Mir Syed Shah Zaahir Ali Hussaini رَضِـیْ اَلـلّٰـهُ تـعَـالـٰى عَـنْـهُ

*آفتاب ولایت، سرخیل اولیاء، امام الاتقیاء،*

*عالی نسب*

*حضرت خواجه مخدوم مير سيد شاه ظاہر علی حسینی قادری چشتی ترمذی بغدادی* 

*المعروف به شاہ ظاہر قدس اللہ سرہ العزیز*

*بنارس، اترپردیش، ہندوستان.*

➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖

*حضرت خواجہ مخدوم میر سید شاہ ظاہر علی حسینی زیدی قادری چشتی ترمذی کیتھلی بغدادی المعروف بہ شاہ ظاہر علیہ الرحمة والرضوان آج سے تقریباً 350 یا 375 سالہ قدیم زمانے کے سلسلہء عالیہ قادریہ و سلسلہء چشتیہ کے بزرگ ہیں۔ آپ کا سلسلہء نسب 31 ویں پشت میں نواسہء رسول اکرم علیہ السلام، جگر گوشئہ حضور مولائے کائنات و سیدہء کائنات رضی اللہ عنھما، شہید اعظم، شہید دشت کربلا حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے لھذا آپ حسینی خاندان کے عظیم شہزادے ہیں۔ آپ کے جد اکبر، ہندوستان میں ایک عظیم داعیء اسلام اور سلسلہء چشتیہ کے بہت بڑے مبلغ گذرے ہیں جن کی پوری زندگی ترویج و اشاعت اسلام کیلئے معنون تھی اور آپ نے سربلندیء اسلام کی خاطر اپنی جان آفرین بھی راہ خدا میں قربان فرمادی تھی۔ اس عظیم المرتبت صاحب کمال، جمال و جلال ہستی کا نام نامی قطب الاقطاب، کمال الاولیاء، قطب کیتھل حضرت خواجہ مخدوم میر سید شاہ کمال الدین حسینی زیدی چشتی ترمذی ثم کیتھلی رضی اللہ عنہ ہے (المتوفی’ 4 رجب المرجب 619 ہجری)۔ آپ کا خانوادہ تقریباً 9 صدیوں کے طویل عرصے سے برصغیر و دیگر ممالک عالم میں موجود ہے جن میں بہت سے افراد خاندان خدمات تبلیغ دین و اسلام میں مصروف ہیں۔*

*حضرت خواجہ سید شاہ ظاہر علی حسینی قادری چشتی علیہ الرحمہ، حضور قطب کیتھل قدس سرہ کی 16 ویں پشت کے شہزادہء بلند مرتبت ہیں۔ آپ کے والد ماجد حضرت خواجہ مخدوم میر سید بھورے شاہ حسینی قدس سرہ نے اپنی حیات مبارک میں ہندوستان سے سرزمین عراق بالخصوص بغداد معلی’ میں حضور غوث الاعظم دستگیر رضی اللہ تعالی عنہ کی زیارت کی خاطر سفر فرمایا اور بوجہ حصول قرب و محبت حضور غوث اعظم رضی اللہ عنہ، آپ نے بقیہ تمام زندگی وہیں بغداد معلی’ میں بسر فرمائی۔ اسی لئے بغداد معلی’ ہی میں حضرت خواجہ سید شاہ ظاہر علی حسینی قدس سرہ کی ولادت ہوئی۔ آپ بغداد معلی’ میں اپنے والد ماجد اور دیگر جید علما و مشائخ کی زیر نگرانی علوم ظاہری و باطنی میں درجہء کمال کو پہنچے اور والد ماجد سے ہی اپنے آبائی سلاسل طریقت میں بیعت، اجازت و خلافت بھی حاصل فرمائی۔ ایک عرصے تک آپ بغداد شریف ہی میں مقیم رہے اور بہ حکم روحانی سرکار غوث الاعظم رضی اللہ عنہ و بغرض تبلیغ و اشاعت دین اسلام، عالم شباب میں اپنے برادر اصغر، ولی کامل حضرت خواجہ مخدوم میر سید شاہ مست علی حسینی زیدی قادری چشتی ترمذی کیتھلی بغدادی المعروف بہ شاہ مست علیہ الرحمہ کے ہمراہ بغداد شریف سے ہندوستان کے تاریخی و مشہور شہر بنارس کی طرف ہجرت فرمائی۔ بغداد معلی’ سے سرزمین بنارس تک آپ دونوں بزرگ ایک پالکی میں سوار ہوکر ہواؤں میں اڑھتے ہوئے تشریف لائے، ذالك فضل الله يوتيه من يشأ…..*

