“کنز الجہلاء ڈاکٹر آصف زلالی کی کذب بیانی

“کنز الجہلاء ڈاکٹر آصف زلالی کی کذب بیانی”

آصف زلالی اپنی گستاخی کو کذب بیانی سے بچانے کی ایک اور ناکام کوشش کرتے ھوئے فواتح الرحموت کا سہارا لیتا ھے۔
جو بحر العلوم عبد العلی لکھنوی المتوفی ١٢٢٥ھ کی کتاب ھے.
زلالی کہتا ھیںکہ (نعوذباللہ) حدیثِ وراثت انبیاء کا علم نہ ھونے سے پہلے جنابِ سیدہ فاطمہ الزھرا سلام اللہ علیھا کی خطاء تھی اور جب معلوم ھوگیا- تو خطاء نہ رھی. یہ عجیب منطق ھے کہ کسی شئ کا علم نہ ھو پھر اسکو خطا کیسے کہا جا سکتا ھیں-؟
بہرحال، اس نے اپنی ضد و انا کو ثابت کرنے کیلئے فواتح الرحموت کا سہارا لیا تو آئیے دیکھتے ھیں کہ علامہ لکھنوی نے کیا لکھا اور موصوف کیا کہہ رھا ھے۔
فواتح الرحموت میں یہ اجماع کی بحث میں اس مقام پر آئی ھے جہاں معصوم عن الخطأ اور محفوظ عن الخطأ کی بحث ھے.
علامہ لکھنوی یہ بتانا چاہ رھے ھیں کہ انبیاء علیہم السلام کی عصمت اور اھل بیت علیہم السلام کے محفوظ ھونے میں ما بہ الامتياز یہ ھے کہ انبیاءؑ کیونکہ وحی کے تابع ھوتے ھیں لہٰذا ان سے خطا اجتھادی نہیں ھوسکتی۔ لیکن اھل البیت سے اجتھادی خطا ممکن ھے. یہ سب امکان کی حد تک ھے. پھر علامہ لکھنوی فرماتے ھیں کہ:
وكذا يجوز عليهم الزلة وهي وقوعهم في أمر غير مناسب لمرتبتهم من غير تعمد كما وقع من سيدة النساء رضي الله عنها من هجرانها خليفة رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم حين منعها من جهة الميراث و لا ذنب فيه
اور اسی طرح اھل بیت سے الزلة ھو سکتا ھے اور پھر اس زلة کی مثال دیتے ہیں کہ جناب سیدة النساء سلام الله عليها نے فدک کا مطالبہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کیا کہ جو غیر تعمد یعنی بلا نیت تھا.

آپ دیکھیں کہ علامہ لکھنوی نے جنابِ سیدہ سلام اللہ علیھا کی طرف تخصیص سے لفظ خطا منسوب نہیں کیا بلکہ ان کیلئے الزلة استعمال کیا اور زلہ وھی ھے جو انبیاء کرام علیہم السلام کی طرف منسوب کیا جاتا ھے جیسے ھماری کتب کلام میں مذکور ھے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کی طرف انکے رتبہ کے مطابق زلة کہا جاتا ھے. جیسے قرآن مجید میں حضرت آدم علیہ السلام کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ھے کہ
فأزلهما الشيطان عنها اور یہ وھی الزلة ھے اور پھر قرآن حکیم اسی الزلة کی تشریح فرماتا ھے کہ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْمًا اور ھم نے آدم علیہ السلام کی اس عمل میں نیت نہیں پائی.

آپنے دیکھا کہ جس انداز میں انبیاء کرام علیہم السلام کیلئے لفظ الزلة استعمال ھوا ھے قرآن پاک اور ھماری عقیدہ کی کتابوں میں بعینہ اسی طرح علامہ لکھنوی جناب سیدہ سلام اللہ علیھا کی بنسبت تصریحا الزلة استعمال کررہے ہیں اور ساتھ اس کا معنی متعین کررھے ہیں کہ یہ بات غیر تعمد سے ھوئی بالکل جیسے اللہ تعالیٰ حضرت آدم علیہ السلام کے متعلق کہہ رہا ھے کہ انکی نیت و عزم نہیں تھا بالکل مصنف یہاں کہہ رھے ہیں کہ جناب سیدہ سلام اللہ علیھا الزلة ہوا جس میں عمد و نیت نہیں تھی.

