Yaum e Eidul Miladun Nabi Pakﷺ

*Milad-un-Nabi ﷺ Ahaadithe Mubaaraka Kee Raushni Me*
*میلاد النبی ﷺ: اَحادیثِ مبارکہ کی روشنی میں*


39. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی الله عنهما قَالَ: فَکَانَ مِنْ دَلَالَاتِ حَمْلِ النَّبِيِّ صلی الله علیه وآله وسلم أَنَّ کُلَّ دَابَّةٍ کَانَتْ لِقُرَیْشٍ نَطَقَتْ تِلْکَ اللَّیْلَةَ، وَقَالَتْ: حُمِلَ بِرَسُوْلِ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم وَرَبِّ الْکَعْبَةِ، وَهُوَ أَمَانُ الدُّنْیَا وَسِرَاجُ أَهْلِهَا، وَلَمْ یَبْقَ کَاهِنَةٌ مِنْ قُرَیْشٍ وَلَا قَبِیْلَةٌ مِنْ قَبَائِلِ الْعَرَبِ إِلَّا حُجِبَتْ عَنْ صَاحِبَتِهَا، وَانْتُزِعَ عِلْمُ الْکَهَنَةِ، وَلَمْ یَکُنْ سَرِیْرُ مَلِکٍ مِنْ مُلُوْکِ الدُّنْیَا إِلَّا أَصْبَحَ مَنْکُوْسًا، وَالْمَلِکُ مُخْرَسًا لَا یَنْطِقُ یَوْمَهٗ ذَالِکَ، وَمَرَّتْ وُحُوْشُ الْمَشْرِقِ إِلٰی وُحُوْشِ الْمَغْرِبِ بِالْبِشَارَاتِ، وَکَذَالِکَ الْبِحَارُ یُبَشِّرُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا بِهٖ، فِي کُلِّ شَهْرٍ مِنْ شُهُوْرِهٖ، نِدَائٌ فِي الْأَرْضِ وَنِدَائٌ فِي السَّمَاءِ: أَنْ أَبْشِرُوْا فَقَدْ آنَ لِأَبِي الْقَاسِمِ أَنْ یَخْرُجَ إِلَی الْأَرْضِ مَیْمُوْنًا مُبَارَکًا.

قَالَتْ آمِنَةُ رضی الله عنها : فَسَمِعْتُ وَجَبَةً شَدِیْدَةً وَأَمْرًا عَظِیْمًا، فَهَالَنِي ذَالِکَ، وَذَالِکَ یَوْمُ الْاِثْنَیْنِ، فَرَأَیْتُ کَأَنَّ جَنَاحَ طَیْرٍ أَبْیَضَ قَدْ مَسَحَ عَلٰی فُؤَادِي فَذَهَبَ عَنِّي کُلُّ رُعْبٍ، وَکُلُّ فَزَعٍ وَوَجْعٍ کُنْتُ أَجِدُهٗ، ثُمَّ الْتَفَتُّ، فَإذَا أَنَا بِشُرْبَةٍ بَیْضَاءَ وَظَنَنْتُهَا لَبَنًا، وَکُنْتُ عَطْشٰی فَتَنَاوَلْتُهَا فَشَرِبْتُهَا، فَأَضَاءَ مِنِّي نُوْرٌ عَالٍ.

قَالَتْ: فَرَأَیْتُ قِطْعَةً مِنَ الطَّیْرِ قَدْ أَقْبَلَتْ مِنْ حَیْثُ لَا أَشْعُرُ حَتّٰی غَطَّتْ حُجْرَتِي، مَنَاقِیْرُهَا مِنَ الزُّمُرُّدِ، وَأَجْنِحَتُهَا مِنَ الْیَوَاقِیْتِ، فَکُشِفَ لِي عَنْ بَصَرِي، فَأَبْصَرْتُ سَاعَتِي مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغارِبَهَا، وَرَأَیْتُ ثَـلَاثَ أَعْـلَامٍ مَضْرُوْبَاتٍ، عَلَمٌ فِي الْمَشْرِقِ، وَعَلَمٌ فِي الْمَغْرِبِ، وَعَلَمٌ عَلٰی ظَهْرِ الْکَعْبَةِ.

قَالَتْ: فَوَلَدْتُ مُحَمَّدًا صلی الله علیه وآله وسلم، فَلَمَّا خَرَجَ مِنْ بَطْنِي دُرْتُ فَنَظَرْتُ إِلَیْهِ، فَإِذَا أَنَا بِهٖ سَاجِدٌ قَدْ رَفَعَ إِصْبَعَیْهِ کَالْمُتَضَرِّعِ الْمُبْتَهِلِ، ثُمَّ رَأَیْتُ سَحَابَةً بَیْضَاءَ قَدْ أَقْبَلَتْ مِنَ السَّمَائِ تَنْزِلُ حَتّٰی غَشِیَتْهُ، فَغِیْبَ عَنْ وَجْهِي۔ فَسَمِعْتُ مُنَادِیًا یَقُوْلُ: طُوْفُوْا بِمُحَمَّدٍ صلی الله علیه وآله وسلم شَرْقَ الْأَرْضِ وَغَرْبِهَا وَأَدْخِلُوْهُ الْبِحَارَ کُلَّهَا لِیَعْرِفُوْهُ بِاسْمِهٖ وَنَعْتِهٖ وَصُوْرَتِهٖ وَیَعْلَمُوْا أَنَّهٗ سُمِّيَ فِیْهَا الْمَاحِي، لَا یَبْقٰی شَيئٌ مِنَ الشِّرْکِ إِلَّا مُحِيَ بِهٖ فِي زَمَنِهٖ، ثُمَّ تَجَلَّتْ عَنْهُ فِي أَسْرَعِ وَقْتٍ، فَإِذَا بِهٖ مُدْرَجٌ فِي ثَوْبِ صُوْفٍ أَبَیْضَ أَشَدَّ بَیَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَتَحْتَهٗ حَرِیْرَةٌ خَضْرَائُ، قَدْ قُبِضَ عَلٰی ثَـلَاثِ مَفَاتِیْحَ مِنَ اللُّؤْلُؤِ الرَّطْبِ الْأَبْیَضِ، وَإِذَا قَائِلٌ یَقُوْلُ: قَبَضَ مُحَمَّدٌ عَلٰی مَفَاتِیْحِ النَّصْرِ، وَمَفَاتِیْحِ الرِّیْحِ، وَمَفَاتِیْحِ النُّـبُوَّةِ۔ رَوَاهُ أَبُوْ نُعَیْمٍ.

