یام حضرت امام حسین اور امر باالمعروف و النهی عن المنکر

قیام حضرت امام حسین اور امر باالمعروف و النهی عن المنکر

قیام حضرت امام حسین اور جنگ کربلا ایک ایسا مفصل علمی و روحانی باب ہے. جس میں مفکرین فکر کریں تو اپنے قلوب و اذهان کو عرفان خدا سے منور کر سکتے ہیں.

اکثر حضرات کو یہ سوال و اعتراض رہتا ہے کہ آخر امام حسین علیہ السلام کو کیا ضرورت آ پڑی کہ وہ اس طرح کربلا مع خانوادہ کے تشریف لے گۓ. آخر اس عظیم قربانی کا مقصد کیا تہا؟ آخر اس المناک سانحہ میں حضرت امام حسین نے کس کار عظیم کو انجام دیا کہ صدیاں گزر گئیں لیکن یہ تذکرۂ کربلا ہماری زبانوں پر تازہ ہے؟

اس کا جواب خود امام حسین علیہ السلام نے اپنے ایک خط میں واضح فرما دیا جو کہ انهوں نے اپنے بهائی حضرت محمد بن حنفیہ کو لکها تها.
“میں باغی ،ظالم اور فاسد بن کر نہیں نکل رہا ہوں بلکہ میرا مقصد جدّ کریم صلی الله علیہ وسلم کی امت کی اصلاح کرنا ہے . اس اصلاح کے لۓ واحد طریقہ امر بالمعروف و نهی عن المنکر کا طریقہ ہے . یعنی میں امر بالمعروف و نهی عن المنکر کے طریقہ سے امت کی اصلاح کرنا چاہتا ہوں.مین پہلا شخص نہیں ہوں جو اس طریقہ پر چل کر امت کی اصلاح کر رہا ہوں . بلکہ مجھ سے پہلےمیرے جدّ بزرگوار اور والد محترم نے یہی طریقہ اپنایا تها. میں بهی انکی سیرت پر چل کر امر بالمعروف ونهی عن المنکر کے ذریعہ امت کی اصلاح کرنا چاهتا ہوں..”
حضرت امام حسین علیہ السلام کے اس مبارک خط سے ان کا کربلا کی طرف خروج کرنے کا مقصدِ عظیم واضح ہو جاتا ہے .
امر بالمعروف و نهی عن المنکر کے عظیم فریضہ کو اللّه نے واضح ارشاد فرمایا
وَلۡتَکُنۡ مِّنۡکُمۡ اُمَّۃٌ یَّدۡعُوۡنَ اِلَی الۡخَیۡرِ وَ یَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ یَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ ؕ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ
(سورۃ آل عمران ١۰۴)
ترجمہ: اور تم میں سے ایسے لوگوں کی ایک جماعت ضرور ہونی چاہئے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائیں اور بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں ، اور وہی لوگ بامراد ہیں.

کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ تَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ (سورۃ آل عمران ۱۱۰)
ترجمہ: تم بهترین امت ہو . اور تمهارے بهترین ہونے کی علامت یہ ہے کہ تم امر بالمعروف و نهی عن المنکر کرتے ہو.

یُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ یَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ یَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَ یُسَارِعُوۡنَ فِی الۡخَیۡرٰتِ ؕ وَ اُولٰٓئِکَ مِنَ الصّٰلِحِیۡنَ
(سورۃ آل عمران ۱۱۴)
ترجمہ: وہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لاتے ہیں اور بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں اور نیک کاموں میں تیزی سے بڑھتے ہیں ، اور یہی لوگ نیکوکاروں میں سے ہیں.

امر بالمعروف والنهی عن المنکر کے حوالہ سے کچھ روایات ذیل میں درج ر رہاہوںکی جا رہیں ہیں.

اذا امتی تواکلت الأمر بالمعروف والنهی عن المنکر فلیاذنوا بوقاع من الله
ترجمہ: جب میری امت امر با لمعروف و نهی عن المنکر کا فریضہ چهوڑ دے تو الله کی طرف سے عذاب کی منتظر رہے.