*شہر بنارس کے قدیم و مشہور محلہء مدنپورہ میں آپ نے مستقلاً سکونت اختیار فرمائی جہاں سے آپ فریضہء دعوت و تبلیغ احسن انداز میں انجام فرماتے رہے۔ محلہء مدن پورہ میں موجود مسجد برتلہ کا وجود آپ ہی کی دَین ہے۔ آپ اپنے وقت کے علوم ظاہری و باطنی کے تاجدار اور بلند مقام ولایت کے حامل تھے۔ سرزمین بنارس پر آپ، گم گشتگان راہ ہدایت کو صراط مستقیم کی عظیم دعوت عطا فرماتے رہے جس کی بنا پر سینکڑوں بندگان خدا دولت ایمان سے مشرف ہوئے۔ شہر بنارس میں آپ سے کئی کرامات بھی صادر ہوئیں۔ سرزمین بنارس پر کئی پنڈت اور اہل ہنود نے آپ کے دست حق پرست پر قبول اسلام کیا۔*

*آپ کے برادر اصغر حضرت خواجہ مخدوم میر سید شاہ مست علی حسینی علیہ الرحمہ بھی بہت بڑے ولی اللہ اور صاحب تصرف بزرگ گذرے ہیں۔ حضرت شاہ ظاہر علیہ الرحمہ نے اپنی حیات مبارک میں نکاح نہیں کیا جس کی وجہ سے بظاہر آپ کی اولاد کا تسلسل آگے نہ بڑھا جبکہ آپ کے برادر اصغر حضرت شاہ مست علیہ الرحمہ نے رسم مناکحت انجام دی اور آپ کے ایک شاہزادے حضرت خواجہ مخدوم میر سید شاہ بہاؤالدین حسینی زیدی قادری چشتی ترمذی کیتھلی بغدادی ثم بنارسی قدس سرہ تھے جنہیں رب تعالی’ نے بلند مقام ولایت پر فائز فرمایا تھا۔ حضرت شاہ ظاہر و حضرت شاہ مست علیھما الرحمہ دونوں کے تنہا جانشین و سجادہ نشین حضرت خواجہ مخدوم میر سید شاہ بہاؤالدین حسینی قدس سرہ تھے جن سے آج بھی حضرت خواجہ مخدوم میر سید شاہ مست علی حسینی قادری چشتی ترمذی بغدادی المعروف بہ شاہ مست علیہ الرحمہ کی نسبی اولاد بحمد اللہ تبارک و تعالی جاری و ساری ہے جن میں چند افراد خانوادہ خدمات تبلیغ و اشاعت اسلام و سنیت میں خوب مصروف و منہمک ہیں۔*

*حضرت خواجہ مخدوم میر سید شاہ ظاہر علی حسینی قادری چشتی ترمذی بغدادی المعروف بہ شاہ ظاہر قدس اللہ سرہ العزیز کے وصال کی حقیقی تاریخ تاحال دستیاب نہ ہوئی جبکہ بنارس کے عوام و خواص میں آپ کا عرس شریف ماہ ذی الحجہ کی 9 اور 10 تاریخ کو ہونا مشہور ہے۔ آپ کا روضہ شریفہ شہر بنارس کے محلہء مدن پورہ کی مسجد برتلہ کے صحن میں موجود ہے جہاں سے مخلوق خدا مستفیض و مستفید ہو رہی ہے۔*

*يزار و يتبرك به*

*اللہ تبارک و تعالی’ ہم تمام غلامان مصطفی’ علیہ السلام کو حضرت خواجہ مخدوم میر سید شاہ ظاہر علی حسینی قادری چشتی ترمذی بغدادی المعروف بہ شاہ ظاہر قدس اللہ سرہ العزیز کے فیوض و برکات سے مالامال فرمائے، آمین۔*

*طالب دعا:*

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s