگا۔ وہ اور ان کی اولاد نے امامِ حسن علیہ السّلام کی اولاد کی طرح خروج کیا۔
ازواج اور اولاد
سید عبداللہ دقدق کا نکاح زلیخا بنتِ فقیہ عقیل علوی سے ہوا تھا جن سے ان کی تین فرزند اور دو دختر تھیں۔ سید عبداللہ دقدق کی زوجہ زلیخا بنت فقیہ عقیل علوی اپنے بھائیوں میں سب سے بڑی تھیں۔
اسم اولاد حضرت سیّد عبداللہ دقدق حسینی
۱- سید اسود المعروف الہاشم
۲- سید حمزہؒ
۳- سید اسماعیل اصحاب امام جعفر صادق علیہ السّلام
۴-اُم حسن ؒ اُم خیر فاطمہ
۵- اُم حسين ؒ آمنہ
اس کے علاوہ کتب تواریخ میں آپ کی اولاد میں چھے صاحبزادوں کا ذکر بھی ملتا ہے۔
۱- سید مالک
۲- سید محمود
۳- سید اسود المعروف الہاشم
۴- سید ایوب المعروف حبیب اللہ
۵- سیّد اسماعیل
۶- سیّد حمزہ
اور دو دختر جنکا اسم
۱-بی بی ام حسین آمنہ (زوجہ حضرت سیّد عبداللّہ الاشتر عرف عبداللّہ شاہ غازی ابن حضرت سیّد مُحمّد نفس زکیہ علیہ السّلام ) اور
۲-بی بی اُم حسن اُم خیر فاطمہ (زوجہ حضرت عبداللّہ بن محمد بن عمر الاطرفت ابن حضرت مولیٰ علی علیہ السّلام تھا۔
سید اسود المعروف ہاشم ؒ ابن حضرت عبداللہ دقدق کے آٹھ بیٹوں کا ذکر بھی کتاب بحر الانساب اور ریاض الانساب میں موجود ہے جس میں ان کے ایک بیٹے ادھم بھی ہے۔
۱۔سید طاہر
۲۔سید محمّد
۳۔سید اسماعیل
۴۔سید حمزہ
۵۔سید ہارون
۶۔سید ادھم ( المعروف ناصر ادھم )
۷۔ سید خالد
۹۔سید یونس۔
سید اسود المعروف ہاشم کے بیٹے ادھم جو ناصر ادھم کے نام سے مشہور ہیں، آپ ہی حضرت سیدنا ابراہیم بن ناصر ادھم کے والد برزگوار ہیں اور آپ ناصر ادھم نے ہی اپنا شجرہ نسب مادری دربار سامانی میں بتایا تھا۔ آپ کی والدہ ام ناصر بنت عبداللہ بن عمر بن حفص بن عاصم بن حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ ہیں، اور یہی شجرہ نسب آپ نے دربار بلخ میں بتایا جو شجرہ نسب مادری تھا۔ اور یہی شجرہ آپکی اولادوں نے بھی اہل بیت نبوّت پر ظلم اور زیادتی ہونے کے سبب رائیج کر رکھا تھا جو علوی فاطمی ہونے کے بوجود فاروقی کہلائے۔
حضرت عبداللہ دقدق کی عمر تیس (۳۰) یا بتیس (۳۲) سال تھی۔ اپنے آباؤاجداد کی طرح مشکل حالات میں زندگی بسر کی جس کی وجہ سے کبھی روپوش رہے اور کبھی ظاہر ہو گئے۔ اہل بیت پر ہونے والے مظالم کی وجہ سے آپ کا تاریخ میں واضح نام نہیں ملتا مگر بہت سارے مورخین نے آپ کا کتب میں ذکر کیا ہے۔
جس طرح خروجِ اولاد سیدنا عبداللہ دقدق کتب تاریخ میں موجود ہے۔ جس میں سید حمزہ اور سید ہاشم کا خروج ملتا ہے۔ سید عبداللہ دقدق کے بیٹے حمزہ نے ۱۴۵ ہجری میں خروج کیا جن کے ساتھ ان کے بھائی ہاشم بھی تھے اور خروج کے بعد خراسان کے شہر بلخ آ گئے۔ امام جعفر صادقؑ نے جناب حمزہ بن عبداللہ دقدق کو خروج سے منع فرمایا تھا جو سید ناصر ادھم کے حقیقی چچا تھے۔ انہی حضرت حمزہ بن عبداللہ دقدق کی ہمشیرہ اُم حسن اُم خیر فاطمہ بنت عبداللہ دقدق حضرت علی علیہ السّلام کے پڑپوتے حضرت عبداللہ بن محمد بن عمر الاطرف کی زوجہ تھیں جن کے فرزند عیسی بن عبداللہ بن محمد بن عمر الاطرف بن علی کرم اللہ وجہہ، ابو جعفر محمد بن جریر طبری کے استاد تھے۔ اس کے علاوہ اُم حسن بنت عبداللہ دقدق حضرت ناصر ادھم قلندر کی پھوپھی تھیں۔