امر بالمعروف و النهی عن المنکر گی اهمیت کو اجاگر کرنے کیخاطر چند روایت ذیل میں درج کی جا رہی ہیں:

١: ابو سعید الزهری نےحضرت امام صادق علیہ السلام اور حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے. تباهی ہو اس قوم پر جو امر بالمعروف ونهی عن المنکر کے ذریعہ سے دین دار نہیں بنتی.

۲:حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: سب سے بُری قوم وہ ہے جو امر بالمعروف و نهی عن المنکر کو عیب سمجهے.

٣:حضرت امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: امر بالمعروف ونهی عن المنکر ضرور کرو. ورنہ فاسق،فاجر اور شریرلوگ تم پر مسلط ہو جاینگے پهر تمهارے نیک لوگوں کی دعائیں بهی مستجاب نہیں ہوں گی.

ایک دوسرے مقام پر امر بالمعروف و نهی عن المنکر کے حوالے سے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: امر بالمعروف و نهی عن المنکر ایک بہت بڑا فریضہ ہے. اس فریضہ کی وجہ سے دوسرے تمام فرائض کی انجام دہی ممکن ہے اس فریضہ کے ترک کرنے کی وجہ سے الله تعالی کا قهر وغضب نازل ہوتا ہے. پهر اس کا ثواب سب پر نازل ہوتا ہے .شریر لوگوں کی وجہ سے نیک لوگ اور بڑوں کی وجہ سے چهوٹے بهی ہلاک ہوجاتے ہیں. چونکہ امر بالمعروف و نهی عن المنکر انبیاء علیہ السلام کا راستہ اور نیک وصالح لوگوں کا طریقہ ہے.یہ بہت بڑا فریضہ ہے .اسی وجہ سے دوسرے فرائض کی انجام دہی ممکن ہے .اسی فریضہ کی وجہ سے راستے پر امن ہو جاتے ہیں.تجارتیں حلال، مظالم پلٹاۓجا سکتے ہیں اور زمین آباد ہو جاتی ہیں اسکی وجہ سے دشمنوں سے انصاف کیا جا سکتا ہے تمام امور اسی سے درست ہو سکتے ہیں.
حضرت امام حسین نے امر بالمعروف ونهی عن المنکر جیسے عظیم فریضہ کو اپنے قیام کا مقصد قرار دیا ہے. سیدالشهداء امام حسین علیہ السلام نے اپنے خط میں قیامت تک آنے والے تمام سوالات و اشکلات کا جواب تحریر فرمایا ہے. اگر کوئی پوچهے کہ حضرت امام حسین علیہ السلام نے یہ عظیم قربانی ، یہ اسارتیں ، یہ شهادتیں کیوں پیش کی؟ اور یہ معصوم بچے کیوں ذبح ہوۓ؟ ان سب سوالات کا جواب یہی ہے کہ امام حسین امر بالمعروف ونهی عن المنکر کرنا چاہتے تهے.
امر بالمعروف سے مراد کسی کی زندگی میں بے جا مداخلت، روکنا-ٹوکنا نہیں ہے‌. کیونکہ کبهی ایسا بهی ہوتا ہے کہ معروف کے نام پر منکرات کو پهیلائے جارہے ہوتے ہیں جب کہ کبهی منکرات کے نام پر معروف سے روکا جاتا ہے. اس لۓ اکثر لوگوں کو نہ تو معروف کی شناخت ہے اور نہ ہی منکر کی پہچان ہے. لازم جانتا ہوں کہ معروف اور منکر کی تعریف بیان کرتا چلوں . تاکہ مضمون بیشتر واضح ہو سکے اور لوگوں کے دید و قلب باز و گشاد ہو سکے، کیوں کہ جب تک معروف اور منکر کی سمجھ نہیں ہوگی تب تک قلوب و اذہان کے مقفل دریچوں کا باز ہونا محال ہے. عام طور پر معروف کا ترجمہ نیک اور نیکی کیا جاتا ہے. اسی طرح منکر کا ترجمہ بُرا اور بُرائی کیا جاتا ہے. حالاں کہ لغوی اعتبار سے یہ درست نہیں. با اعتبار لغت لفظ معروف کا تعلق معرفت اور عرفان سے ہے. معرفت عرفان معارف اور معروف یہ تمام الفاظ ایک ہی خانوادہ کے ہیں. مثلاً اگر میں کہوں کہ فلاں آدمی کو بڑی معرفت حاصل ہے وہ بڑا عارف ہے تو کیا اس سے یہ مراد لیا جائیگا کہ وہ بڑا نیک آدمی ہے..؟ نہیں بالکل نہیں! ہاں اگر چہ معرفت رکهنے والا شخص نیک بهی ہوتا ہے،عالم بهی ہوتا ہے. لیکن عارف کا معنی نیک آدمی هرگز نہیں ہوتا .کتب لغت میں عرفان اور معرفت کا معنی جاننا ، شناخت کرنا، کسی چیز کو پہچاننا آیا ہے. اسی بنیاد پر عارف یعنی جاننے اور پہچاننے والا اور معروف یعنی پہچانی ہوئی چیز جس کا کسی کو علم ہو. اسی طرح منکر کا معنی انکارشدہ چیز، ٹھکرائی گئی چیز جس کو قبول نہ کیا جاۓ. یعنی وہ چیز جس کو رسمیت سے کوئی نہ پہچانے اس کے وجود کو کوئی تسلیم نہ کرے. پس امربالمعروف سے مراد یہ ہے کہ شناختہ شدہ اور تسلیم و قبول شدہ چیزوں کا امر کریں نهی عن المنکر کا مطلب ٹھکرائی اور انکارشدہ چیزوں سے لوگوں کو روکیں.
