ماہ محرم میں خوشیاں کیوں نہیں منانی چاہئیے…

ماہ محرم میں خوشیاں کیوں نہیں منانی چاہئیے…

قُلۡ لَّاۤ اَسۡئَلُکُمۡ عَلَیۡہِ اَجۡرًا اِلَّا الۡمَوَدَّۃَ فِی الۡقُرۡبٰی
ترجمہ: (اے محبوب) آپ فرمادیجئے کہ میں تم سے کوئی اجر (یعنی بدلہ کار رسالت کا) نہیں چاہتا سواۓ میری قرابت کی مودت و محبت (سورہ شوریٰ ۲٣)

امام اهل سنت مفسر اعظم حضرت امام فخرالدین رازی نے تفسیر کبیر میں فرمایا کہ یہ آیت مبارکہ پنجتن پاک اور اهل بیت علیهم السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے. اسی طرح جمهور مفسر ین کا قول بهی یہی ہے.

اگر آیت کریمہ جسے آیت مودت بهی کہتے ہیں پر ہم غور کریں تو الله یہ فرما رہا ہے کہ جو کچھ رسول پاک صلی الله علیہ وسلم نے کار رسالت انجام دیا ہے یعنی نماز سیکهائی ، روزہ سیکهایا، زکوٰت کے احکام سمجهاۓ، تبلیغ و اشاعت دین کی اور جهالت کے اندھیرے سے نکالا اور علم کے نور سے منور کیا، الغرض اسلام کے احکامات کی مکمل تعلیم دے کر ہم سب کو انسان کامل اور نمونۂ عمل بنایا اس دوران جو کچھ مصیبتیں رسول الله صلی الله علیہ و آلہ وسلم نے برداشت کی اور جن۔جن پریشانیوں سے گذرے مثلاً فاقہ کئے ، لوگوں کی دشنامیوں پر تحمل کیا، لوگوں نے پتهر مارے پهر بهی صبر کیا . جیسا کہ مشهور حدیث میں ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جتنی مصیبت راہ خدا میں مجھ پر آئی ہے اتنی کسی پہ نہیں آئی . مثلاً کسی نبی کی اهل بیت کو کبهی قیدی نہیں بنایا گیا اور نہ ہی کسی نبی کی بیٹیوں کو بازار میں بے پردہ پهیرایا گیا. ہر حال میں تبلیغ اسلام فرماتے رہے اور احکام خدا کو اصحاب سے لے کر آج ہم تک پہنچایا پس الله اسی طرف اشارہ فرماتے ہوۓ اس آیت میں فرما رہا ہے کہ ان تمام قربانیوں کے بدلے میں کچھ نہیں چاہیۓ پس یہ کہ رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے اهل بیت سے محبت اور مودت. پتہ یہ چلا اجر رسالت رسول خدا صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی اهل بیت سے بے انتها اور شدید محبت کرنے کا نام ہے.

مَوَدّت کیا ہے؟
محبت کی انتها کے بعد جس کیفیت و احساس و جذبات کی ابتدا ہوتی ہے اسے مودت کہتے ہیں. محبت کہتے ہیں اُس احساس کو جس میں انسان دوسرے شخص کو اتنا پسند کرے کہ خود کی ذات پر اس کو برتری دینے لگے اور اس کے حکم کو بجا لاۓ . جب کہ مودت اس سے ایک درجہ آگے کی چیز ہے کہ جب انسان کسی سے اتنی محبت کرنے لگے کہ اس کے لئے اپنا سب کچھ لٹانے پر آمادہ ہو جاۓ اور اس کے لۓ اپنی جان دینے سے بهی گریز نہ کرے .
الله تعالی مومنین کو اهل بیت سے اسی طرح کی محبت کرنے کا حکم دے رہا ہے اور یہی ایمان کا تقاضہ بهی ہے اور اسی آیت کے دیئے گۓ حکم کی بنیاد پر ہم اکثر کہا کرتے ہیں رسول الله کے لئے اور ان کے اهل بیت کے لئے اپنی جان تک لُٹا دینگے.
اهل بیت سے محبت کا حکم رسول خدا صلی الله علیہ وسلم نے بہت سارے مقامات پر دیا ہے. ابهی یہ موقع نہیں ہے کہ ان کا ذکر کروں بس اشارہ کئیے دیتا ہوں کہ مطالعہ کا شوق رکهنے والے حدیث ثقلین ، حدیث کساء جیسی حدیثیں پڑھ سکتے ہیں پس برکت کی نیت سے ایک حدیث جس کو الصواعق المحرقہ میں امام ابن حجر المکی الشافعی القادری نے نقل کیا ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی شخص مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک کہ مجھ سے محبت نہ کرے اور کوئی شخص مجھ سے محبت نہیں کر سکتا جب تک کہ میری اهل بیت کو اپنی اهل بیت پر برتری نہ دے دے.
پس محبت و مودت رسول اور اهل بیت علیهم السلام کا یہی تقاضہ ہے کہ جب ان پر کوئی خوشی کا معاملہ پیش آیا ہو تو ان کی خوشی میں شریک ہو کر خوشیاں منایں اور اپنے ایمان کا ثبوت پیش کریں مثلاً کہ رسول الله صلی الله علیہ و آله وسلم کی ولادت کا موقع ہو یا حضرت علی یا حضرت سیدہ زهرہ یا حضرت امام حسن یا حضرت امام حسین یا جملہ اهل بیت علیهم السلام میں سے کسی کی ولادت یا شادمانی کی تاریخ آ پڑے تو اس دن مومن کو چاہئیے کہ خوشی مناۓ.
پس اسی طرح اهل بیت علیهم السلام سے محبت و مودت کا تقاضا یہ ہے کہ اگر ان ہی اهل بیت علیهم السلام میں سے کسی کی وصال یا شهادت کا موقع ہو تو غم کا اظہار کرے خاص طور پر سید الشهداء حضرت امام حسین علیہ السلام نے جس طرح سے اسلام کو بچانے کے لۓ کلمہ، روزہ، نماز، جملہ احکام الٰهی اور انسانی اقدار کو بچانے کے لۓ جس طرح سے میدان کربلا میں قربانی پیش کی ہے اس کی نظیر ملنا مشکل ہے .
آج ایمان کے سایہ میں سانس لینے والے ہر مسلمان کے کلمہ پر حضرت امام حسین علیہ السلام کا احسان ہے اور اس احسان کا بدلہ کوئی شخص جتنا بهی چاہے چکا بهی نہیں سکتا آج اگر کوئی شخص نماز ادا کرتا ہے اور احکام الٰھی بجا لاتا ہے تو اس پر امام حسین علیہ السلام اور شہداۓ کربلا کا احسان عظیم ہے . اس بات کو ایک شاعر نے باخوبی کہا ہے.
نمازیوں پر ہے فرض یہ خدا کی قسم
بچها کے مصلیٰ کہیں حسین زندہ باد!