سید عبداللہ دقدق فرزندِ رسول اور اہل بیت سے ہونے کے باوجود روپوش رہے اور پردہ اختیار کئے رکھا اسی لیے آپ کی اولاد نے بھی عباسی خلیفہ کی بیت سے انکار کیا اور خروج کیا آپ کی اولاد نے امام حسن علیہ السّلام کی اولاد (حضرت سید محمد نفس زکیہ علیہ السلام اور حضرت ابراھیم نفس رضیہ علیہ السلام) کے ساتھ خروج کیا اور ان کی اولاد کے ساتھ جو سلوک عباسی خلفاء نے کیا وہ تاریخی کتب میں درج ہے۔ امام حسن علیہ السّلام کی اولاد کے ساتھ کیا گیا سلوک دیکھ کر امام حسین علیہ السّلام کی اولاد نے خراسان کا رخ کیا۔
کتاب سیادت فریدی_۱ میں جنابِ عبداللہ دقدق کے بارے میں بیان ہے کہ
“عبداللہ بن امام محمد باقر ؑ آپ کا لقب دقدق ہے اور کتب کرالکریم بھی لکھا ہے حضرت امام جعفر صادق کے حقیقی بھائی ہیں آپ کی اولاد ملک عرب میں نہیں رہی کیونکہ بزمانہ سلطنت ابوجعفر منصور عباسی آپ کی اولاد مختلف مقامات میں منتشر ہوگئی چنانچہ ملک خراسان و ہندوستان میں بکثرت پائی جاتی ہے۔”
کتاب معارف ابن قتیبہ میں صراحت لکھا ہے کہ عبداللہ دقدق صاحبِ اولاد ہیں اس وجہ سے ساداتِ خراسان و ہرات جو اولادِ ناصر ادھم بن ہاشم بن عبداللہ مذکور سے ہیں اور وہ ملک خراسان وغیرہ میں شرف سیادت سے ممتاز ہیں نیز وہ اپنے سلسلہ جدی کو امام محمد باقر علیہالسّلام سے یقینن جانتے ہیں۔
شہادت و مزار اقدس
آپ کی شہادت ۱۱۸ ہجری مطابق ۷۳۶ عیسوی مدینہ منورہ میں ہوئی اور آپکی مزار مبارک دیلم ایران میں مرجع خلائق ہے۔
* شجره نسب (ہمشیرہ زادہ مؤلف) سیّد شاہ محمّد میاں حسینی حسنی عرف آبان میاں
۱-حضرت مولیٰ امام علی علیہ السّلام
(زوجہ حضرت سیّدہ بی بی فاطمہ زہرا سلام اللّٰہ علیہا)
۲-حضرت مولیٰ امام حسین علیہ السّلام
(زوجہ شہزادی ایران حضرت بی بی شہر بانو سلام اللّٰہ علیہا)
۳-حضرت مولیٰ امام زین العابدین علیہ السّلام
(زوجہ حضرت سیّدہ بی بی فاطمہ سلام اللّٰہ علیہا بنت حضرت امام حسن علیہ السّلام)
۴-حضرت مولیٰ امام محمّد باقر علیہ السّلام
(زوجہ حضرت بی بی اُم فروه بنت حضرت قاسم ابن حضرت مُحمّد ابن حضرت ابوبکر رضی اللّٰہ عنہ)
۵- حضرت سیّدنا عبداللہ دقدق رحمۃ اللّٰہ علیہ
(زوجہ حضرت بی بی زلیخا بنتِ فقیہ عقیل علوی)
۶- حضرت سیّدنا اسود المعروف ہاشم رحمۃ اللّٰہ علیہ
(زوجہ حضرت بی بی اُم ناصر بنت عبداللہ بن عمر بن حفص بن عاصم بن حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ)
۷- حضرت سیّدنا ناصر المعروف ادھم رحمۃ اللّٰہ علیہ
(زوجہ حضرت شہزادی بی بی عابدہ بنت سلطان اسد سامانی بادشاہ بلخ)
۸- امام الاصفياء تاریک السلطنت سلطان حضرت سیّدنا خواجہ ابوالاسحٰق ابراھیم ابن ادھم بادشاہ بلخ رحمۃ اللّٰہ علیہ (آپ کے تین فرزند تھے، سیّد ناصح الدین، سیّد محمود، اور سیّد اسحٰق جن سے تمام ہند و سندھ میں سادات ادھمی بلخی موجود ہے۔)
!!!