اب معروف ومنکر کا معیار جاننا بهی ضروری ہے لهذا معروف ومنکر کے دو منبع ہیں. ایک خدائے متعال کی طرف سے وحی ہے. یعنی بذریعہ وحی الله تعالی نے جن چیزوں سے انکار کر دیا، جن کو ٹهکرا دیا وہ منکرات میں سے ہیں. اور جن چیزوں کو قانونی حیثیت دے کر انکی رسمی طور پر پذیرائی کی ہے وہ معرفت/معروفات میں سے ہیں.
اسی طرح دوسرا منبع عقل ہے. جن چیزوں کو انسانی عقل نے تسلیم کر کے رسمی طور پر پہچان لیا وہ معروف ہے. منکرات اس کے بر عکس ہیں. یعنی جن چیزوں کو انسانی عقل نے ٹهکراتے ہوۓ ان کو رسمی حیثیت نہیں دی اور اسکی حیثیت کو ہمیشہ معیوب سمجها مثلاً عدالت قائم کرنا، احسان و نیکی کرنا، مظلوم کی حمایت کرنا، نا چارہ کی چارہ سازی کرنا، نماز پڑهنا، روزہ رکهنا وغیرہ معروفات میں سے ہیں . اسی طرح ظلم کرنا، بخل کرنا، نماز و روزہ سے گریز کرنا، احسان فراموشی کرنا، بُرائی آم کرنا، شرب پینا وغیرہ منکرات میں سے ہیں.
حضرت امام حسین علیہ السلام فرمارہے ہیں کہ میں امر بالمعروف و نهی عن المنکر کرنے جا رہا ہوں جنھیں خدا نے اور تمہاری عقل نے تمهارے لۓ تسلیم کیا ہے. اور جن چیزوں سے تمیہں روکا گیا ہے ان سے منع کرنے کے لۓ نکل رہا ہوں یعنی اسلام اور معاشرتی اقدار کی دفع اور شیطانی و طاغوتی چیزوں کو نیست و نابود کرنے جا رہا ہوں.
پس معروف اور منکر درحقیقت دو قدروں(values) کا نام ہے. الهی اور انسانی اقدار کا نام معروف ہے.
غیر انسانی صفات اور تمام بُرے کام منفی منکر اقدار ہیں جن کو منکر کا نام دیا جاتا ہے. لیکن کبهی-کبهی ان اقدار کا نظام بدل جاتا ہے اور لوگ یہاں تک آگے نکل جاتے ہیں کہ معروف کو منکر اور منکر کو معروف سمجهنا شروع کر دیتے ہیں.
جیسا کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس وقت تمهارا کیا حال ہوگا جب معروف کو منکر اور منکر کو معروف بن جایگا. لهذا امام وقت حضرت امام حسین رضی الله عنہ نےمشاهدہ فرمایا کہ قدروں کا نظام بدل گیا ہے. اور امت خاموش تماشائی بن کر بیٹهی ہے.تب امام حسین علیہ السلام خود تنها اس نظامِ اقدار کو بچانے کے لۓ قیام فرماتے ہیں جسکی بنیاد “امر بالمعروف ونهی عن المنکر” کو بناتےہیں.
جب امر بالمعروف ونهی عن المنکر کا فریضہ ترک کر دیا جاتا ہے. جب اقدار کا نظام بدل جاۓ، جب اقدار سماج میں مردہ ہو جائیں تب امت اور سماج کی موت اس وقت واقع ہو جاتی ہے.
حضرت امام حسین نے انهی اقدار کو دوبارہ زندہ فرمانے کی غرض سے اور امت کو خوابِ غفلت سے بیدار کرنے کے لۓ ، حکمرانوں کی اصلاح فرمانے کے لۓ رنج و مصیبت و آلام کو تحمل فرماتے ہوۓ قیام فرمایا تها. جیسا کہ خود آپکے قول فیصل سے یہ واضح ہے “انما اخرجت لطلب الاصلاح فی امة جدی ” ترجمہ: بیشک میں اپنے نانا جان کی امت کی اصلاح کے لۓ نکلا ہوں.
امام حسین علیہ السلام کے اس قول سے یہ بات اور روشن ہو جاتی ہے کہ امت مر چکی تهی ،اقدار کا نظام بگڑ چکا تها، نمازیں تو پڑهی جاتی تهی ، روزے بهی رکهے جاتے تهے، اور دیگر اعمال صالح انجام دیۓ جاتے تهے، لیکن دین کی روح پرواز کر چکی تهی. اچهے کو برے اور برے کو اچها تسلیم کیا جا رہا تها. لوگوں نے یزید جیسے فاسق و فاجر، زانی و شرابی کی بیعت کر کے گمراهی کے اندهیرے کو اپنا مقدر بنا لیا تها. ایسے وقت میں امام حسین علیہ السلام نے جهاد کو فرض مانا اور طاغوتی حکومت اور اصلاح امت کی خاطر لوگوں کو خروج کے لۓ دعوت بهی دیا، دوران حج امت جوق در جوق مکہ میں حج کرنے کے لۓ جمع ہو رہے تهی. لیکن حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنے حج کو عمرہ میں تبدیل کر لے احرام کهول دیا اور امت کو جهاد کی طرف دعوت دیتے ہوۓ یہ پیغام دیا کہ یہ حج کرنے کا وقت نہیں بلکہ حج کو بچانے کا وقت ہے .ساتھ ہی ساتھ اس بات کو اجاگر کرتا چلوں کہ امام حسین علیہ السلام کو کربلا میں یزیدیوں نے نہیں گهیرا تها بلکہ امام حسین علیہ السلام نے یزیدیوں کو اس میدان میں لا کر ان تمام بنو امیہ کی سازشوں سے پردہ اٹها دیا جو میدان بدر سے شروع ہوئی تهی. اسی سازش کے تحت حضرت امام حسن علیہ السلام کو زھر دے کر شهید کر دیا گیا تها.