وَقَالَ الإِمَامُ الْقُسْطَـلَّانِيُّ فِي الْمَوَاهِبِ: إِذَا قُلْنَا بِأَنَّهٗ عَلَیْهِ الصَّـلَاةُ وَالسَّلَامُ وُلِدَ لَیْـلًا، فَأَیُّمَا أَفْضَلُ: لَیْلَةُ الْقَدْرِ أَوْ لَیْلَةُ مَوْلِدِهٖ صلی الله علیه وآله وسلم؟ أُجِیْبُ: بِأَنَّ لَیْلَةَ مَوْلِدِهٖ عَلَیْهِ الصَّـلَاةُ وَالسَّـلَامُ أَفْضَلُ مِنْ لَیْلَةِ الْقَدْرِ مِنْ وُجُوْہٍ ثَـلَاثَةٍ:

أَحَدُهَا: أَنَّ لَیْلَةَ الْمَوْلِدِ لَیْلَةُ ظُهُوْرِهٖ صلی الله علیه وآله وسلم، وَلَیْلَةُ الْقَدْرِ مُعْطَاةٌ لَهٗ، وَمَا شَرُفَ بِظُهُوْرِ ذَاتِ الْمُشَرِّفِ مِنْ أَجْلِهٖ أَشْرَفُ مِمَّا شَرُفَ بِسَبَبِ مَا أُعْطِیَهٗ، وَلَا نِزَاعَ فِي ذَالِکَ، فَکَانَتْ لَیْلَةُ الْمَوْلِدِ – بِهٰذَا الْاِعْتِبَارِ – أَفْضَلُ.

اَلثَّانِي: أَنَّ لَیْلَةَ الْقَدْرِ شَرُفَتْ بِنُزُوْلِ الْمَـلَائِکَةِ فِیْهَا، وَلَیْلَةُ الْمَوْلِدِ شَرُفَتْ بِظُهُوْرِهٖ صلی الله علیه وآله وسلم فِیْهَا۔ وَمِمَّنْ شَرُفَتْ بِهٖ لَیْلَةُ الْمَوْلِدِ أَفْضَلُ مِمَّنْ شَرُفَتْ بِهٖ لَیْلَةُ الْقَدْرِ، عَلَی الأَصَحِّ الْمُرْتَضٰی (أَي عِنْدَ جُمْهُوْرِ أَهْلِ السنة) فَتَکُوْنُ لَیْلَةُ الْمَوْلِدِ أَفْضَلُ.

اَلثَّالِثُ: لَیْلَةُ الْقَدْرِ وَقَعَ التَّفَضُّلُ فِیْهَا عَلٰی أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صلی الله علیه وآله وسلم، وَلَیْلَةُ الْمَوْلِدِ الشَّرِیْفِ وَقَعَ التَّفَضُّلُ فِیْهَا عَلٰی سَائِرِ الْمَوْجُوْدَاتِ، فَهُوَ الَّذِي بَعَثَهُ ﷲُ تَعَالٰی رَحْمَةً لِلْعَالَمِیْنَ، فَعَمَّتْ بِهِ النِّعْمَةُ عَلٰی جَمِیْعِ الْخَـلَائِقِ، فَکَانَتْ لَیْلَةُ الْمَوْلِدِ أَعَمَّ نَفْعًا، فَکَانَتْ أَفْضَلَ مِنْ لَیْلَةِ الْقَدْرِ بِهٰذَا الْاِعْتِبَارِ.

وَنَقَلَ الإِمَامُ الطَّحَاوِيُّ عَنْ بَعْضِ الشَّوَافِعِ: إِنَّ أَفْضَلَ اللَّیَالِي لَیْلَةُ مَوْلِدِهٖ صلی الله علیه وآله وسلم، ثُمَّ لَیْلَةُ الْقَدْرِ، ثُمَّ لَیْلَةُ الإِسْرَائِ وَالْمِعْرَاجِ، ثُمَّ لَیْلَةُ عَرَفَةَ، ثُمَّ لَیْلَةُ الْجُمُعَةِ، ثُمَّ لَیْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، ثُمَّ لَیْلَةُ الْعِیْدِ.