آپنے دیکھا کہ کس قدر احتیاط سے علامہ لکھنوی فرما رھے ہیں اور جناب سیدہ سلام اللہ علیھا کیلئے وھی اصطلاح استعمال کررھے ہیں جو انبیاء کرام علیہم السلام کیلئے بلا عزم و تعمد ھوتی ہیں۔۔
اور دوسری طرف یہ بے لگام ڈاکٹر جلالی تخصیص کے ساتھ لفظِ *خطاء *خطاء* کی گردان کررہا ھے حالانکہ مصنف نے اجتھادی خطا عمومی طور پر بطور مابہ الامتیاز بیان فرمایا ھے، عصمت اور حفاظت کے درمیان اور جب سیدہ زھرا سلام اللہ علیھا کا نام لیا تو مطلق خطا یا اجتھادی خطا تک نہیں کہا جیسے آصف جلالی کہتا ھے۔ بلکہ ان کیلئے زلہ اور غیر تعمد استعمال کیا جو نبیوںؑ کیلئے استعمال کیا جاتا ھے. یہ علامہ لکھنوی کی احتیاط بارگاہِ خاتونِ جنت علیھا السلام میں اور دوسری طرف ڈاکٹر جلالی کی کذب بیانی اور مندرجہ ذیل میں کتاب کا عکس آپ ملاحظہ فرمائیں.

آپ نے دیکھا کہ زلالی فواتح الرحموت کو اپنی گستاخی کی کذب بیانی کیلئے حجت بناتے ہیں تو چلیں اسی مصنف اور اسی کتاب سے انکو اک اجتھادی غلطی کا نظارہ کراتے ہیں.

علامہ لکھنوی کو ڈھال بنا کر اور جو بات انہوں نے تخصیص سے کہی ھی نہیں بلکہ فدک کے مخصوص مسئلہ پر انبیاء کرام علیہم السلام والی تأويل جناب سیدہ سلام اللہ علیھا کیلئے استعمال کی جسکو جلالی چھپا گیا لیکن اسکے برعکس اسی کتاب میں چند صفحات پہلے وہ معاویہ بن ابی سفیان کے متعلق صریح الفاظ میں بلا حیل و حجت انکی اجتھادی خطا کا کھلے لفظوں میں انکار کرتے ہیں اور انکے ظالم و جابر بادشاہ۔باغی ھونے کی تصدیق کرتے ہیں. جب انکی اجتھادی خطا پر متن میں ذکر کیا گیا تو علامہ لکھنوی فرماتے ہیں: بل الكلام في كونه مجتهدا، كيف و قد عده صاحب الهداية من السلاطين الجائرة مقابل العادلين و لو كان بالاجتهاد لما كان جورا و لم ينقل عنه فتوى على طريقة الاصول الشريعة هذا
بلکہ اس بات میں کلام ھے کہ معاویہ بن ابی سفیان مجتھد تھا یا نہیں. یہ کیسے ھوسکتا ھے جبکہ صاحب ھدایہ نے انہیں ظالم و جابر بادشاہوں میں شمار کیا ھے بمقابل عادل بادشاھوں کے اور جو عادل نہیں وہ مجتھد کیسے ہوسکتا ھے. اور اگر وہ اجتھاد ھوتا تو صاحب ھدایہ انہیں ظالم و جابر نہ کہتے اور پھر صاحب ھدایہ سے شریعت کے اصولوں اور طریقے پر یہ فتویٰ جاری نہ ھوتا کہ جائز ھے قضاة کو قبول کرنا ظالم بادشاہوں سے.
اب آپنے دیکھ لیا کہ ایک طرف تو زلالی غلط بات جو مصنف نے تخصیص کے ساتھ جناب بی بی پاک سلام اللہ علیھا کیلئے استعمال ھی نہیں کیا اسکو یہ لوگ توڑ مروڑ کر اپنی ضد اور ھٹ دھرمی کیلئے استعمال کررھا ھے اور دوسری طرف وہ بات علامہ لکھنوی صریحاً نام لیکر کہہ رھے ہیں کہ معاویہ بن ابی سفیان اک ظالم و جابر بادشاہ ھونے کی وجہ سے مجتھد نہیں تھا اور اسکی غلطی اجتھادی نہیں تھی، لیکن اسکو جلالی نظر انداز کررھا ھے۔ اور اسکے بجائے تین تین گھنٹے کے سیمینار کرکے موضوع اور جھوٹی روایات پیش کررھا ھے اور حلوے کی طرح اسی کتاب اور اسی مصنف کی رائے کو کھا گیا ھے .
لیکن جناب سیدہ سلام اللہ علیھا کو نیچا دکھانے کیلئے مصنف پر کذب بیانی کررھا ھے . کیا یہ ھے تحقیق اور انصاف کہ آپ طلقاء کے دفاع میں جھوٹ کو سچ ثابت کریں اور جنکے صدقے میں ھمیں دین ملا انکی تنقیص کرنے کیلئے جھوٹ اور کذب بیانی کریں؟
یاد رکھیں کہ جلالی اور حلالی میں
صرف ایک نقطہ کا فرق ھے۔۔!!
المشتہر-&-پیشکش:-
“سنی حسینی مشن۔”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s