جب لوگ حاجیوں کے لباس میں حالت احرام میں یزید کے اشارے پر احرام میں خنجر چهپا کر امام حسین علیہ السلام کو شهید کرنے کے لۓ آۓ تو امام حسین علیہ السلام نے مکہ چهوڑنا مناسب سمجها تا کہ بنو امیہ اپنی سازش کے تحت امام حسین علیہ السلام کو گمنامی سے قتل نہ کر پائیں اور بعد میں جهوٹا ڈهونگ کر کے قتل امام حسین علیہ السلام کی جعلی تفتیش کرواکر یزید اور بنو امیہ دستبردار نہ ہو سکیں کہ جس طرح امام حسن علیہ السلام کو زهر دے کر خاموشی سے بچ نکلے تهے. اسی وجہ سے سید الشهداء علیہ السلام نے حج کی بهیڑ اور مکہ کو چهوڑکر نینوا کی سر زمین کا انتخاب فرمایا.
حضرت امام حسین علیہ السلام چار مہینہ شهر مکہ مشرفہ میں پناہ گزین رہے. ان چار مہینوں میں سرکار سیدالشهداء مولی امام حسین علیہ السلام دست بر دست بیٹهے نہ رہےبلکہ اهل مکہ کو ظالم اور طاغوتی حکومت کے خلاف خروج کرنے کی بهی دعوت فرماتے رہے. لیکن جب روحیں مر جاتی ہیں اور امر بالمعروف کو غیر معمولی سمجها جانے لگتا ہے تو لوگوں کو امام وقت کا خروج کرنا بهی غلط لگتا ہے. لهذا جب لوگوں کے کانوں پر جوں نہیں رینگی تو سید الشهداء حضرت امام حسین علیہ السلام خود تنها خروج فرماتے ہیں کیونکہ رهبر اور امام وہی ہوتا ہے جو امت کی بیماریوں کی تشخیص کرے اور اسکو معلوم ہو کہ اب کس کے خلاف بولنا ہے اور کس کے خلاف خروج کرنا ہے. اسی بنا پر حضرت امام حسین علیہ السلام بحیثیت امام وقت و جانشین پیغمبر بن کر “و انا من الحسین” کی تفسیر و تشربح کو واضح فرمانے کے لۓ نکلے تهے .
جنگِ کربلا پر اکثر کچھ کم فهم اور کوتاہ ذھن رکهنے والے لوگ بدونِ تحقیق و تفکر یہ کہہ دیتے ہیں کہ کربلا کی جنگ دوشهزادوں کی جنگِ اقتدار تهی. لیکن اگر هم کربلا میں واقع ہوئی جنگ پر اور فرمان سید الشهداء پر غور کریں تو یہ بات روشن ہو جائیگی کہ کربلا اقتدار کی نہیں بلکہ اقدار کی جنگ تهی .لازم سجهتا ہوں کہ اقتدار اور اقدار کی جنگ کے بیچ کا فرق بیان کرتا چلوں .اقتدار کی جنگ اسے کہتے ہیں جب کوئی شخص صاحبِ اقتدار حکمران کو للکارے اور اس کے خلاف آواز اٹهاۓ اور ان کو میدانِ جنگ تک اقتدار کی خاطر یعنی حکومت و مملکت کے واسطے میدان جنگ تک لے آۓ.
کوئی بادشاہ یا حاکم مسندِ قوت پر بیٹها ہو اور کوئی دوسرا شخص اسے اسکے تختِ قدرت سے اتار کر خود اسکے تخت پر بیٹهنا چاہے، تب اسے اقتدار کی جنگ کہتے ہیں.
لیکن کچھ جنگیں ایسی ہوتی ہیں جسے اقتدار کے لۓ نہیں بلکہ اقدار کے لۓ لڑا جاتا ہے. یعنی ایک طرف عالی انسانی اقدار والے لوگ ہوتے ہیں دوسری طرف شیطانی اور طاغوتی اقدار والے ہوتے ہیں. جن کا مقصد انسانی اقدار کو ختم کرنا ہوتا ہے.
اقتدار کی جنگ میں فریقین میں سے ایک کو جیتنا لازم ہوتا ہوتا ہے .جیتنے کے لئے اپنے مد مقابل کو جان سے مار ڈالنا یا میدان جنگ سے بهگانا پڑتا ہے. مرنے والے یا بهاگ جانے والے کو هارا ہو تسلیم کیا جاتا ہے. جب کہ اس کے بر عکس اقدار کی جنگ میں ایسا بهی ہوتا ہیکہ زندہ اور میدان میں رہ کر بهی لوگ ہار جاتے ہیں اور اپنی جان گنوا کر مر-مٹنے والے جیت جاتے ہیں.