وَقَالَ الإِمَامُ النَّبْهَانِيُّ فِي الأَنْوَارِ الْمُحَمَّدِیَّةِ (ص/28): وَلَیْلَةُ مَوْلِدِهٖ صلی الله علیه وآله وسلم أَفْضَلُ مِنْ لَیْلَةِ الْقَدْرِ.


’’حضرت عبد ﷲ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رحمِ مادر میں تشریف لائے تو اس کی علامات یہ تھیں کہ اس رات قریش کا ہر جانور بول اٹھا اور یوں گویا ہوا: رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رحم مادر میں جلوہ گر ہو گئے ہیں اور ربِّ کعبہ کی قسم! وہ دنیا کے لیے امان اور اہلِ دنیا کے لیے چراغِ ہدایت ہیں، اس رات قریش کا ہر نجومی اور عاملِ جنات اور عرب کا ہر قبیلہ اپنے جنوں کی ملاقات سے روک دیا گیا ان کے سینوں سے علمِ کہانت چھین لیا گیا، دنیا کے ہر بادشاہ کا تخت اوندھا ہو گیا۔ تمام بادشاہوں کے لبوں پر مہرِ سکوت لگ گئی اور وہ پورا دن کلام نہ کر سکے۔ مشرق و مغرب کے جانور ایک دوسرے کے پاس جا کر اور سمندر کی مچھلیاں باہم مبارکبادیاں دے رہی تھیں۔ پھر ہر مہینے آسمان اور زمین میں ندا کی جاتی رہی: مبارک ہو! جب ابو القاسم ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) برکت و رحمت کے جلو میں ارض کی طرف مبعوث ہوں گے۔

حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے (کوئی شے گرنے کی) ایک زوردار آواز سنی جس سے میں ڈر گئی۔ یہ پیر کا دن تھا پھر میں نے دیکھا کہ جیسے کچھ پرندے ہیں جو میرے دل پر اپنے پَر مل رہے ہیں جس سے مجھ پر (چھایا) سارا رعب و خوف جاتا رہا اور درد جو پہلے محسوس ہو رہا تھا جاتا رہا۔ پھر میں نے دیکھا کہ میرے پاس ایک سفید سا شربت پڑا تھا، میں اسے دودھ سمجھی۔ میں چونکہ پیاس محسوس کر رہی تھی میں نے اسے اٹھا کر پی لیا تو مجھ سے ایک بلند تر نور جلوہ گر ہوا۔

آپ فرماتی ہیں: پھر میں نے دیکھا کہ پرندوں کا ایک غول آیا، میں نہیں جانتی وہ کدھر سے آیا۔ بہرحال انہوں نے میرے حجرے کو بھر دیا، ان کی چونچیں زمرد کی اور پَر یاقوت کے تھے۔ پھر میری نگاہ سے حجابات اٹھا دیے گئے اور میں نے دیکھا کہ تین جھنڈے دنیا پر لگے ہوئے ہیں: ایک مشرق میں، ایک مغرب میں اور ایک کعبہ کی چھت پر۔

آپ فرماتی ہیں: جب محمد مصطفی ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) میرے بطن سے جلوہ گر ہوئے تو میں نے پہلو بدل کر انہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدے میں پڑے ہیں اور نہایت عاجزی اور انکساری سے دعا کرنے والے کی طرح آسمان کی طرف انگلی اٹھائے ہوئے ہیں۔ پھر میرے دیکھتے ہی دیکھتے آسمان سے ایک سفید بادل اترا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ڈھانپ لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری نگاہ سے اوجھل ہو گئے تو میں نے سنا کوئی پکارنے والا کہہ رہا تھا: محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو زمین کے مشرق و مغرب میں ٹھہراؤ، انہیں تمام سمندروں میں لے جاؤ تاکہ تمام اہلِ جہاں ان کے نام، صفات اور حلیہ مبارک سے واقف ہو جائیں اور جان لیں کہ یہی وہ ہستی ہیں جن کا نام دنیا میں ماحی رکھا گیا ہے کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں تمام دنیا سے شرک مٹا دیا جائے گا۔ پھر کچھ ہی دیر بعد وہ بادل چھٹ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُون کے ایک سفید کپڑے میں، جو دودھ سے بھی سفید تر تھا، لپٹے ہوئے پڑے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نیچے سبز ریشم تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ میں تروتازہ اور سفید موتی سے بنی ہوئی تین چابیاں پکڑ رکھی تھیں اور کوئی کہنے والا کہہ رہا تھا کہ محمد مصطفی ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے فتح و نصرت، ہوا اور نبوت کی چابیوں پر قبضہ کر لیا۔‘‘ اسے امام ابونعیم نے روایت کیا ہے۔

’’امام قسطلانی ’المواہب اللدنیہ‘ میں فرماتے ہیں: جب ہم یہ کہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے وقت پیدا ہوئے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ شبِ میلادِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اَفضل ہے یا شبِ قدر؟ میں اس کے جواب میں کہتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی میلاد کی رات تین وجوہ کی بناء پر شبِ قدر سے اَفضل ہے:

1. آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ظہور شبِ میلاد میں ہوا جب کہ شبِ قدر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا کی گئی، لہٰذا وہ رات جس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظہور کا شرف ملا اُس رات سے زیاد شرف والی ہوگی جسے اِس رات میں تشریف لانے والی ہستی کے سبب سے شرف ملا، اور اِس میں کوئی نزاع نہیں۔ لہٰذا اِس اِعتبار سے شبِ میلاد شبِ قدر سے افضل ہوئی۔