۹- حضرت سلطان سیّد خواجہ اسحٰق ناصر الدين بادشاہ بلخ رحمۃ اللّٰہ علیہ ( حضرت خواجہ سیّد بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللّٰہ علیہ آپ ہی کے سلسلہ اولاد سے ہے۔)
۱۰- حضرت سلطان سیّدنا خواجہ ابوالفتح واعظ الاکبر بادشاہ بلخ رحمۃ اللّٰہ علیہ
۱۱- حضرت سلطان سیّدنا خواجہ عبداللہ واعظ الاصغر بادشاہ بلخ رحمۃ اللّٰہ علیہ
۱۲- حضرت سلطان سیّدنا خواجہ شاہ مسعود بادشاہ بلخ رحمۃ اللّٰہ علیہ
۱۳- حضرت سلطان سیّدنا خواجہ شاہ سلیمان بلخی بادشاہ بلخ رحمۃ اللّٰہ علیہ
۱۴- حضرت سلطان سیّدنا خواجہ شاہ محمود شمس الدین بلخی المعروف شہنشاہ رحمۃ اللّٰہ علیہ
(آپ مرید و خلیفہ حضرت سید احمد چرمپوش بہاری رحمۃ اللّٰہ علیہ کے تھیں۔ آپ کے تین فرزند تھیں۔ بڑے فرزند حضرت مخدوم سیّد مظفر الدّین شمس بلخی رحمۃ اللّٰہ علیہ جو حضرت مخدوم یحییٰ منیری بہاری رحمۃ اللّٰہ علیہ کے فرزند حضرت مخدوم شرف الدین بہاری رحمۃ اللّٰہ علیہ کے مرید و خلیفہ خاص تھیں۔ منجھلے فرزند حضرت مخدوم معیز رحمۃ اللّٰہ علیہ اور چھوٹے فرزند حضرت سیّدنا خواجہ شاہ نصیر الدین بلخی بادشاہ بلخ تھیں۔)
۱۵- حضرت سلطان سیّدنا خواجہ شاہ نصیر الدین بلخی بادشاہ بلخ رحۃ اللّٰہ علیہ
۱۶- حضرت سلطان سیّدنا خواجہ شاہ شہاب الدین علی المعروف فرّخ شاہ افتلی کابلی رحمۃ اللّٰہ علیہ بادشاہ افغانستان
۱۷- حضرت سیّدنا خواجہ شاہ نومان افتلی کابلی رحمۃ اللّٰہ علیہ
۱۸- حضرت سیّدنا شاہ مہمان فرمدی کابلی رحمۃ اللّٰہ علیہ
۱۹- حضرت سیّدنا شاہ مہمان خیبری رحمۃ اللّٰہ علیہ
۲۰- حضرت سیّدنا شاہ بابا علی ذاکر رحمۃ اللّٰہ علیہ
۲۱- حضرت سیّدنا شاہ فیّاض کوفی رحمۃ اللّٰہ علیہ
۲۲- حضرت سیّدنا شاہ محمد کوفی سہروردی رحمۃ اللّٰہ علیہ (جد امجد خانوادہ ے عالیہ حسینيه ادھمیہ بلخيه منڈیاہو وا مچھلی شہر جونپور) (آپ مريدو خلیفہ خاص حضرت مخدوم سید اسد الدین زیدی حسینی واسطی آفتاب ہند سہروردی چشتی رحمۃ اللّٰہ علیہ کے تھے اور آپ ہی کے ساتھ کوفہ عراق سے ظفرآباد جونپور تشریف لائے۔ آپکا مزار مبارک احاطہ روضہ آفتاب ہند رحمۃ اللّٰہ علیہ جونپور میں موجود ہے۔
!!!