یہ بات اهل علم پر روشن ہے پهر وہ چاہے کسی بهی فرقہ کا ہو یا کسی بهی گروہِ خاص سے تعلق ہی کیوں نہ رکهتا ہو کہ جنگ کربلا میں یزید زندہ رہ کر بهی ہار گیا اور امام حسین علیہ السلام سر کٹ جانے اور جان لٹ جانے ، دوست و احباب اور خانوادہ کے قربان ہو جانے اور انکے اهل بیت کے اثیر ہو جانے کے باوجود جنگ کربلا میں ظفریاب رہے. اور اس جنگ کو آیندہ آنے والی نسلوں کے لۓ مثال کے طور پر چهوڑ گۓ.
اب چوں کہ هم واضح طور پر یہ جانتے ہیں کہ سر کٹانے کے با وجود ظاهراً ہار جانے کے با وجود حضرت امام حسین علیہ السلام جیت گۓ. تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ جنگ اقتدار کی نہیں اقدار کی تهی. اس جنگ کو یوں بهں اقتدار کی جنگ نہیں سمجها جا سکتا کیونکہ کوئ شخص اقتدار و حکومت حاصل کرنے کی جنگ میں اپنے چهوٹے-چهوٹے بچوں, اپنی بہنوں, اپنے بیمار بیٹے کو لیکر نہیں جاتا.