2. اگر لیلۃ القدر کی عظمت اِس بناء پر ہے کہ اِس میں فرشتوں کا نزول ہوتا ہے تو شبِ ولادت کو یہ شرف حاصل ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کائنات میں جلوہ فرما ہوئے۔ جمہور اہلِ سنت کے قول کے مطابق شبِ میلاد کو جس ہستی (یعنی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے شرف بخشا وہ شبِ قدر کو شرف بخشنے والی ہستیوں (یعنی فرشتوں) سے کہیں بلند و برتر اور عظمت والی ہے۔ لہٰذا شبِ ولادت ہی افضل ہے۔

3. شبِ قدر کے باعث اُمتِ محمدیہ کو فضیلت بخشی گئی اور شبِ میلاد کے ذریعے جمیع موجودات کو فضیلت سے نوازا گیا۔ پس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا، اور اِس طرح نعمتِ رحمت جمیع کائنات کے لیے عام کر دی گئی۔ لہٰذا شبِ ولادت نفع رسانی میں کہیں زیادہ ہے، اور اِس اعتبار سے بھی یہ لیلۃ القدر سے افضل ٹھہری۔‘‘

’’امام طحاوی بعض شوافع سے نقل کرتے ہیں: راتوں میں سے افضل ترین شبِ میلادِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے، پھر شبِ قدر، پھر شبِ اِسراء و معراج، پھر شبِ عرفہ، پھر شبِ جمعہ، پھر شعبان کی پندرہویں شب اور پھر شبِ عید ہے۔‘‘

’’امام نبہانی اپنی مشہور تصنیف ’الأنوار المحمدیة من المواهب اللدنیة (ص: 28)‘ میں لکھتے ہیں: اور شبِ میلادِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شبِ قدر سے افضل ہے۔‘‘


39. “Hazrat Abd Allah Bin Abbas رَضِىَ اللهُ تَعَالىٰ عَنْهُمَا Bayaan Karte Hain Ki Jab Huzoor Nabiyye Akram صَلَّى اللهُ تَعَالىٰ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم Rahme Maadar Me Tashreef Laa’e To Us Kee Alaamat Yeh Thi’n Ki Us Raat Quraysh Ka Har Jaanwar Bol Uttha Aur Yoo’n Goya Huwa : Rasool Allah صَلَّى اللهُ تَعَالىٰ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم Rahme Maadar Me Jalwa Gar Ho Ga’e Hain Aur Rabbe Ka’ba Kee Qasam! Woh Dunya Ke Liye Amaan Aur Ahle Dunya Ke Liye Charaaghe Hidaayat Hain, Us Raat Ko Quraysh Ka Har Nujoomi Aur Aamil Jinnaat Aur Arab Ka Har Qabila Apne Jinno’n Kee Mulaaqaat Se Rok Diya Gaya Un Ke Seeno’n Se Ilme Kahaanat Chheen Liya Gaya, Dunya Ke Har Baadshaah Ka Takht Aundha Ho Gaya. Tamaam Baadshaaho’n Ke Labo’n Par Mohre Sukoot Lag Ga’i Aur Woh Poora Din Kalaam Na Kar Sake. Mashriq-o Maghrib Ke Jaanwar Ek Dusre Ke Paas Ja Kar Aur Samundar Kee Machhliya’n Baa Hum Mubaarakbaadiya’n De Rahi Thi’n. Phir Har Mahine Aasmaan Aur Zameen Me Nida Kee Jaati Rahi : Mubaarak Ho! Jab Aboo Al-Qasim(صَلَّى اللهُ تَعَالىٰ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم) Barkat-o Rahmat Ke Jalau Me Ard Kee Taraf Mab’ooth Honge. ……..

Hazrat Aaminah رَضِىَ اللهُ تَعَالىٰ عَنْهَا Farmati Hain : Mein Ne (Koi Shai Girne Kee) Ek Zordaar Aawaaz Suni Jis Se Mein Dar Ga’i. Yeh Peer Ka Din Tha Mein Ne Dekha Ki Jaise Kuchh Parinde Hain Jo Mere Dil Par Apne Par Mal Rahe Hain Jis Se Mujh Par (Chaaya) Saara Ro’b-o Khuf Jaata Raha Aur Dard Jo Pehle Mahisoos Ho Raha Tha Jaata Raha. Phir Mein Ne Dekha Ki Mere Paas Ek Safed Sa Sharbat Pada Tha, Mein Use Dhoodh Samjhi. Mein Choo’n Ki Pyaas Mahisoos Kar Rahi Thi Mein Ne Use Utha Kar Pee Liya To Mujh Se Ek Buland Tar Noor Jalwa Gar Huwa. …..

Aap Farmaati Hain : Phir Mein Ne Dekha Ki Parindo’n Ka Ek Ghol Aaya, Mein Nahin Jaanti Woh Kidhar Se Aaya. Bahar Haal Unhone Mere Hujre Ko Bhar Diya, Un Kee Chonchein Zumurrud Kee Aur Par Yaqoot Ke They. Phir Meri Nigaah Se Hijaabaat Utha Diye Ga’e Aur Mein Ne Dekha Ki Teen Jhande Dunya Par Lage Hu’e Hain : Ek Mashriq, Ek Maghrib Me Aur Ek Ka’ba Kee Chhat Par. …..