تو اس محبت کا یہ تقاضہ ہے کہ ہم ماہ محرم میں غم امام حسین علیه السلام کا لحاظ کرتے ہوۓ اپنی خوشیوں پر انکے غم کو ترجیح دیتے ہیں. اور اسی وجہ سے کسی خوشی کی محفل و تقریب سے دور رہتے ہیں. جب انسان کسی سے محبت کرتا ہے اور اس پر کوئی غم یا دردناک حادثہ آ جاۓ تو وہ اس کے غم کو اپنا غم بنا لیتا ہے. اسی لۓ ماہ محرم میں رسول اکرم صلی الله علیه و آله وسلم و اهل بیت علیهم السلام کی ارواح پاک بیشک غمگین ہوتی ہے اور مومن ہونے کا تقاضہ یہ ہے کہ رسول پاک و اهل بیت علیهم السلام کو پُرْسا و تعزیت پیش کریں.
اور دل سے یہ کہا جاۓ کہ یا رسول الله ہم آپکے غم میں شریک ہیں.
صحبح مسلم میںجو حدیث ثقلین ہے یعنی قرآن اور اهل بیت والی اسکا آخری جملہ یہ ہے کہ رسول اکرم صلی الله علیہ و آله وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں تمہیں ڈراتا ہوں اللّه سے اپنی اهل بیت کے معاملے میں اور یہ جملہ حضور پاک صلی اللّه علیہ و آله وسلم نے تین بار ارشاد فرمایا(حدیث ثقلین رواہ المسلم) .

کیا ہم آنحضرت صلی اللّه علیہ و آله وسلم اور اهل بیت علیهم السلام کےغم کی وجہ سے اپنی خوشیوں کو موقوف و ملتوی (postpone) نہیں کر سکتے؟ جب کہ یہ محبت کا تقاضا ہےاور قرآن کریم کی ذکر کردہ آیت سے ثابت بهی چکا ہے.
میرا یہ سوال اپنے مومن بهائیوں اور بہنوں سے ہے کہ روز قیامت اگر حضورصلی اللّه علیہ وآله وسلم آپ سے سوال کریں گے کہ تم ہمارے غم میں شریک کیوں نہیں ہو سکے تو آپ کیا جواب دینگے. اگر رسول خدا صلی اللّه علیہ و آله وسلم نے یہ پوچھ لیا کہ میلاد کی خوشی میں جلسہ تو خوب کرتے تهے. کیا میرے نواسہ کے غم میں شریک بهی ہوۓ؟ تو اس کا جواب کیا بن پڑیگا؟ اگر رسول خدا صلی اللّه علیہ و آلہ وسلم نے یہ سوال کر لیا کہ دنیا میں تم نے ہمارے غم کی تاریخوں میں خوشیوں کی محفلیں سجائیں اور نئے سال کی مبارک باد دیں, تفریح وغیرہ کا اهتمام کیا . کیا تجهے ہمارا غم یاد نہ رہا تو کیا جواب دیتے بنے گا؟
مومنین تهوڑا ہوش کےناخون لیں…..

یہ بات تو حدیث سے ثابت ہے کہ رسول خدا صلی اللّه علیہ وآله وسلم امت سے اپنی اهل بت علیهم السلام کے بارے میں سوال ضرور کریں گے. کیونکہ چند روایتوں میں یہ الفاظ آۓ ہیں کہ میں دیکهونگا تم میری اهل بیت کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہو. اس روایت میں جو لفظ ہے دیکھوں گا اس سے یہی مطلب نکلتا ہے کہ رسول خدا صلی اللّه علیہ وآله وسلم سوال کریں گے اگر کسی کے پاس همّت ہو جواب دینے کی تو وہ پهر جو چاہے کرے. کربلا میں اسی آیت مودت پر عمل کرتے ہوئے سیده زینب سلام الله علیها نے اپنے بچوں اور دوستان حضرت امام حسین علیه السلام نے انکے غم شریک ہوکر اُنپر آی مصیبت میں اپنی جانوں کی قربانی کا نذرانہ دیا اور مودت کا حق ادا کیا.
ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ دنیاء میں اپنا سب کچھ امام حسین علیہ السلام کے غم میں لُٹا دیں اورانکےغم میں شریک ہوکر آیت قرآنی کے حکم پے عمل کرتے ہوۓ ایمان کا ثبوت دیں اور اجر رسالت ادا کریں.

والسلام علیکم
طالب شفاعت رسول و اهل بیته علیهم السلام
سید فیضان وارثی(غفراللّه لہ)

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s