سیّد الشهداء حضرت امام حسین علیہ السلام نے امر بالمعروف ونهی عن المنکر کے ذریعہ امّت کی اصلاح فرمائی اور الهٰی و انسانی اقدار کو اپنا لہو پیلاکر زندہ فرمایا. سّد الشهداء حضرت امام حسین علیہ السلام رہتی دنیا تک کےلئے امر بالمعروف ونهی عن المنکر کی لا زوال اور بےمثال عملی تفسیر ہیں. حضرت امام حسین علیہ السلام نے وصیت نامہ میں اپنے خروج کا مقصد امر بالمعروف ونهی عن المنکر قرار دیا. آپکے کلمات و خطبات میں جابجاں اس عظیم فریضہ کا تذکرہ ملتا ہے.
جب مولی’ امام حسین علیہ السلام اپنے نانا جان کی قبر مبارک سے رخصت ہورہے تهے تب فرمایا: “خدایا یہ تیرے نبی حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم کی قبر منور ہےاور میں تیرے نبی حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم کا نواسہ ہوں. مجهے جس امر کا سامنا ہے اسے تو بهتر جانتا ہے. اے اللّه! میں معروف سے محبت کرتا ہوں اور منکر سے بیزار ہوں”

بعض علماۓ کرام نے حضرت امام حسین علیہ السلام کا “منٰی” میں دیا ہوا خطبہ نقل کیا ہے جو اس عظیم فریضہ کی طرف اشارہ کر رہا ہے. آپ علیہ السلام نے فرمایا : اے لوگوں ! خداوند متعال نے یہود یعنی یهودی علماء اور یهودی امّت کی مذمت کرکے اپنے اولیاء کو جو نصیحت کی ہے تم اس سے عبرت حاصل کرو. الله کا ارشاد ہے: بنی اسرائیل میں سے جنهوں نے کفر اختیار کیا ان پر لعنت کی گئی ہے. یہاں تک فرمایا کہ جو کچھ وہ کرتے تهے وہ نہایت ہی بُرا تها، خداوند متعال نے ان کی مذمت اس وجہ سے فرمائی کی وه اپنے سامنے ظالمین کو فساد و بُرائی اور منکرات انجام دیتے ہوۓ دیکهتے . اس کے با وجود انہیں روکتے نہیں تهے اور اس نهی عن المنکر نہ کرنے کی وجہ یہ تهی کہ اُن ظالم اور ستم گاروں کی طرف سے انہیں پہچنے والے فائدے بند ہونے اور ان کی طرف پہچنے والے نقصان کا ڈر تها. جب کہ الله تعالی کا ارشاد ہے کہ لوگوں سے مت ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو ! اور الله تعالی کا یہ بهی ارشاد ہے کہ مومنین اور مومنات ایک دوسرے کے دوست ہیں .وہ ایک دوسرے کو امر بالمعروف و نهی عن المنکر کرتے ہیں.