Aap Farmati Hain : Jab Muhammad Mustafa (صَلَّى اللهُ تَعَالىٰ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم) Mere Batan Se Jalwa Gar Hu’e To Mein Ne Pehlu Badal Kar Unhe’n Dekha Ki Aap صَلَّى اللهُ تَعَالىٰ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم Sajde Me Pade Hain Aur Nihaayat Aajizi Aur Inkesaari Se Du’aa Kar Ne Waale Kee Tarah Aasmaan Kee Taraf Ungli Uthaa’e Hu’e Hain. Phir Mere Dekhte Hee Dekhte Aasmaan Se Ek Safed Baadal Utra Aur Us Ne Aap صَلَّى اللهُ تَعَالىٰ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم Ko Dhaanp Liya. Aap صَلَّى اللهُ تَعَالىٰ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم Meri Nigaah Se Ojhal Ho Ga’e To Mein Ne Suna Koi Pukaar Ne Waala Keh Raha Tha : Muhammad (صَلَّى اللهُ تَعَالىٰ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم) Ko Zameen Ke Mashriq-o Maghrib Me Thehraao, Unhe’n Tamaam Samandaro’n Me Le Jaao Taa Ki Tamaam Ahle Jaha’n Un Ke Naam, Sifaat Aur Hulya Mubaarak Se Waaqif Ho Jaaein Aur Jaan Le’n Ki Yehi Woh Hasti Hain Jin Ka Naam Dunya Me “Maahi” Rakkha Gaya Hai Kyoo’n Ki Aap صَلَّى اللهُ تَعَالىٰ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم Ke Daur Me Tamaam Dunya Se Shirk Mita Diya Jaaega. Phir Kuchh Hee Der Baa’d Woh Baadal Chhat Gaya To Aap صَلَّى اللهُ تَعَالىٰ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم Oon Ke Ek Safed Kapde Me, Jo Doodh Se Bhi Safed Tar Tha, Lete Hu’e Pade They. Aap صَلَّى اللهُ تَعَالىٰ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم Ke Neeche Sabz Resham Tha Aur Aap صَلَّى اللهُ تَعَالىٰ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم Ne Haath Me Tar-o Taaza Aur Safed Moti Se Bani Hu’i Teen Chaabiya’n Pakad Rakkhi Thi’n Aur Koi Kehne Waala Keh Raha Tha Ki Muhammad Mustafa (صَلَّى اللهُ تَعَالىٰ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم) Ne Fat’h-o Nusrat, Huwa Aur Nubuwwat Kee Chaabiyo’n Par Qabza Kar Liya.”

Ise Imam Aboo Nu’aym Ne Riwaayat Kiya Hai.

“Imam Qustallani ‘Al-Mawahib Al-Ladunniyyah’ Me Farmaate Hain : Jab Hum Kahe’n Ki Huzoor Nabiyye Akram صَلَّى اللهُ تَعَالىٰ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم Raat Ke Waqt Paida Hu’e To Sawaal Paida Hota Hai Ki Shabe Milaade Rasool صَلَّى اللهُ تَعَالىٰ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم Afzal Hai Ya Shabe Qadr? Mein Is Ke Jawaab Me Kehta Hoo’n Ki Aap صَلَّى اللهُ تَعَالىٰ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم Kee Milaad Kee Raat Teen Wujooh Kee Bina’ Par Shabe Qadr Se Afzal Hai :

1. Aap صَلَّى اللهُ تَعَالىٰ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم Ka Zahoor Shabe Milaad Me Huwa Jab Ki Shabe Qadr Aap صَلَّى اللهُ تَعَالىٰ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم Ko Ata Kee Ga’i, Lehaaza Woh Raat Jis Ko Aap صَلَّى اللهُ تَعَالىٰ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم Ke Zahoor Ka Sharaf Mila Us Raat Se Ziyaad Sharaf Waali Hogi Jise Is Raat Me Tashrif Laane Waali Hasti Ke Sabab Se Sharaf Mila, Aur Is Me Koi Niza’ Nahin. Lehaaza Is E’tebaar Se Shabe Milaad Shabe Qadr Se Afzal Hu’i.

2. Agar Laylat-ul-Qadr Kee Azamat Is Bina’ Par Hai Ki Is Me Firishto’n Ka Nuzool Hota Hai To Shabe Wilaadat Ko Yeh Sharaf Haasil Hai Ki Is Me Allah Ta’ala Ke Mahboob صَلَّى اللهُ تَعَالىٰ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم Kaa’enaat Me Jalwa Farma Hu’e. Jamhoor Ahle Sunnat Ke Qaul Ke Mutaabiq Shabe Milaad Ko Jis Hasti (Ya’ni Huzoor صَلَّى اللهُ تَعَالىٰ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم) Ne Sharaf Bakhsha Woh Shabe Qadr Ko Sharaf Bakhshne Waali Hastiyo’n (Ya’ni Firishto’n) Se Kahin Buland-o Bartar Aur Azamat Waali Hai. Lihaaza Shabe Wilaadat Hee Afzal Hai.