۲۳- حضرت سیّدنا شاہ قاضی عطااللّٰہ رحمۃ اللّٰہ علیہ
۲۴- حضرت سیّدنا شاہ قاضی خواجگی رحمۃ اللّٰہ علیہ
۲۵- حضرت سیّدنا شاہ قاضی محمد رحمۃ اللّٰہ علیہ
۲۶- حضرت سیّدنا شاہ قاضی خواجگی رحمۃ اللّٰہ علیہ
۲۷- حضرت سیّدنا شاہ قاضی شرف الدین رحمۃ اللّٰہ علیہ
۲۸- حضرت سیّدنا شاہ قاضی محمود عرف قاضی منجھلے رحمۃ اللّٰہ علیہ
۲۹- حضرت سیّدنا شاہ قاضی کریم الدین رحمۃ اللّٰہ علیہ
۳۰- حضرت سیّدنا شاہ قاضی محمد رحمۃ اللّٰہ علیہ
۳۱- حضرت سیّدنا شاہ قاضی خواجگی رحمۃ اللّٰہ علیہ
۳۲- حضرت سیّدنا شاہ قاضی محمد رحمۃ اللّٰہ علیہ
۳۳- حضرت سیّدنا شاہ قاضی ابوالحسن رحمۃ اللّٰہ علیہ
۳۴- حضرت سیّدنا شاہ قاضی محمد منعم الدین رحمۃ اللّٰہ علیہ
۳۵- حضرت سیّدنا شاہ قاضی ہدایت اللّٰہ رحمۃ اللّٰہ علیہ
!!!
۳۶- حضرت سیّد شاہ قاضی ثنااللّٰہ مچھلی شہری رحمۃ اللّٰہ علیہ ( مورث اعلیٰ خانوادہ ے عالیہ حسینيه ادھمیہ بلخيه مچھلی شہر جونپور) ( انکی زوجیت میں سیّدہ رشیدہ بی بی بنت حضرت سیّد شاہ خالد ابن حضرت سیّد شاہ صدر الدین ادھمی منڈیاہو تھیں جن سے سیّد شاہ شمس الہدی تولد ہوئے۔)
!!!
۳۷- حضرت سیّد شاہ مولوی شمس الہدی رحمۃ اللّٰہ علیہ
(انکی زوجیت میں سیّدہ رحیمہ بی بی بنت حضرت قاضی سیّد روح اللّٰہ ادھمی منڈیاہو تھیں جن سے حضرت سیّد شاہ مولوی علی اعلیٰ تولد ہوئے ۔)
۳۸- حضرت سیّد شاہ مولوی علی اعلیٰ رحمۃ اللّٰہ علیہ
(انکی زوجیت میں سیّدہ آمنہ بی بی بنت سیّد شاہ مولوی ابوالفضل ادھمی منڈیاہو تھیں جن سے سیّد شاہ مولوی مکرّم علی تولد ہوئے۔)
۳۹- حضرت سیّد شاہ مولوی مکرّم علی رحمۃ اللّٰہ علیہ
(انکی زوجیت میں فاخرہ بی بی بنت حضرت شاہ وہاب اللّٰہ تھیں جن سے سیّد شاہ ابراھیم تولد ہوئے۔)
۴۰- حضرت سیّد شاہ مولوی محمّد ابراھیم ادھمی رحمۃ اللّٰہ علیہ (انکی زوجیت میں سکینہ بی بی بنت شاہ مخدوم بخش رحمانپوری تھیں جن سے سیّد شاہ مولوی محمّد یعقوب ادھمی تولد ہوئے۔)
۴۱- حضرت سیّد شاہ مولوی محمّد یعقوب ادھمی رحمۃ اللّٰہ علیہ (انکی زوجیت میں سیّدہ بی بی بنت میر سیّد امجد علی محمود پٹی پھولپوری تھیں جن سے حضرت سید شاہ مولوی محمّد سلیم ادھمي تولد ہوئے۔)
۴۲- حضرت سیّد شاہ مولوی محمّد سلیم ادھمی رحمۃ اللّٰہ علیہ ( انکی شادی خاندان حضرت مولوی ثنا الدین جعفری زینبی مچھلی شہر میں ہوئی جن سے حضرت سید شاہ مولوی محمّد سلیمان ادھمی تولد ہوئے۔)