ایک دوسرے خطاب میں حضرت امام حسین علیہ السلام نے کچھ اس طرح ارشاد فرمایا: خداوند نے فریضۂ امر بالمعروف و نهی عن المنکر سے اس وجہ سے آغاز کیا چوں کہ الله تعالی کے علم میں تها اگر یہ فریضہ ادا اور قائم ہو جاۓ تو تمام دیگر مشکل اور آسان فرائض قائم ہو جائنگے کیوں کہ امر بالمعروف و نهی عن المنکر اسلام کی طرف دعوت غصب شدہ حقوق کی واپسی ، ستمگروں کی مخالفت ، مال فئی اور مال غنایم کی صحیح تقسیم اور صدقات کو مناسب مقامات سے لے کر حق داران تک پہوچانے کا ذریعہ ہے.

امر بالمعروف ونهی عن المنکر پر تاکید کرنا سید الشهداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی سیرت ہے. آپ نے قیامت تک کے اصول مقرر کرتے ہوۓفرمایا: “میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر چاہتا ہوں”

حضرت امام حسین علیہ السلام نے سورة آل عمران کی آیت نمبر ١۰۴ کی اپنے خون مبارک سے تفسیر لکهی ہے .اول تو آیت کریم پیش کرتا ہوں:
وَلۡتَکُنۡ مِّنۡکُمۡ اُمَّۃٌ یَّدۡعُوۡنَ اِلَی الۡخَیۡرِ وَ یَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ یَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ ؕ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ
(سورۃ آل عمران ١۰۴)
ترجمہ: اور تم میں سے ایسے لوگوں کی ایک جماعت ضرور ہونی چاہئے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائیں اور بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں ، اور وہی لوگ بامراد ہیں.