3. Shabe Qadr Ke Baa’ith Ummate Muhammadiyyah Ko Fazeelat Bakhshi Ga’i Aur Shabe Milaad Ke Zari’e Jami’ Maujoodaat Fazeelat Se Nawaaza Gaya. Pas Huzoor صَلَّى اللهُ تَعَالىٰ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم Hee Hain Jinhein Allah Ta’ala Ne Rahmat-ul-Lil-Aalamin Bana Kar Bheja Aur Is Tarah Ne’mate Rahmat Jami’ Kaa’enaat Ke Liye Aam Kar Dee Ga’i. Lehaaza Shabe Wilaadat Naf’a Rasaani Me Kahi’n Ziyaada Hai, Aur Is E’tebaar Se Bhi Yeh Laylat-ul-Qadr Se Afzal Thehri.”(01)

“Imam Tahawi Baa’z Shawafi’ Se Naql Karte Hain : Raato’n Me Se Afzal Tareen Shabe Milaade Rasool صَلَّى اللهُ تَعَالىٰ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم Hai, Phir Shabe Qadr, Phir Shabe Isra’ Wa Me’raaj, Phir Shabe Arafah, Phir Shabe Jumu’ah, Phir Sha’baan Kee Padrahwi’n Shab Aur Phir Shabe Eid Hai.”(02)

“Imam Nab’hani Apni Mash’hoor Tasneef ‘Al-Anwar-il-Muhammadiyyah Min Al-Mawahib Al-Ladunniyyah’ Me Likhte Hain : Aur Shabe Milade Rasool صَلَّى اللهُ تَعَالىٰ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم Shabe Qadr Se Afzal Hai.”(03)

[Aboo Nu’aym Fi Dala’il-un-Nubuwwah, 02/610_612, Raqm-555,

Suyooti Fi Al-Khasa’is Al-Kubra, 01/81_83,

Halabi Fi Insan-ul-‘Uyoon Fi Sirat-il-Amin-il-Ma’moon Aw As-Sirat-ul-Halabiyyah, 01/109,

Ibn Kathir Fi Al-Bidayah Wa An-Nihayah, 06/298,

(01) Dhakarahu Al-Qastallani Fi Al-Mawahib Al-Ladunniyyah Bi-Al-Minah Al-Muhammadiyyah, 01/145,

Abd-ul-Haqq Dihlawi Fi Ma Thabata Bi-As-Sunnah Fi Ayyam As-Sunnah,/59_60,

Zarqani Fi Sharh Al-Mawahib Al-Ladunbiyyah Bi-Al-Minah Al-Muhammadiyyah, 01/255_256,

Nab’hani Fi Jawahir Al-Bihar Fi Fada’il An-Nabi Al-Mukhtar, 03/424,

(02) Dhakarahu Ibn Abidin Fi Radd Al-Muhtar ‘Ala Al-Durr Al-Mukhtar ‘Ala Tanwir Al-Absar, 02/511,

Sharawani Fi Hashiyah ‘Ala Tuhfat Al-Muhtaj Bi-Sharh Al-Minhaj, 02/405,

Nab’hani Fi Jawahir Al-Bihar Fi Fada’il An-Nabi Al-Mukhtar, 03/426.

(03) Nab’hani Fi Al-Anwar Al-Muhammadiyyah Min Al-Mawahib Al-Ladunniyyah,/28,

Farhat-ul-Quloob Fi Mawlid-in-Nabiyy-il-Mahboob SallAllahu Ta’ala ‘Alayhi Wa-Aalihi Wa-Sallam,/78_87, Raqm-39.]


_Eid e Milad un Nabi ﷺ Manane ka Reference Qura’an ki Roshani Me_

*_﷽_*
*_(1) “Tum Farmao Allah Hi Ke Fazal Aur Usi Ki Rehmat Aur Usi Par Chahiye Ke Khushiya Kare_*
_(Surah Yunus Ayat 58)_
*_Is Ayat Me Allah ﷻ Ne Apne Fazal Aur Apni Rahamat Par Khushiya MananeKa Hukum Diya Hai_*

_(2). “Aur Humne Tumhe Na Bheja Magar Rahmat Sare Jahan K Liye”_
*_(Surah Ambiya Ayat 107)_*
_Is Ayat Me Allah ﷻ Apne Pyare Nabi ﷺ. Se Farma Raha Hai K Humne Tumhe Sirf 1 Ya 2 Aalam Ke Liye Nahi Balki Sare Aalam Ke Liye Rahamat Bana Kar Bheja Yaha Gour Kare Allah ﷻ Ne Huzoor ﷺ. Ko Rahamat Kaha hai Aur Jo Paheli Ayat Pesh Ki Gai Hai Usme Allah ﷻ Ne Apni Rahamat Par Khushi karne Ka Hukum Diya Hai_
*_Jo In Ayato Ka Munkir Honga Jo Huzoor ﷺ.Ko Apne Liye Allah ﷻ Ki Rahamat Aur Nemat Nahi Samajhta aur Aaqa ﷺ. Ki Wiladat Ki Khushi Se Aitaraz KaregaYani Wo Ghum Manayega pyare Aaqa ﷺ.Ki Wiladat par_*

_(3). “Apne Rab Ki Nemato Ka Khoob Khoob Charcha Karo”_
*_(Surah Duha Ayat 11)_*
_Is Ayat Me Allah ﷻ Ne Hume Apni Nemato Ka Charcha karne Ka Hukum Diya.Har Momin Ye Janta Hai_ *_Ki Allah ﷻ Ki Subse Badi Aur Azeem Nemat Hamare Liye Uske Rasool humare pyare Aaqa ﷺ.Hai Is Baat Ko_* *_Samjhane Ke Liye Quran Ki Ek Ayat Mulahiza farmaiye_*
_Allah ﷻ Farmata Hai:_