۴۳- سیّد شاہ مولوی محمّد سلیمان ادھمی بلخی ( المعروف مولوی سلیمان فاروقی) (انکی زوجیت میں سیّدہ خیرالنساء بی بی بنت حضرت مولوی سیّد شاہ قیام الدّین ابن حضرت مولوی سیّد شاہ غیاث الدّین ادھمی منڈیاہو تھیں جن سے سید شاہ مولوی عبدالرحمن اور سیّد شاہ مولوی عثمان تولد ہوئے۔)
۴۴- سیّد شاہ مولوی عبدالرحمن ادهمی بلخی ( المعروف عبدالرحمن فاروقی) (انکی زوجیت میں ہمیدہ بی بی بنت شاہ احمد اللّٰہ جعفری زینبی_۱ دائرہ شاہ کفایت اللّٰہ پرتاپ گڑھ تھیں جن سے شاہ عبدالمنّان تولد ہوئے۔)
۴۵-سیّد شاہ عبدالمنّان ادھمی بلخی ( المعروف عبدالمنّان فاروقی) (انکی زوجیت میں سیّدہ مصباح النساء بی بی _۲ بنت سیّد محیب اللّٰہ کاظمی ابن سیّد حسیب اللّٰہ کاظمی بلکرنپور پھول پور تھیں جن سے سیّد شاہ محمّد عرفان حسینی باقری ادھمی بلخی المعروف عرفان فاروقی تولد ہوئے۔)
۴۶- سیّد شاہ محمّد عرفان ادھمی بلخی ( المعروف عرفان فاروقی ) ( راقم الحروف کے چھوٹے بہنوئی) (انکی زوجیت میں سیّدہ نور فاطمہ بی بی بنت سیّد شاہ شمس الدین حسنی قطبی خانقاہ شریف مانکپور پرتاپ گڑھ ہیں جن سے دو دختر سیّدہ زنیرہ عرفان، سیّدہ زینہ عرفان اور ایک فرزند سیّد شاہ محمّد میاں حسینی حسنی ادھمی بلخی عرف آبان میاں تولد ہوئے۔)
:- بحوالہ
:- کتاب الحسین نسبہ و نسلہ دائرۃ المعارف الحسینیہ خط عبداللہ دقدق ابن امام مُحمّد باقر علیہ السّلام
:- کتاب کنزلانساب
:- کتاب ریاض الانساب
:- کتاب شجرۃ طیّبہ
:- کتاب منتہٰی الامال
:- کتاب بحر الانساب
:- کتاب حساب الانساب
:- کتاب کثرت الانساب
:- کتاب انساب الاشراف
:- کتاب كفیت العارفین
:- کتاب مفتاح التواریخ
:- کتاب سیادت فریدی از پیر سیّد رشید احمد صاحب رئیس امروہہ ( یہ کتاب حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللّٰہ علیہ جو اسی خانوادہ عالیہ ادهمیہ بلخيه کے فرد فرید ہیں کی سیادت پر لکھی جانے والی ایک نایاب اور مدلل کتاب ہے۔)
:- کتاب تاریخ شیراز ہند جونپور
:- کتاب تزکرہ مشائخ شیراز ہند جونپور
:- کتاب تجلّی نور
:- قلمی شجرہ منڈیاہو و مچھلی شہر جونپور
:- شجرہ نسب خاندانِ حقانیا صوبہ بہار
——————————————–
_۱ شاہ احمد اللّٰہ جعفری زینبی اولاد شاہ محمّد حامد جعفری زینبی مچھلی شہر سے تھیں۔ اور یہ جعفری خانوادہ مکّہ مکرمہ سے غزنی افغانستان سے ھوتے ہوئے مچھلی شہر جونپور آیا۔ اسی خاندان کی ایک شاخ پرتاپ گڑھ خاص منتقل ہوئی جہاں آج بھی دائرۃ کفایت اللّٰہ جعفری پنجابی مارکیٹ میں یہ خاندان آباد ہے۔ اور ایک شاخ مہگاؤں چیل کوشامبی میں آباد تھی جس گھرانے سے مولوی لیاقت علی صاحب (فریڈم فائٹر) کا تعلق تھا۔