مفسرین حضرات نے آیت مذکورہ کی اچهی تفسیریں کی ہیں لیکن جو تفسیر امام حسین علیہ السلام نے تلوار کے سایہ میں کهڑے رہ کر سخت گرمی میں بهوک اور پیاس کی حالت میں میدان کارزار میں دشمنوں سے مقابلہ کرتے ہوۓ پیشکی ہے. وہ در حقیقت اس آیت کی حقیقی عملی تفسیر ہے. اب اگر کسی کو اس آیت کی عملی و حقیقی تفسیر کا مشاهدہ کرنا ہو تو وہ حضرت امام حسین علیہ السلام کے اقوال و افعال اور نبرد کربلا میں لئے گئے اقدام کو دیکھ لے.
کربلا میں حضرت امام حسین علیہ السلام کی تفسیر سے واضح ہو گیا کہ جب بهی منکرات پر عمل ہونگے اور مثبت اور انسانی اقدار مٹنے لگے . معروف پر عمل نہ ہو رہا ہو تو اس وقت واجب ہے کہ اقدار کی جنگ کا “عَلَم” بلند کیا جاۓ. امر بالمعروف و نهی عن المنکر منبروں پر بیٹھ کر نہیں ہوتا، نہ ہی گهروں میں بیٹھ کر اسے انجام دیا جا سکتا ہے. ایک مثال سے اس کو واضح کیۓ دیتا ہوں اگر ٹریفک(Traffic) کے قانون پر عمل نہ کیا جا رہا ہو اور اس کی ناموس کو پامال کیا جا رہا ہو تو اس صورت میں منبر پر بیٹھ کر نہیں بلکہ اس کی اصلاح کے لۓ میدان عمل میں اترنا پڑیگا. اسی طرح معاشرت یعنی سوسایٹی کا بهی مسلۂ ہے. معاشرت یعنی سوسایٹی کے بگڑے ہوۓ نظام کی اصلاح کے لۓ بهی اسی نرغے یعنی امر بالمعروف و نهی عن المنکر میں اترنا پڑیگا. لهٰذا جہاں معروف سے روکا جا رہا ہو اور منکر کو پهیلایا جا رہا ہو تو اسی میدان میں اتر کر ہی اس کی اصلاح کی جا سکتی ہے.
جب حضرت امام حسین علیہ السلام کو لوگوں نے مشورہ دیۓ کہ آپ مکہ ہی میں ٹهہر جائیں…. یہی پر وعظ ونصیحت فرمائیں…. منبر پر جا کر امر بالمعروف ونهی عن المنکر بیان کرتے رہے ہیں. اس طرح یہ جهاد ادا ہو جائیگا لیکن سید الشهداء حضرت امام حسین علیہ السلام نے فرمایا : هرگز ایسا نہیں کرونگا بلکہ میں عراق جا کر امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرونگا. وہاں جا کر منکر سے ٹکراؤنگا جہاں سے منکر کو پهیلایا جا رہا ہے. مزید آپ نے ارشاد فرمایا کیا تم نہیں دیکهتے ہو کہ حق پر عمل نہیں ہو رہا ہے اور باطل سے روکا نہیں جا رہا ہے تو ایسے حالت میں مومن کو چاہیۓ کہ اپنی جان دینے سے دریغ نہ کرے بلکہ لقاء الله کے لئے آمادہ ہو جاۓ. کیونکہ اللّه ارشاد فرما رہا ہے:
لَنۡ تَنَالُوا الۡبِرَّ حَتّٰی تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ
ترجمہ: جب تک تم اپنی پسندیدہ چیز سے اللہ تعالٰی کی راہ میں خرچ نہ کرو گے ہرگز بھلائی نہ پاؤ گے.
امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینے کے لئے جان دینا پڑتا ہے. انسان کو جان سے زیاده محبوب و پسندیده و عزیز کوئی دوسری چیز نہیں ہوتی. اور حضرت امام حسین علیه السلام نے تو صرف اپنی ہی نہیں بلکہ اپنی اهل بیت و خاندان و رفقأ کی جان دیکر یہ فریضہ انجام دیا.

جب حق پر نہ عمل ہو رہا ہو اور باطل سے روکنے والا کوئی نہ ہو تو اس صورت میں امر بالمعروف کی ضرورت ہوتی ہے. اس وقت اقدار کی زرہ پہن کر، کردار کی شمشیر اٹها کر، میدان جنگ اقدار ڈٹ جانا چاہیۓ اور اقدار کو پامال کرنے والی طاقتوں کو للکار کر امر بالمعروف ونهی عن المنکر کی تلوار سے ہلاک کر دینا چاہئیے. اسی کا نام امر بالمعروف و نهی عن المنکر ہے…
اسی طرح سید الشهداء حضرت امام حسین علیہ السلام نے امر بالمعروف و نهی عن المنکر کے ذریعہ اُمّت کی اصلاح فرمائی اور الٰهی و انسانی اقدار کو اپنا لهو پلاکر زندہ فرمایا.
سید الشهداء حضرت امام حسین علیہ السلام امر بالمعروف و نهی عن المنکر کی زندہ اور بے مثال تفسیر ہیں.

بس اب اپنے اختتامیہ جملہ میں اتنا ہی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ سید الشهداء حضرت امام حسین علیہ السلام نے اس اقدار کی جنگ کو امر بالمعروف کی شمشیر سے ایسا جیتا کہ اب رہتی دنیا تک مثبت و انسانی اقدار کو حسینیت اور منفی و شیطانی اقدار کو یزیدیت کے نام سے پہچانا جائیگا…

والسلام علیکم
حسینیت زندہ باد!

خاکِ کفِ پائے سگانِ دیوہ شریف
سید فیضان وارثی

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s