*_“Humne Momino per Ahesan kiya, ki jab unme Apne Rasool ﷺ ko bhej Diya”_*
_(Sureh Al-Imran, Ayat 164)_
*_Tamam Ahle Bait ع Ke Chahne Wale Aap Sara Qura’an Pad Lijiye Kisi Bhi Jagah Allah ﷻ Ne Ye Nahi Kaha Ke Humne Tumhe Ye Nemat Dekar Tumpar Ahesan Kiya haiSiwae Apne Maheboob Nabi ﷺ.Ke, Isse_* _Malum Hua Ke Allah ﷻ Ki Subse Badi Nemat Hamare Liye Uske Rasool_ _Humare Aaqa ﷺ. Hai._

*_Eid Milad un Nabi ﷺ Manane Ka Reference AaHadis ki Roshani Me_*

_12 Rabi Ul Awwal Ko Sarkar e Do Aalam Noor e Mujjasam Ahmed e Mujtaba Mohammed Mustafa ﷺ Is Din Sare Alam Ke Liye Rahamat Bankar Duniya Me Tashreef Laye Aur Isi Din Sari Duniya Me Musalman Apne Nabi ﷺ Ki Wiladat Ka Jashan Karte Hai_

_Refrance:-_

*_1.📚 Ibn-e-Ishaq (85-151 Hij): [Ibn Jawzi in al-Wafa, Page 📖 87]_*

*_2.📚 Allama Ibn Hisham (213 Hij): [Ibn Hisham in As-Sirat-un-Nabawiya, Vol. 1, Page 📖158]_*

*_3.📚 Imam Ibn Jarir Tabari (224-310 Hij): [Tarikh al-Umam wa al-Muluk, Vol. 2, Page 📖125]_*

*_4.📚 Allama Abu al-Hasan Ali bin Muhammad Al-Mawardi (370-480 Hij):[Ailam-un-Nabuwwa, Page 📖192]_*

*_5.📚 Imam Al-Hafiz Abu-ul-Fatah Al-Undalasi (671-734 Hij): [Aayun al-Asr, Vol. 1,Page 📖 33]_*

*_6.📚 Allama Ibn Khaldun (732-808 Hij): [Ibn Khaldun in At-Tarikh Vol. 2, Page 📖 394]_*

*_7.📚 Muhammad As-Sadiq Ibrahim Arjoon: [Muhammad Rasoolullah, Vol. 1, Page 📖 102]_*

*_8.📚 Shaykh Abdul-Haq Muhadath Dehlvi (950-1052 H): [Madarij-un-Nabuwwah, Vol. 2,Page 📖14]_*

*_9.📚 Imam Qustallani (Alaihir RaHma) [Al Muwahib al Laduniya, Vol. 1, Page 📖 88]_*




_Jasne Eid e Milad un Nabi ﷺ_
_Kis Kis Ne Manaya………… ?_

*_Huzoor ﷺ. Ke Zamane Me Masjid-E-Nabwi Me Milaad Huyi Isme Khud Huzoor Rehmat e Aalam ﷺ Ne Apni Wiladat Ke Fazail Bayan kiye._*

_Reference :-_
*_📚(Tirmizi Sharif, Jild 2 Safa 📖 201)_*

_Hazrat Abu Qatada رض Se_
_Riwayat Hai Ki_ *_Rasool-E-Karim ﷺ Se Peer Ka Roza Rakhne Ke Bare Me Sawal Kiya Gaya To Huzoor Rahmat e Aalam ﷺ Ne Farmaya Ke Isi Din Meri Wiladat Hui AurIsi Din Mujh par Qura’an Nazil Hua”_*

_Reference :-_
*_📚(Sahih muslim Jild 2.Hadith No. 819 .page 📖 1162)_*
*_📚(Nasai al sunane kubra Jild 2 Hadith 146 page 📖 2777)_*


_Milad Un Nabi ﷺ Ko Eid_
_Kahena Kaisa?_

*_Aaiye Pahele Hum Eid Ka Matlab Samaj Lete Hai Eid Ka Lugvi Mana Hai Khushi Agar Koi Arabi Khushi Ka Lafz Arabi Me Kahega To Wo Yahi Kahega Eid Ise Samjha ne Ke Liye Qura’an Ki Ek Ayat Mulahiza farma Leejiye._*
_Kaha Esa Aban E Mariyam Ne: Aye ALLAH! Aye Hamare Rab!Hum Par Aasman Se Ek Khuwan Utar Ke Wo(Khuwan Utarne Ka Din) Hamare Liye Eid Ho,Hamare Aglon Aur PichloKi._