_۲ سیّدہ مصباح النساء بی بی کا ننھیالی خاندان حضرت مخدوم الملک سلطان سیّد احمد چرم پوش کاظمی ہمدانی رحمۃ اللّٰہ علیہ (مریدو خلیفہ خاص حضرت مخدوم علاء الحق پنڈوی رحمۃ اللّٰہ علیہ) کی اولاد میں ہے۔ اور انکا شجره نسب مادری اس طرح سے ہے۔
سیّدہ مصباح النساء بی بی بنت سیّدہ کنیز کبریٰ بی بی بنت سیّد حبیب اللّٰہ ابن سیّد محمّد بخش ابن سیّد قاسم علی ابن سیّد ہدایت اللّٰہ ابن سیّد علی سلطان ابن سیّد کرم اللّٰہ ابن سیّد حفیظ اللّٰہ ابن حضرت قاضی سیّد نعمت اللّٰہ ابن حضرت قاضی سیّد مبارک ابن حضرت سیّد تاج الدین احمد *_۱( مورث اعلیٰ نرئی ) ابن حضرت مخدوم سلطان سیّد احمد چرم پوش کاظمی ہمدانی بہاری*_۲ رحمۃ اللّٰہ علیہ ( برادر خالہ زاد مخدوم جہاں حضرت سیّد الشیخ شرف الدین یحییٰ منیري بہاری رحمۃ اللّٰہ علیہ) ابن حضرت سلطان سیّد موسیٰ کاظم ہمدانی ابن حضرت مخدوم سلطان سیّد مبارک ابن حضرت میر سیّد خضر ابراھیم ابن حضرت میر سیّد سلیمان ہمدانی ابن حضرت میر سیّد عبدالکریم عبدالرحیم ابن حضرت میر سیّد اسحٰق ابن حضرت میر سیّد احمد ابن حضرت میر سیّد محمود ابن حضرت میر سیّد اسمٰعیل ابن حضرت میر سیّد عبدالرحمن ابن حضرت میر سیّد قاسم ابن حضرت میر سیّد نور ابن حضرت میر سیّد یوسف ابن حضرت میر سیّد رکن الدین ابن حضرت میر سیّد علاء الدین ابن حضرت میر سیّد یحییٰ ابن حضرت میر سیّد زکریا ابن حضرت میر سیّد حسن ابن حضرت میر سیّد قریش ابن حضرت میر سیّد عمر ابن حضرت میر سیّد عبداللہ اشرف ابن حضرت میر سیّد قاسم ابن حضرت میر سیّد عبیداللّہ ابن حضرت سیدنا امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام ۔
*_۱ بحوالہ کتاب اشراف عرب از سیّد نجمُ الحسن فضلی صفحہ ۱۷۲٫۱۷۳ ( اس کتاب میں مخدوم سیّد احمد چرم پوش کے دو فرزندوں کا ذکر ہے بڑے فرزند سید سراج الدین احمد جنکی اولاد بہار اور اُسکے گردو نواح میں آباد تھی اور چھوٹے فرزند سید تاج الدین احمد تھیں۔ اور خانوادہ شیخ فاروقی نرئی لکھنؤ کے قلمی شجروں کے اعتبار سے ان لوگوں کے مورث اعلیٰ احمد چرم پوش ہے۔ جو میرے علم کے حساب سے سیّد تاج الدین احمد ابن حضرت مخدوم احمد چرم پوش بہاری رحمۃ اللّٰہ علیہ کی اولاد میں سے ہے۔ لیکن یہ لوگ بھی اپنے آپ کو شیخ فاروقی ہی سمجھتے آئے ہیں در حقیقت یہ لوگ صحیح النسب حسینی کاظمی سادات ہے۔
*_۲ کتاب مخدوم چرم پوش و مخدوم الملک از کوثر سہروردی
:- قلمی شجرہ نسب نرئی