*_(Surah Maida Ayat 114)_*
_Is Ayat Se Maloom Hua Ke Jis Din Allah ﷻ Ki Khass Rahemat Nazil Ho Us Din Ko Eid Manana Aur Khushi Manana Allah ﷻ Ka Shukar Ada Karna Ambiya ع Ka Tarika Hai TabhiTo Hazrat Esa ع Ne Dua Mangi_
_Aap Khud Faisla Kare Ke Jis Din Hazrat Esa ع Par Khuwan E Nemat UtryTo WoUn Ke Agle Aur Pichlon Ke Liye Eid Ho To Jis Din Sare Alam Ke Liye Jahan Ke Liye Jo Zaat Rahemat Hai Un Ki Wiladat Ho To Us Din Musalmano Ke Liye Eid Yani Khushi Kaise Na Ho?_
*_Hazrat Allama Mulla Ali Qari Miskat Ki Shrah Me Imam Raghim Ke Hawale Se Lafz Eid Ki Wazahat Farmate Hue Likhte Hai_*
_Imam Raghib Ne Farmaya Ke Eid Ka Lugvi Aitebar Se Us Din Ko Kahete Hai Jo Bar Bar Laot Kar Aaye Aur Shariat Ki Istelat Me Eid Ul Fitar Aur Eid Ul Azha Ko Kahete Hai Aur Jab Ke Ye Shariat Me Khushi Manane Ke Liye Mukarrar Kiya Gaya Hai Jis Tarha Nabi ﷺ Ne Apne Is farman me Tambih Ki hai Ke(Aitam E Mina Khane Pine Aur Azdwajiyat Ke Din Ha) Lihaza Eid Ka Lafz HarKhushi Ke Din Ke Liye Istemal Hone Laga_

*_(MiratUl Mafateh, Kitabul Salat Bab Ul Juma)_*
*_Dekha Aap Hazrat Ne Ke Itne Bade Imam Mulla Ali Qari Aur Imam Raghib Bi Yahi Farma Rahe Hai Ke Eid Ka Lafaz Har Khushi Ke Din Ke Liye Istemal Hota Raha Hai._* _Huzoor Rahmat e Aalam ﷺ Ne Farmaya Ki Juma’a ka Din Sab Dino ka Sardar Hai,_
*_Allah ﷻ ke Nazdik Sabse Bada Hai Aur Wo Allah ﷻ ke Nazdik Eid ul Azha Aur Eidul Fitr Se Bada Hai._*
_Allah ﷻ Ne Isi Me Hazrate ADAM Alaihissalam ko Paida kiya, Isi Din Zameen Par Unhe Utara Aur Isi Din Unhe Wafat Di._
*_📚[Sunan Ibne Majah, Jild 2, Page 📖 No. 8, Hadith No. 1084]_*
_Is Hadees Me Teen khaslate Hazrate Aadam Alaihissalam ke Liye Bayan ki Gaye ,Jisme Aap ki wafat ka bhi Zikr Hai,_ *_To Pata Chala Ki Ek Nabi ki Paidaesh, Unka Zameen Par Utarna, Aur Unki Wafat ke Din ke Bawajud Bhi Mo’amino ke Liye Allah ﷻ Ne Use Eid Bana Diya. Ki woh Din Eidul Azha Aur Eid ul Fitr Se Bhi Afzal Kar Diya._*
_Tou Hamare Sarkar e Do Jahan ﷺ Jo ki Tamam Ambiya ع ke Sardar Hai, Unki Tashrif Aavari Par Hum Us Din ko kyun Eid Na kahe, ki Unki Tashrif Aavri ki Wajah Se Hi Tou Hume Baki Eid Mili Aur Har Hafte Me Ek Eid Karke Pure Saal Me 52 Eido (juma) ka Tohfa Mila Woh Isi Rahmatalil Aalamin ﷺ Ki Tashrif Aavari Se Mila Hai._ *_Tou Hum kyun Us Din_*
*_Khushi Na Kare?_*


_Ab Aaiye Dekhte Hai Tarikh Ki Kitabo Me Ke Huzoor Rahamate Alam Noor e Mujassam Mohammad Mustafa ﷺ Ki Wiladat Par Afsoos Kon Kon Karta Hai_

*_Imam Qastallani رض Farmate Hai :_*
_Chahiye Eeman Walo Ki Tum Milad-e-Mustafa ﷺ ko Eid ke Taur Par Manaya Karo. Allah ﷻ Apna Fazl Aur Ehsan Kare Unn Logo Par Jo Rabi ul Awwal Ki Raato’n ko Eid ke Taur Par Manate Hai, Kyun Ki Iss Maheene ko Eid ke Taur Par Manane Se Unn Dilo’n Par Aur Unn Logo Par Ghazab Utarta Hai Jinke Dilo’n Me Bughz Aur Munafikat ki Bimari Hai._
*_📚(Imam Qastallani, Al Muwahib al Luduniya, Jild No. 1, Safa No. 📖 148)_*

_Shaitan Kaheta Hai Ki Mai Barso Jannat Me Raha, Farishto Ka Sardar Ban Gaya,Magar Jab Ye Aadam ع (Nabi) Paida Huwa To Mere Liye Badi Musibat Paida Ho Gai,Yaha Tak Ki Mujhe Jannat Se Bhi Nikal Diya Gaya!!! Phir Jab Jab Koi NABI Paida Hota Woh Gumra Ho Ko Sahi Raah Dikha Kar Jannat Me Le Jata Aur Tab Tak Ki Meri Sari Mehenat Mitti Me Mil Jati. Aur Aakhir Me Jab Aakhiri Nabi Muhammad ﷺ Wiladat Huwi Tab To Mai Itna Roya Jitna Pahele Jannat Se Nikalne Par RoyaTha, Aur Usne Meri Tamam Mehnat Par Pani Pher Diya._

*_📚(Hafidh Ibn-Kathir in Al-Bidayah wal Nihayah, Volume No. 2, Page No. 📖 166)_*

_Note:-
*_Agar Aisi Nishaniya Kisi Me Dikhai De To Samjho Wow Shaitan Ki Nasihat Lekar Aaya Hai_*


*_👇🏻📖 Scan Page_*

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s